درست نظریہ اور نیت

امتیازی آگہی سے مراد صحیح اور غلط، فائدہ مند اور نقصان دہ کے درمیان تمیز کرنا ہے۔ اس کے لئیے ہمارے پاس آٹھ منزلہ راہ کے آخری دو عناصر ہیں: درست نظریہ اور درست نیت (صحیح متحرک خیال)۔ 

درست نظریہ کا مطلب ہے کہ ہم صحیح اور غلط، سود مند اور نقصان دہ کے درمیان درست تمیز کرتے ہوۓ کسے حقیقت مانتے ہیں۔ صحیح تحریک من کی وہ تعمیری حالت ہے جو ہمیں اس نتیجہ پر پہنچاتی ہے۔

نظریہ

ہماری امتیازی آگہی درست یا غلط ہو سکتی ہے: 

  • ہم صحیح تمیز کرتے ہیں اور اسے سچ مانتے ہیں
  • ہم غلط تمیز کرتے ہیں اور اسے سچ مانتے ہیں۔

غلط نظریہ سے مراد وہ سوچ ہے جب ہم نے غلط تمیز کی اور اسے سچ مانا، اور صحیح نظریہ وہ ہے جب ہم نے درست تمیز کی اور اسے سچ سمجھا۔

غلط نظریہ

غلط نظریات کی مثال یہ سوچ اور تیقّن ہے کہ ہمارے اعمال کا، تعمیری یا ضرر رساں ہونے کے حوالے سے، کوئی اخلاقی پہلو نہیں ہے، اور یہ ماننا کہ ان کا ہمارے اوپر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ اس ذہنیت کا آئینہ ہے جسے ہم "مجھے کیا" کہتے ہیں اور جس کے بیشتر لوگ آج کل حامل ہیں۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا؛ کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو بھی ہے مجھے کیا۔ میں ایسا کروں یا نہ کروں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ یہ غلط ہے۔ آپ کے تمباکو پینے یا نہ پینے سے ضرور فرق پڑتا ہے۔ اگر آپ تمباکو نوشی کریں گے تو آپ کی صحت پر برا اثر پڑے گا۔  

ایک اور غلط سوچ یہ ماننا ہے کہ ہم کسی طرح بھی اپنی حالت کو بہتر نہیں بنا سکتے اور نہ ہی اپنی کمزوریوں پر قابو پا سکتے ہیں، لہٰذا اس کی فکر ہی بیکار ہے۔ یہ غلط ہے، کیونکہ چیزیں جامد نہیں ہیں اور نہ ہی پتھر پر لکیر ہیں۔ بعض کا یہ کہنا ہے کہ غیروں سے ہمدردی اور ان کی مدد کرنا بیکار بات ہے، اور یہ کہ ہمیں دوسروں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئیے اور جس قدر ہو سکے منافع کمانا چاہئیے، کیونکہ اس سے مسرت ملے گی۔ یہ غلط ہے، کیونکہ اس سے خوشی نہیں ملتی۔ اس سے دوسروں کے خلاف ہمارا مال چرانے پر عناد، حسد اور پریشانیاں جنم لیتی ہیں۔  

غلط امتیاز کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً اس کا تعلق دکھ اور اس کی وجوہات سے ہو سکتا ہے۔ اپنے بچے کی سکول میں خراب کار کردگی کے بارے میں سوچئیے۔ غلط تفریق یہ فکر ہو گی کہ "میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ یہ میرا بطور ماں/باپ کے قصور ہے۔" یہ علت و معلول کے حوالے سے غلط تمیز ہے۔ حالات کسی ایک سبب کے باعث پیدا نہیں ہوتے۔ حالات کا وجود ایک نہیں بلکہ ان گنت وجوہات اور معاملات کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ ہمارا اس میں کچھ عمل دخل ہو گا مگر ہم اکیلے ہی مسٔلے کا سبب نہیں ہیں۔ اور بعض اوقات ہمارا ذرہ برابر بھی تعلق نہیں ہوتا – ہم سرا سر غلطی پر ہیں۔ مجھے ایک نہائت پریشان شخص کا خیال آ رہا ہے: وہ فٹ بال کا کھیل دیکھنے گیا اور اس کی ٹیم ہار گئی۔ اس نے سوچا کہ اس کی ٹیم کے ہارنے کا سبب اس کی وہاں موجودگی تھی، اس نے اپنے آپ کو منحوس گردانا: " میری ٹیم کی ہار کا قصور وار میں ہوں۔" یہ احمقانہ بات ہے۔ یہ علت و معلول کا غلط تصور ہے۔  

درست نظریہ

من کی صحیح آگہی نہائت اہم ہے، تو اس کے لئیے ہمیں حقیقت، علت و معلول کی حقیقت، وغیرہ وغیرہ کو سمجھنا چاہئیے۔ موسم کی مانند جو کہ بے شمار اسباب اور حالات سے متاثر ہوتا ہے، ہمیں بھی اپنے بارے میں خدا ہونے کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئیے، جس میں ہم کوئی ایک کرتب کریں اور اس سے ہمارے بچے کے سکول کی خراب کارکردگی کے سارے مسٔلے حل ہو جائِں۔ معاملات ایسے نہیں نمٹاۓ جاتے۔ 

