You are in the archive Please visit our new homepage

ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور بون کی تاریخ > بدھ مت اور بون کی پانچ تبتی روایات کی تعارفی تاریخ

بدھ مت اور بون کی
پانچ تبتی روایات کی تعارفی تاریخ

الیکزینڈر برزن
برلن، جرمنی، ۱۰ جنوری، ۲۰۰۰ء

آج شام مجھے بدھ مت اور بون کی پانچ تبتی روایات کی تاریخ پر گفتگو کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان میں سے چار تو بدھ مت کی روایتیں ہیں: نیئنگما، کاگیو، ساکیہ اورگیلوگ، جبکہ بدھ مت کے پہلے سے موجود بون کی تبتی روایت پانچواں سلسلہ ہے۔ ہم اکثر ان ناموں کے بعد حرف "پا " کی آواز سنتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے اس روایت یا سلسلے کا پیروکار مثلاً گیلوگ پا کا مطلب ہے ایسا فرد جو گیلوگ روایت کی پیروی کرتا ہو۔

بدھ مت کا تعارف از شہنشاہ سونگ تسن گامپو

تاریخ کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں پانچویں صدی عیسوی تک پیچھے جانے کی ضرورت ہے۔ اس صدی کے آغاز میں وسطی تبت کے بادشاہ سونگ تسن گامپو نے ژانگ ژنگ کی مغربی تبتی سلطنت کو فتح کیا اور پہلی متحدہ تبتی سلطنت قائم کی۔ اس زمانے میں رواج تھا کہ بادشاہ اپنی مملکت کو متحد اور محفوظ رکھنے کے لیے قریبی ملکوں کی شہزادیوں سے شادی کر لیتے تھے اس طرح ہمسایہ بادشاہ ایسے ملکوں پر حملے نہیں کرتے تھے جہاں ان کی بیٹیاں زندگی بسر کر رہی ہوں۔ شہنشاہ سونگ تسن گامپو نے چین، نیپال، اور ژانگ ژنگ کی شہزادیوں سے شادی کر لی۔ یہ شہزادیاں اپنےساتھ اپنے آبائی ملکوں کے مذہب بھی لے آئیں۔ چین اور نیپال کی شہزادیاں اپنے ساتھ بدھ مت کی کتابیں اور ژانگ ژنگ کی شہزادی اپنے بون عقائد لے کر آئیں۔ بون ژانگ ژنگ کا مقامی مذہب تھا۔

اگر ہم مغربی تاریخی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو اس ابتدائی دور پر بدھ مت کا اثر زیادہ نہیں تھا۔ اہم پیش رفت یہ تھی کہ اس کے پہلے شہنشاہ نے اپنے علاقے میں بدھ مت کے تیرہ مندر تعمیر کیے۔ تبت کا نقشہ ایسا ہے گویا زمین پر کوئی بھتنی لیٹی ہوئی ہو۔ اس بھتنی کے جسم پر آکیو پنکچر کے نشانات کی طرح ۱۳ نشانات لگا کر شہنشاہ نے ان مقامات پر مندر تعیمر کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ تبت کی اس بھتنی کی طاقت کو زیر اور قابومیں کر سکے۔ یوں بدھ مت "برف کی سرزمین" میں وارد ہوا۔

اپنی مملکت کو مزید مضبوط کر نے کے لیے سونگ تسن گامپو کی خواہش تھی کہ تبتی زبان لکھنے کے لیے حروف تہجی ہونے چاہییں۔ اس لیے اس نے اپنے وزیر  تنمی سمبھوتا کو بھیجا کہ وہ ختن سے حروف تہجی لے کر آئے۔ یہ حروف تہجی ھندوستان سے نہیں لیے گئے جیسا کہ تبت کی روایتی تاریخوں میں بیان کیا گیا ہے۔ وسط ایشیا میں واقع ختں مغربی تبت کے شمال کی بودھی مملکت تھی۔ ختن کے لیے جس راستے سے وزیر روانہ ہوا وہ کشمیر سے گزرتا تھا۔ جب وہ وھاں پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ عالم جس سے ملنے کے لیے وہ ختن آیا ہے اس وقت کشمیر میں ہے۔ اس طرح یہ کہانی مشہور ہوئی کہ تبت کا انداز تحریر کشمیر سے آیا ہے۔ املا کا تجزیہ بتاتا ہے کہ تبت کے حروف تہجی ان خصوصیات کے حامل ہیں جو ختن اندازِ خط کے ساتھ مخصوص ہیں۔ بعد ازاں ہندوستانی بدھ مت کی بہ نسبت چین اور ختن کے ساتھ بدھ مت کے رابطے زیادہ رہے۔ تاہم اس ابتدائی زمانے میں تبت میں بدھ مت کی بہ نسبت بون مذہب زیادہ مستحکم رہا۔ ریاستی آداب و رسوم بون مذہب کی تعلیمات سے ہی لیے گئے تھے۔

منتقلی کا قدیم زمانہ (نیئنگما)

آٹھویں صدی کے درمیان میں ایک اور عظیم شہنشاہ ٹری سونگ دتسن تخت پر بیٹھا۔ اسے تبت میں مستقبل میں ہونے والی بودھی تعلیمات کے بارے میں پیشین گوئی ملی اور اس پیشین گوئی کے مطابق اس نے ہندوستان سے بدھ مت کے ایک بڑے استاد شنترکشت کو بلایا۔ ہندوستان سے آنے والے راہب کی آمد کے فوراً بعد وھاں چیچک کی وبا پھوٹ پڑی۔ بادشاہ کے وزراء تبت میں ہر طرح کے بیرونی اثر و رسوخ کے خلاف تھے۔ انہوں نے اس چیچک کا الزام شنترکشت پر لگا کر اسے تبت سے نکال دیا۔ تبت چھوڑنے سے پہلے شنترکشت نے شہنشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ گرو رنپوچے پدم سمبھاوا کو دعوت دے کہ وہ آ کر ان برے حالات کو بہتر بنائے اور مسائل کو حل کرے۔ ٹری سونگ دتسن نے اس مشورے پر عمل کیا اور اس کی دعوت پر پدم سمبھاوا تشریف لائے اور تبت کو ان مسائل سے نجات دلائی۔ بادشاہ نے پھر ش