غصہ سے نبرد آزمائی کے ۸ بودھی گر

ہم ایک ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں ہمیں غصہ کا اظہار کرنا بتایا جاتا ہے، مگر مہاتما بدھ اس سے متفق نہ ہو گا۔ غصہ کا اظہار کرنے سے اس رویہ کو مستقبل میں دوہرانا آسان ہو جاتا ہے، جس سے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ مہاتما بدھ کی نصیحت یہ ہے کہ نہ تو اپنے جذبات کو دبا کر رکھو اور نہ ہی انہیں ابل پڑنے دو، بلکہ غصہ کے پسِ پشت متناقص فکر کو سمجھنے کے لئیے اس کا تجزیہ کرو۔


بدھ مت کے پیرو کار پیار، درد مندی اور برداشت کا جس قدر چاہیں ذکر کریں، لیکن جب، حتیٰ کہ دلائی لاما جیسے مہان گورو بھی کبھی کبھار غصہ میں آجانے کو تسلیم کرتے ہوں، تو کیا ہم جیسوں کے لئیے کوئی امید ہو سکتی ہے؟ سائنس شائد غصہ کو بالکل جائز قرار دے، ماہرین نفسیات بھی ہمیں اپنے غصے کا اظہار کرنے کی صلاح دیتے ہیں، اور بعض ادیان بھی غصہ کو اخلاقی طور پر درست قرار دیں۔ مگر بدھ مت کا یہ کہنا ہے کہ غصہ ہمیشہ بری شے ہے۔ 

آٹھویں صدی کے بدھ عالم شانتی دیو نے غصہ کو ایک نہائت منفی قوت قرار دیا ہے، ایک ایسی قوت جو ہماری تمام نیکیوں کو جنہیں ہم نے نہائت محنت سے پیدا کیا ہے برباد کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس پر ذرا غور کیجئیے۔ غصے کا ایک لمحہ مع ایک بندوق کےکسی کے مستقبل کو ایک آزاد زندگی سے ایک قید کی زندگی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ ایک روز مرہ کی مثال یوں ہو گی کہ غصہ  دوستی اور بھروسے کو جسے استوار کرنے میں سالہا سال لگے برباد کر کے رکھ  دیتا ہے۔ بہر حال، غصہ دنیا کے تمام بم، توپیں اور تلواروں سے زیادہ خطرناک شے ہے۔

ویڈیو: چودھویں دلائی لاما ـ «غصہ سے نبرد آزمائی»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

ہم جانتے ہیں کہ غصہ من کی کوئی خوشگوار حالت نہیں ہے، مگر ہم اس کا کیا علاج کر سکتے ہیں؟ بدھ مت ہمیں من کو سِدھانے کے کئی طریقے بتاتا ہے۔ ہوشیار رہئیے – یہ کوئی جادو کی گولی نہیں ہے! مگر ہمارے غصہ سے نبرد آزمائی کے آٹھ طریقے حسبِ ذیل ہیں:

(۱) یہی زندگی ہے: سمسار

مہاتما بدھ کا ۲،۵۰۰ سال پرانا پہلا سبق سیدھا سادہ ہے: زندگی غیر اطمینان بخش ہے۔ ذرا سوچئیے تو؟ ہماری زندگی کبھی بھی تسلی بخش نہیں ہو گی۔

ہمارا جنم ہوتا ہے، ہم مر جاتے ہیں۔ ان کے بیچ اچھے برے وقت آئیں گے، اور ایسے لمحات بھی جنہیں ہم شائد محسوس بھی نہ کریں: اس کبھی ختم نہ ہونے والے چکر کو بدھ مت "سمسار" کہتا ہے۔ جب ہم اس دنیا میں آۓ، تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ زندگی آسان اور متواتر موج میلہ ہوگی، اور یہ کہ حالات ہمیشہ ہمارے حسبِ منشا ہوں گے۔ جب ہم سمسار میں اپنی صورت حال کو سمجھ لیتے ہیں تو ہمیں دوسروں کی حالت سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ 

اس معاملہ میں ہم سب یکساں ہیں۔ معاملات میں یا غیروں پرغصہ دکھانے سے کسی بہتری کا امکان نہیں۔ دوسرے لوگ بھی ایسی باتیں کہتے یا ایسے کام کرتے ہیں جو ہمیں ناپسند ہوں کیونکہ – جی ہاں – ان کی زندگی بھی مصیبت زدہ ہے۔

ایسے انداز فکر سے ہماری سوچ میں بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے آپ کو اپنی دنیا کا محور تصور کرے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کام ہماری مرضی کے مطابق ہوگا یا اسے ایسے ہونا چاہئیے۔

