پہلی دو ترکیائی اسلامی ریاستوں کی تاسیس

قاراخانیوں کا اپنا مذہب بدل کر اسلام قبول کرلینا

۹۳۰ء کی دہائی میں، سامانی شاہی خاندان کا ایک نمایاں رکن، نصر بن منصور اپنے اصل ﴿حلقے﴾ سے منحرف ہو کر مغربی قاراخانیوں میں جا ملا اور اسے کاشغر کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے ضلع ارتق کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ بلاشبہ، وہ قاراخانی صفوں میں اس غرض سے شامل ہونا چاہتا تھا کہ سامانی سلطنت کی مزید توسیع میں معاونت کر سکے۔ ایک راسخ العقیدہ مسلمان کی حیثیت سے، سامانی نے ارتق کے مقام پر ایک مسجد کی تعمیر کا حکم دیا جو تارم طاس کی پہلی مسجد تھی۔ جب مغربی قاراخانی حکمراں، اوغل چاق نے اس علاقے کا دورہ کیا اس وقت نئے مذہب میں اس کی دلچسپی بڑھی اور اس نے ﴿اپنا مذہب ترک کر کے﴾ اسے اختیار کرلیا۔

اسلامی تاریخی تذکروں کے مطابق، ساطوق نے جب اپنے چچا کو بھی مذاہب کے اس رد و بدل کا قائل کرنے کی سعی کی تو ثانی الذکر نے مزاحمت کا راستہ اپنایا جو ایک طویل تصادم پر منتج ہوا۔ بالآخر بھتیجے نے اپنے چچا کا تختہ پلٹ دیا اور ساطوق بغرا خان کا لقب اختیار کرلیا۔ ریاستی مذہب کے طور پر سنی اسلام کے اعلان کے ساتھ، کاشغر کے مغربی قاراخانی سرکاری طور پر مسلمانوں کا عقیدہ اختیار کرنے والے قبیلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ۹۳۰ء کی دہائی کے اواخر کا ہے۔

تبدیلئ مذاہب کے مقاصد کا تجزیہ

اگرچہ ساطوق کے اقدامات کو ممکن ہے کہ مذہبی جوش سے ترغیب ملی ہو، مگر بے شک، اس کا ایک اور سبب بھی تھا اقتدار کی طلب۔ قاراخانیوں پر حکومت کرنے کے مقصد کی تکمیل کے لیے، اس نے خود کو سامانی دراندازوں کے ساتھ متحد کرلیا کیونکہ وہ بھی ایسا ہی مقصد رکھتے تھے۔ اس کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ساطوق کو ایک حکمت عملی اپنانے کی ضرورت تو پڑنی ہی تھی۔

ایرانی سامانیوں نے ترکیائی قبائل کے باشندوں کو غلاموں کے طور پر اپنے ساتھ شامل کر لینے اور ان کے جنگ جوؤں کو اپنی فوج میں جبراً بھرتی کرنے کے عرب عباسیوں کے رواج کی تقلید کی تھی۔ ہر چند کہ سامانی باشندے دوسرے مذاہب کی طرف غیرمعمولی ﴿استشنائی﴾ حد تک رواداری کا رویہ رکھتے تھے، اس کے باوجود ان غلاموں کو اسلام قبول کر لینے کی شرط پر وہ برائے نام آزادی دے دیتے تھے۔ سامانی علاقے میں رہنے والے ایک ہزار سے زائد قاراخانیوں نے اس طرح سے اپنے مذاہب تبدیل کرلیے، اگر ساطوق نے رضاکارانہ طور پر خود یا اس کے متبعین نے اسلام قبول کرلیا ہوتا تو وہ آسانی کے ساتھ سامانیوں کا اعتماد حاصل کرسکتا تھا اور ان کے ساتھ فوجی اتحاد کی تکمیل ہوسکتی تھی۔

مزید برآں، اگر ساطوق کے اندر خود اپنے اور مغربی قاراخانیوں کے زمینی خساروں کا رخ موڑ دینے کا حوصلہ تھا، اور وہ ترکوں کو ایک علاقائی طاقت کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا تھا، تو اس کے اس اقدام کو ایک نئے مذہب کے گرد متحد کرتے ہوئے سراہا بھی جاتا تھا۔ یہ ﴿پچھلے ادوار میں﴾ تبتوں، مشرقی ترکوں اور ویغوروں کی گزشتہ کامرانیوں کا آزمودہ طرز تھا۔ بدھ مت اور شمانیت ﴿شمن پرستی﴾ کا یہ ملاپ اس کے چچا کو تیان شان پربتوں کے آگے ﴿اس پار﴾ اپنی زمینوں پر اقتدار قائم رکھنے کے لیے مافوق الفطرت امداد مہیا کرنے میں ناکام ثابت ہوا تھا، جب کہ اپنی پشت پر اسلام ﴿کے سہارے﴾ کے ساتھ، سامانیوں کو فتح کے حصول میں کامیابی ملی تھی۔ ﴿اس طرح﴾ نئے مذاہب کے انتخاب کا معاملہ ﴿کلی طور پر﴾ واضح تھا۔