امتیازی آگہی کے لئیے عام سوجھ بوجھ اور عقل درکار ہے، اور درست امتیاز کے لئیے متوجہ رہنا ضروری ہے۔ اس کے لئیے ضبط نفس چاہئیے۔ تو یوں یہ سب کچھ تشکیل پاتا ہے۔

نیت (متحرک خیال)

ایک بار جب ہم اس بات کا تعین کر لیں کہ کونسی چیز فائدہ مند ہے اور کونسی نقصان دہ، حقیقت کیا ہے اور کیا نہیں ہے، تو ہماری نیت یا ہمارے متحرک خیال کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ ہمارا امتیاز کس طرح ہمارے قول، فعل اور ہمارے چیزوں کے بارے میں برتاؤ کو متاثر کرتا ہے اور اسے تشکیل دیتا ہے۔ اگر ہم غلط انداز سے تمیز کریں، تو اس سے ایک غلط متحرک خیال پیدا ہو گا، اور جب درست انداز سے کریں تو صحیح متحرک خیال پیدا ہو گا۔

غلط نیت

نیت یا متحرک خیال  کی زد میں آنے والی تین چیزیں ہیں:

حِسّی آرزو

کوئی محرک جس کی بنیاد حسی خواہش پر ہو غلط محرک ہو گا – حسی جذبات کی تشفی کرنے والی اشیا خواہ وہ خوبصورت چیزیں ہوں، موسیقی، اچھا کھانا، عمدہ لباس وغیرہ، کی زبردست خواہش اور ان سے لگاؤ۔ ہمارا محرک خیال جو ہمیں اپنی خواہشات کا تعاقب کرنے کی ترغیب دلاۓ وہ اس غلط تفریق پر مبنی ہو گا کہ یہ اشیاء نہائت اہم ہیں۔ اگر ہمارا امتیاز درست ہے تو ہمیں طمانیت ملے گی جو کہ ایک ایسے من کی عکاسی کرتا ہے جو حسی اشیاء سے لگاؤ سے آزاد ہے۔
 
غلط امتیاز کی ایک مثال یوں ہو گی کہ ہم اس بات کو حد سے زیادہ اہمیت دیں کہ ہم شام کا کھانا کہاں کھائں گے اور اس میں کیا کھائں گے۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے صحیح جگہ اور صحیح پکوان کا انتخاب کر لیا تو اس سے ہمیں حقیقی خوشی ملے گی۔ اگر آپ درست پہچان کر سکیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ کچھ خاص اہم بات نہیں، اور رات کو کیا کھانا ہے یا ٹی وی پر کونسا پروگرام چل رہا ہے سے زیادہ زندگی میں اہم اور بےشمار چیزیں ہیں۔ اس سے من کو سکون اور توازن ملتا ہے۔  

کینہ

دوسرا غلط محرک یا ترغیب کینہ پروری یعنی کسی کو تکلیف یا نقصان پہنچانا ہے۔ جیسے اگر کوئی کسی غلطی کا مرتکب ہو اور آپ غصے میں آکر اس کو برا بھلا  اور قابل سرزنش گردانیں؛ تو یہ غلط تحریک ہو گی۔
 
ہم غلط تفریق کرتے ہیں جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ لوگ کبھی غلطی نہیں کرتے جو کہ بیکار بات ہے۔ ہم اس قدر غصہ میں آ سکتے ہیں کہ ہم کسی کو مارنے پر اتر آئیں، جب کہ اگر ہمارا امتیاز درست ہو تو ہم ان کے لئیے بھلائی سوچیں گے۔ یہ دوسروں کی مدد کرنے اور انہیں خوش کرنے کی تمنا ہے جس میں طاقت اور عفو شامل ہیں۔ اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو آپ اسے ایک قدرتی امر جان کر اس کے خلاف بغض نہیں رکھتے۔ 

بےرحمی

غلط ترغیب کی تیسری قسم ایسا من ہے جو بےرحمی سے بھرا ہوا ہے، جس کے کئی پہلو ہیں: 