(۲) ہیرو بنئیے: صبر

پریشان کن جذبات کا بہترین توڑ ان کی ضِد ہے؛ آگ کو آگ سے بجھانا کار گر نہیں ہوتا۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارے من کے لئیے بیک وقت دو متضاد جذبات اپنے اندر رکھنا ممکن نہیں۔ آپ کسی پر ایک ہی پل چلّائیں بھی اور ان سے صبر کا مظاہرہ بھی کریں، یہ ممکن نہیں – ایسے ہوتا ہی نہیں۔ بعض کے نزدیک صبر کمزوری کی علامت ہے، جب آپ کسی کو آپ کی ذات سے پورا فائدہ اٹھانے دیں اور انہیں مکمل من مانی کرنے دیں۔ حقیقت البتہ اس سے بہت مختلف ہے۔ جب ہم پریشان ہوں تو چیخنا چلّانا کس قدر آسان ہے؟ اور اپنے کو شانت رکھنا اور اپنے جذبات پر قابو رکھنا کس قدر مشکل ہے؟ اپنے جذبات کے دھارے میں بہہ جانے سے ہم ہیرو نہیں بن جاتے – اس سے ہم کمزور پڑ جاتے ہیں۔ پس اگلی بار جب آپ اونچی آواز میں چلّانے لگیں تو اپنی صبر کی تلوار کھینچ کر اپنے غصے کا سر قلم کر دیں۔

یہ کام کیسے ہو؟ ہم گہرے سانس لینے کی کوشش کریں – یہ ان چھوٹے تیز سانس جو ہم غصہ کی حالت میں لیتے ہیں ان کا سیدھا سادہ تریاق ہے – اگر ہم اپنے آپ کو تناؤ کی حالت میں دیکھیں۔ ہم ۱۰۰ تک آہستہ آہستہ گنتی گِن سکتے ہیں تا کہ ہم کوئی ایسی بات کہنے سے بچ رہیں جس پر ہمیں بعد میں پچھتانا پڑے۔ یا اگر ہم کسی کے مد مقابل ہیں، تو بہتر ہو گا کہ ہم وہاں سے ہٹ جائیں پیشتر اس کے کہ معاملہ حد سے بگڑ جاۓ۔ ہر صورت حال مختلف ہوتی ہے، اس لئیے آپ کو اپنی عقل سے کام لے کر دیکھنا ہو گا کہ آپ کے لئیے کیا کار گر ہے۔ 

(۳) حقیقت پسند بنئیے: صورت حال کا تجزیہ کیجئیے

جب ہم غصے میں ہوتے ہیں تو ہمارا غیض و غضب ایک محافظ کی مانند آتا محسوس ہوتا ہے، جیسے ہمارا بہترین دوست جو میدانِ جنگ میں ہمیں مدد پہنچا کر ہماری بھلائی کا تحفظ کرتا ہے۔ اس غلط تصور سے ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا غصہ جائز ہے۔ لیکن اگر ہم ذرا غور کریں تو غصہ ہمارا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔

غصہ ہمارے لئیے پریشانی، ذہنی عذاب، بےخوابی اور بد ہضمی کا باعث بنتا ہے۔ اگر ہم کسی پر لمبے عرصہ کے لئیے ناراض رہیں، تو اس سے دوسروں پر دیرپا اثر پڑتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ: وہ کون ہے جو کسی غصیلے انسان کے ساتھ چِمٹا رہے؟

اگر ہمارے اوپر کوئی الزام لگے اور ہم اپنے پیٹ میں دفاعی گرہ کو مضبوط ہوتا محسوس کریں، تو ہمیں رک کر عقل سے کام لینا چاہئیے۔ اس کی دو ہی صورتیں ہیں: یا تو الزام سچ ہے یا جھوٹ۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر ناراضگی کی کیا بات ہے؟ اگر ہم پختہ ذہن بالغ ہیں، تو اسے قبول کر لیں، اور اس سے کچھ سیکھ کر زندگی کو آگے بڑھائیں۔ اور اگر یہ سچ نہیں، تو پھر بھی ناراضگی کی کیا بات ہے؟ اس شخص سے غلطی ہوئی – کیا ہم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی غلطی نہیں کی؟

(۴) اپنے من کو دیکھئیے: مراقبہ

غصے سے نمٹنے میں مراقبہ اور ذہنی خبرگیری کی مشق نہائت مفید ہو سکتی ہے۔ بعض کے نزدیک مراقبہ محض وقت کا ضیاع ہے۔ کسی گدی پر بیس منٹ بیٹھ کر اپنا وقت کیوں ضائع کیا جاۓ جب کہ ہم اپنے وقت کا بہتر استعمال کر سکتے ہیں، ہے نا؟ بعض اور لوگ مراقبہ کو حقیقی زندگی سے فرار کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں ہم بچوں/ ای میل/شوہر/ بیوی سے الگ وقت گزار سکتے ہیں۔
 