اس ﴿رواں﴾ وقت میں، قوچو ویغور بدھ مت کے علم برداروں اور تارم طاس سے گزرنے والی شاہراہ ریشم کی شمالی شاخ کے حاکموں کی حیثیت سے خوب ترقی کر رہے تھے۔ ان کے نسلی ﴿عمزاد﴾ بھائی، زرد اویغور بھی طاقت ور بودھی تھے اور گانسو کوریڈور پر متصرف تھے، جہاں دُن ہوانگ ﴿دونگ خوان﴾ میں جنوبی شاخوں کے اتصال کے بعد، شاہراہ ریشم ہان چین میں داخل ہو جاتی تھی۔ ترکیائی قبائل کو، ویغوروں سے فاصلے پر، اپنے متذکرہ مقصد کے پیچھے یکجا کرنے کی خاطر ساطوق کو ایک مذہب کی ضرورت تھی جو بدھ مت سے صرف مختلف ہی نہ ہو۔ اسے ضرورت ﴿دراصل﴾ ایک ایسے مذہب کی تھی جو اسے اس راستے کی متبادل جنوبی شاخ کو پھر سے کھولنے کا موقع فراہم کرسکے اور تجارت پر اختیار کا مرکز مشرقی سے مغربی قطعے ﴿سیکٹر﴾ کی طرف جا سکے۔

چونکہ سغد میں شاہراہ ریشم کا مغربی منتہا ﴿آخری اسٹیشن﴾ اسلامی ہاتھوں میں تھا، اس لیے ساطوق کا منصوبہ سغد کو فتح کرنا رہا ہوگا۔ ایسی صورت میں، کاشغر سے مشرق کی سمت سفر کرتے ہوئے، وہ اس راستے کی جنوبی شاخ کے ساتھ ساتھ گانسو کوریڈور سے گزرتے وقت، ایک ثقافتی اتحاد پیدا کرنے کے لیے اسلام کا استعمال کر سکتا تھا، اس طرح کہ وہ خود ہی محافظ اور فرماں روا بن بیٹھتا۔ عین اسی طرح جیسے ویغوروں نے بدھ مت کے پرچم کا استعمال شاہراہ ریشم کی شمالی تارم شاخ پر قبضے اور اپنی گرفت کو مستحکم کرنے کے لیے کیا تھا، ساطوق کو بظاہر اسلام کے پرچم کے تلے، جنوبی شاخ کے ساتھ، قاراخانیوں کی خاطر یہی کچھ انجام دینے کی امید تھی۔ بہر حال، اپنے پیچھے ترکیائی عوام کو جمع کرنے کے لیے، پہلے اسے ترکوں کے مقدس پربت کی ضرورت تھی تا کہ وہ مافوق فطری فائدے کا رخ اپنی طرف موڑ سکے۔

قاراخانی اسلامی ریاست کا استحکام

ساطوق بغرا خان نے، ۹۴۲ء میں، سامانی اتحادیوں کی مدد سے مشرقی قاراخانیوں پر فتح پانے اور بالاساغون پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ناکام ٹھہرنے کے بعد اس نے اب اپنا رخ بجائے خود سامانیوں کی جانب موڑ دیا اور اس طرح مقامی مخالف گروہوں کو سغد میں ان کے ﴿سامانیوں کے﴾ اقتدار کی جڑیں کھودنے میں مدد دی۔ یہ اس امر کا زائد ثبوت ہے کہ اپنے ساتھی مسلمانوں کے لیے اگر اس کے اندر مذہبی قرابت کا کوئی احساس رہا بھی ہوگا تو اس پر اس کے سیاسی مقاصد نے غلبہ حاصل کر لیا تھا۔

اگلی دہائیوں میں ساطوق کے ورثا نے نہ صرف یہ کہ بالاساغون پر فتح پائی اور قاراخانیوں کو دوبارہ متحد کیا، بلکہ انہوں نے سامانیوں سے سمرقند اور بخارا بھی چھین لیا۔ ترکوں کے مقدس پربت کے فرماروا اور محافظ کی حیثیت سے، صدی کے اختتام تک انہوں نے قاغان کا لقب اختیار کر لیا۔ اب انہوں نے اپنی توجہ اپنے خاص نصب العین، شاہراہ ریشم کی جنوبی تارم شاخ کی جانب مبذول کی۔