  • شرانگیزی – دردمندی کی شدید کمی جس میں ہم دوسروں کو دکھی اور ناخوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ مثلاً، ہم کسی دوسری فٹ بال ٹیم کے پروانوں سے نفرت کرتے ہیں، انہیں نہائت برا سمجھتے ہیں اور ان سے لڑنا چاہتے ہیں محض اس لئیے کہ وہ کسی دوسری ٹیم کے مداح ہیں۔ 
  • اپنی ذات سے تنف٘ر – اپنی ذات سے پیار کی شدید کمی جہاں ہم اپنی مسرت کو خود ہی برباد کرتے ہیں اس خیال سے کہ ہم ایک برے انسان ہیں اور ہمیں خوش ہونے کا کوئی حق نہیں۔ ہم اس کا اظہار برے تعلقات، بری عادات، بسیار خوری وغیرہ کے ذریعہ کرتے ہیں۔
  • کج رو مسرت – یہ وہ حالت ہے جس میں ہم کسی کو تکلیف میں دیکھ کر، یا اس کے بارے میں سن کر، واقعتاً خوش ہوتے ہیں۔ آپ کسی شخص کو برا سمجھتے ہیں اور یہ کہ جو اس کے ساتھ ہو رہا ہے وہ اس کا سزاوار ہے، جیسے کوئی سیاستدان جسے آپ پسند نہیں کرتے انتخابات میں ہار جاتا ہے۔ یہاں ہم اس بات کی غلط تمیز کرتے ہیں کہ بعض لوگ برے ہیں اور سزا کے لائق ہیں یا یہ کہ ان کے حالات کا ناموافق ہونا اچھی بات ہے، جبکہ بعض اوروں کے لئیے، خصوصاً ہمارے لئیے، ہر کام سیدھا ہونا چاہئیے۔

درست نیت 

درست نیت جس کی بنیاد صحیح امتیاز ہو پُر امن اور ہمدرد رویہ کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ اُپ ایک ایسی من کی حالت رکھتے ہیں جس میں آپ دکھی لوگوں کو تکلیف پہنچانے یا انہیں پریشان کرنے سے گریزاں ہیں۔ جب ان کے حالات خراب ہوتے ہیں تو ہم خوش نہیں ہوتے۔ یہاں درد مندی کا جذبہ بھی کارفرما ہے، جس میں ہم دوسروں کو دکھ اور اس کے اسباب سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی دکھ اٹھاتا ہے، مگر کوئی دکھی ہونا نہیں چاہتا، اور نہ ہی کوئی اس کا سزاوار ہے۔ اگر لوگ غلطی کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فطری طور پر برے ہیں بلکہ یہ کہ وہ مغالطے کا شکار ہیں۔ درست امتیاز اور صحیح نیت سے ہم درست گفتار اور درست عمل کو اپناتے ہیں۔

آٹھ عناصر کا باہمی اختلاط

طریقت کے آٹھوں عناصر میں مطابقت پائی جاتی ہے: 

  • درست نظریہ اور نیت پاٹھ کے لئِے مناسب بنیاد فراہم کرتے ہیں، اور درست گفتار، درست فعل اور حلال رزق کی جانب راہنمائی کرتے ہیں۔ ہمارے رویہ کے دوسروں پر اثرات کو مد نظر رکھ کر ہم اچھے برے کی تمیز کرتے ہیں، اور دوسروں کی مدد، نہ کہ انہیں نقصان پہنچانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
  • اس بنیاد پر ہم اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، نیک صفات پیدا کرتے ہیں، اور جسم اور جذبات وغیرہ کے متعلق فضول خیالات کی بنا پر بھٹک نہیں جاتے۔ ہم ارتکاز کے ذریعہ اپنی توجہ اس چیز پر قائم رکھتے ہیں جو سود مند ہے، اور یوں ہمارا عزم مضبوط ہوتا ہے۔ اس طرح یہ سب آپس میں ہم آہنگ ہیں۔

اگرچہ ہم تین مشقوں اور آٹھ منزلہ راہ کو ترتیب وار، یکے بعد دیگرے پیش کر سکتے تھے، مگر حتمی مدعا ان سب کو ایک ضم شدہ اکائی کے عمل میں لانا ہے۔

خلاصہ

صبح بیدار ہونے سے لیکر رات کو سونے تک ہماری حسیّات تفن٘ن طبع کی پیاسی رہتی ہیں۔ ہماری آنکھیں خوبصورت اشکال، ہمارے کان مسکن اصوات، اور ہمارے دہن لذیذ اشیا کے متلاشی رہتے ہیں۔ اگرچہ خوش کن محسوسات کی خواہش کوئی بری بات نہیں لیکن اگر ہماری زندگی کا مدعا یہی ہے تو ہم کبھی بھی مطمٔن نہیں ہوں گے، اور ارتکاز کا ایک ذرہ بھی استوار نہیں کر سکیں گے۔
 

اخلاقی ضبط نفس، ارتکاز اور آگہی کی تین مشقیں ہمیں ہر لمحہ بھرپور طریقہ سے گزارنے کے قابل کرتی ہیں۔ آٹھ منزلہ راہ نہ صرف ہمیں اپنے لئیے مسرت تلاش کرنے بلکہ سب کے لئیے سود مند راہ کی تلاش کی اہلیت بخشتی ہے۔ جب ہم تجزیہ کر کے یہ جان لیتے ہیں کہ کیوں درست نظریات صحیح ہیں اور غلط نظریات صحیح نہیں ہیں، اور کیوں اچھے اعمال فائدہ مند ہیں اور برے اعمال نقصان دہ ہیں (وغیرہ وغیرہ)، اور اپنا رویہ اس کے مطابق ڈھالتے ہیں، تو ہماری زندگی خود بخود بہتر ہو جاتی ہے۔ ہم ایک ایسی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں جسے ہم "ایک بھرپور بودھی زندگی" کہہ سکتے ہیں۔

Top