درد مندی کیسے استوار کی جاۓ

ہم سب درد مندی کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں جس میں ہم دوسروں کو دکھ اور اس کے اسباب سے آزاد دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ ہم اس صلاحیت کو یوں استوار کر سکتے ہیں کہ جس سے ہمیں اور دوسروں کو بے حد فائدہ پہنچے۔

اس سلسلہ میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم اپنی درد مندی کی حدود مقرر کریں ان لوگوں تک جن سے ہمیں رو بہ رو یا آن لائن واسطہ پڑتا ہے، جس میں چند جانور بھی شامل کئیے جا سکتے ہیں۔ دھیرے دھیرے، ہم اپنے جذبۂ درد مندی میں سب کو شامل کر لیں گے: وہ جو ہمیں پسند ہیں، اجنبی لوگ، اور حتیٰ کہ وہ بھی جنہیں ہم بالکل اچھا نہیں جانتے۔ ہم یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھتے ہیں جب تک کہ ساری دنیا ہمارے دامنِ درد مندی میں نہ آجاۓ - جی ہاں، حتیٰ کہ لال بیگ بھی!

درد مندی کے دو پہلو ہیں ایک جذباتی دوسرا تعقّلی۔ جذباتی سطح پر، ہمیں کرہ ارض پر تمام مخلوق کی باہمی حاجتمندی کو سمجھنا چاہئیے۔ عالمی معیشت اور ہر وہ شے جس سے ہم محظوظ ہوتے ہیں – خوراک، لباس، آلات تفنن، گھر، گاڑیاں وغیرہ یہ سب دوسرے لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان لوگوں کے بغیر نہ سڑکیں ہوتیں اور نہ ہی بجلی، ایندھن، پانی یا خوراک۔ محض اس بات سے ہی ہمارے اندر تشکر پیدا ہوتا ہے، ایک ایسی من کی خوش کن حالت جس سے "دل کو گرمانے والا پیار" جنم لیتا ہے۔ ہم اس احساس تشکر پر جس قدر زیادہ غور کریں اتنا ہی زیادہ ہم دوسروں سے پیار کریں گے، ایک ممتا کی مانند جس کے اکلوتے بچے کو کوئی شدید تکلیف پہنچے۔ ہم دوسروں کی بد نصیبی پر غمگین ہوتے ہیں، مگر ہم ان پر ترس نہیں کھاتے۔ ہم ان سے تعلق خاطری قائم کرتے ہیں جیسے کہ یہ ہمارا ہی مسٔلہ ہو۔

ہماری درد مندی کو سب کے ساتھ برابر بانٹنے کی تعقلی وجہ نہائت واضح ہے، مگر بیشتر لوگ اسے زیر خاطر نہیں لاتے: خوشی میں شرکت کے معاملہ میں ہم سب برابر ہیں، اور عدم مسرت اورآزار سے نجات کے معاملہ میں بھی ہم سب یکساں ہیں۔ یہ دو حقائق ہمیشہ مسلم ہیں خواہ کوئی ہم سے دور ہو یا قریب، اور خواہ وہ کچھ ہی کرتے ہوں۔ اگر کوئی شخص شدید ضرر رساں حرکت کر رہا ہو، تو وہ یہ کام لا علمی، الجھن یا خود فریبی کی بنا پر کرتا ہے اس غلط فہمی کے تحت کہ اس سے انہیں یا سماج کو فائدہ ہو گا۔ یہ اس لئیے نہیں کہ وہ فطری طور پر برا انسان ہے؛ کوئی شخص بھی فطرتاً "بد" نہیں ہوتا۔ اس لئیے یہ معقول اور مناسب امر ہوگا اگر ہم ان کے لئیے جذبۂ درد مندی رکھیں، کیونکہ جس طرح ہم دکھ جھیلنا نہیں چاہتے، تو وہ بھی یہ نہیں چاہتے۔

درد مندی پر مراقبہ

درد مندی پیدا کرنے کی تربیت سے یہ جذبہ درجہ بہ درجہ بلحاظِ خصوصیت استوار ہوتا ہے۔ پہلے ہم ان کے آزار پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو ہمیں پسند ہیں، پھر وہ جن کے بارے میں ہم غیر جانبدار ہیں، اور پھر وہ جو ہمیں ناپسند ہیں۔ آخر کار ہم سب کے لئیے، سب جگہ دکھ جھیلنے والوں پر برابر کی توجہ دیتے ہیں۔

ہر مرحلہ پر ہم تین جذبات کو استوار کرتے ہیں:

  • کیا ہی عمدہ ہو اگر وہ دکھ درد اور اس کے اسباب سے نجات رسیدہ ہوں۔
  • کاش کہ وہ آزاد ہوں؛ میری تمنا ہے کہ وہ مکش پائیں۔
  • کاش کہ میں انہیں نجات دلوانے میں مدد کر سکوں۔

لہٰذا، درد مندی دوسروں کا مسائل سے چھٹکارا پانے اورعدم مسرت سے نجات پانے میں ان کی مدد کی آرزو پر مشتمل ہے۔ یہ معتبر امر ہے کہ مسائل کا حل حقیقت پسند طریقوں پر عمل سے ممکن ہے، یعنی کہ کوئی صورت حال بھی مایوس کن نہیں۔  پس بدھ مت میں درد مندی من کی ایک ایسی مستعد کیفیت ہے جو دوسروں کی بھلائی کی خاطر ہر دم عملی قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ 

ویڈیو: میتھیو رکارڈ ـ «الہامی پیغام»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔
Top