غزنویوں کا عروج اور سامانیوں کا زوال

سامانیوں کے زیر اقتدار ایک غلام ترکیائی ﴿ترکی﴾ فوجی سردار، الپتگین جس نے تبدیلئ مذہب کے ساتھ سنی اسلام قبول کر کے برائے نام آزادی حاصل کی تھی، ۹۶۲ء میں موجودہ دور کے جنوب مشرقی افغانستان کے غزنہ میں اپنے مالکوں سے اقتدار چھین لیا۔ اس کے داماد سبکتگین ﴿دور:۹۷۶۔۹۹۷ء) نے، وہاں خود مختارغزنوی بادشاہت (۹۷۶۔۲۲۸۶ء) قائم کی اور خود کو اب صرف دربار عباسیہ کا مطیع باقی رہنے دیا۔ وسطی ایشیا میں یہ اس کی دوسری ترکیائی ریاست تھی۔ اس نے ہندو شاہی حکمراں جے پال ﴿دور:۹۶۴۔۱۰۰۱ء) سے کابل کی وادی جیت لی اور ہندو شاہیوں کو واپس گندھارا اور اڈیانہ مار بھگایا اور اپنی حکومت اتنی پھیلائی کہ اسے شمال مشرقی ایران تک پہنچا دیا۔ اس نے مکران ﴿بلوچستان﴾ سے سندھ پر بھی دھاوا بولا اور اس کے کچھ مغربی حصے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔

فارسی سامانیوں کی طاقت میں مزید انحطاط آیا اور بالآخر ۹۹۹ء میں انہیں تخت سے اتار دیا گیا۔ ان کی ملازمت میں شامل ترکیائی غلام فوجیوں نے، اپنے نسلی طریقوں کی ترجیح کے مطابق غزنویوں اور قاراخانیوں کو انہیں ﴿سامانیوں کو﴾ معزول کرنے میں مدد دی۔ سبکتگین کے بیٹے اور جانشین، محمود غزنوی ﴿دور: ۹۹۸۔۱۰۳۰ء) نے قاراخانی قاغان کے ساتھ سغد اور باختر میں سامانیوں کی جو زمینیں بچ رہی تھیں، انہیں تقسیم کر دیا۔ اس نے خوارزم پر بھی قبضہ کر لیا جو جدید دور کے شمال مغربی ترکمانستان اور مغربی ازبکستان اور ایران کے بیشتر حصے سے مطابقت رکھتا ہے۔

پچیسواں نقشہ: قاراخانیوں اور‌غزونویوں کی ابتدائی سلطنتں،دسویں صدی کےوسط میں
پچیسواں نقشہ: قاراخانیوں اور‌غزونویوں کی ابتدائی سلطنتں،دسویں صدی کےوسط میں

ایک ترک ہونے کے باوجود محمود ایران کی ساسانی سلطنت کا ثنا خواں تھا اور اپنے سے پہلے کے سامانیوں کی طرح اس کی ثقافتی روایت کی سرپرستی کرتا تھا۔ اس نے فارسی علما اور اہل قلم کو غزنہ طلب کیا، مثال کے طور پر، خوارزم سے، ابوریحان محمد ابن احمد البیرونی (۹۷۳۔۱۰۴۸ء) کو درباری نجومی کی حیثیت سے اپنی خدمت پر مامور کیا۔ اس نے جہاں کہیں بھی فتح حاصل کی، فارسی زبان کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی اور بلاشبہ، وہ سیاروں اور راس منڈل ﴿ستاروں﴾ کی علامات کے ایرانی، ساسانی موتیف جو اس کے والد نے کابل میں سوبہار خانقاہ کی دیواروں پر ﴿منقش﴾ دیکھے تھے، انہیں اس نے پسند کیا ہوتا۔

اس طرح، اگرچہ اسلامی ترکیائی مملکتیں اب تاریخ میں پہلی بار سغد اور باختر پر قابض تھیں، مگر ہر ایک کا آہنگ مختلف تھا۔ قاراخانی ﴿لوگ﴾ ترکیائی روایت کے علم بردار تھے، جب کہ غزنوی ﴿لوگ﴾ ایرانی ثقافت کے حمایتی تھے۔ اول الذکر کے قائدین نے رضاکارانہ طور پر اپنا مذہب ترک کرکے اسلام قبول کیا تھا، بیشتر اقتصادی اور سیاسی فائدے کے پیش نظر، جب کہ ثانی الذکر ﴿غزنوی﴾ سے متعلق لوگوں نے اس لیے ﴿مذہب بدلا تھا﴾ کہ ایک غیر ملکی مسلم حکومت کے فوجی سرداروں کی غلامی سے نسبتاً آزادی حاصل کرسکیں۔ ہر ایک نے اپنی فوجی توسیع کے سلسلے میں مغربی ترکستان سے آگے تک اسلام کی اشاعت کی قاراخانیوں نے مشرقی ترکستان کے حصوں تک، جب کہ غزنویوں نے شمالی ہندوستان تک۔ اب ہم ان کے ﴿حقیقی﴾ مقاصد کا جائزہ لیں گے تا کہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کیا ان کی کوششیں دوسرے مذاہب کے خلاف واقعتاً ایک مقدس جنگ ﴿جہاد﴾ کا حصہ تھیں یا یہ کہ صرف برائے نام تو جہاد تھیں مگر دراصل اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ کوششیں بیشتر سیاسی اور اقتصادی تھیں۔

Top