لیکن مراقبہ اس سے کہیں زیادہ منفعت بخش ہے – یہ حقیقی زندگی گزارنے کی تیاری ہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ ہم ہر صبح درد مندی پر مراقبہ کریں، مگر جونہی کام پر پہنچیں، تو ملازمین پر چِلائیں اور اپنے ہمکاروں کی شکائت کریں۔

مراقبہ ہمارے من کو مثبت خیالات سے روشناس کراتا ہے – صبر، پیار، درد مندی – اور یہ ایک ایسا کام ہے جسے ہم کہیں بھی اور کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے صبح کے سفر کا آدھا گھنٹہ اپنی پسندیدہ موسیقی سننے میں صرف کرتے ہیں، تو کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اس میں سے دس منٹ نکال کر غیروں کے لئیے پیار بھری رحمدلی کے خیالات کو استوار کریں – ایک ایسی چیز جو ہمارا غصہ کم کرنے میں موثر ہو اور ہمیں ایسا انسان بناۓ جس سے لوگ تعلق رکھنا پسند کریں۔

(۵) جُھک جائیے: اپنے دشمن سے سیکھئیے

بدھ مت ہمیں اس کا بالکل اُلٹ کرنے کی تلقین کرتا ہے جو ہم عموماً کرتے ہیں۔ جب ہم کسی سے ناراض ہوں، تو ہمیں بدلہ لینے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ؟ ہم پہلے جتنے، اگر زیادہ نہیں تو، اذیت زدہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ خلاف عقل نظر آتا ہے، مگر الٹ کام کرنے سے نتیجہ بھی الٹ ہی نکلتا ہے: مسرت کا راستہ۔

یہ احمقانہ بات لگتی ہے، مگر اپنے غصہ کے نشانہ کو اپنا استاد تصور کرو۔ اگر ہم بہتر بننا چاہتے ہیں – یعنی کہ، زیادہ صابر، زیادہ مُحِبّ، مہربان اور خوش باش – تو ہمیں مشق کی ضرورت ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک عمدہ فٹ بال کا کھلاڑی یا وائلن نواز بننے کے لئیے وقت اور محنت درکار ہے، تو من کی مشقوں کے معاملہ میں کوئی فرق کیوں ہو؟ اگر ہم ہر دم ایسے لوگوں سے گھرے ہوۓ ہوں جو ہم سے ہر بات پر متفق ہوں اور ہماری ہر خواہش پوری کریں، تو ہم کبھی بھی کسی چیلنج سے دوچار نہیں ہوں گے۔

اس طرح وہ شخص جس پر ہم ناراض ہیں بہت قابل قدر بن جاتا ہے، جو ہمیں صبر کی مشق کرنے کا موقع مہیا کرتا ہے۔ اس سے غصے کا امنڈتا ہوا طوفان فوراً تھم جاتا ہے، کیونکہ اس سے معاملہ انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا سے وہ میرے لئیے کیا کر رہے ہیں، میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

(۶) موت کو یاد رکھئیے: نا پائداری 

آپ نے مرنا ہے۔ مجھے بھی موت آۓ گی۔ ہم سب کو مرنا ہے۔ جب وہ شخص جو ہمیں سخت ناگوار ہے کوئی نازیبا حرکت کرتا ہے، تو ذرا سوچئیے:" جب میں بسترِ مرگ پر ہوں گا، تو کیا مجھے اس کی پرواہ ہو گی؟ اِس کا جواب ماسوا اس کے کہ وہ شخص دنیا پر قبضہ کرنے اور اسے تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہو، شائد ایک پر زور "نہیں" ہوگا۔ یہ چھوٹا سا سادہ گر زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کا مداوا ہے۔

ہم سب کو احساس ہے کہ ہم نے مرنا ہے، لیکن یہ ایسی بات ہے جس سے ہم حقیقتاً واقف نہیں۔ موت ایک مجرّد، دُور افتادہ تصور ہے جس سے دوسرے لوگوں کو واسطہ پڑتا ہے – بوڑھے، بیمار اور عجیب حادثات کا شکار لوگ۔ مگر یہ حقیقت نہیں۔ ہر روز یوں ہوتا ہے کہ جوان لوگ بوڑھوں سے پہلے مر جاتے ہیں، امیر بیماروں سے قبل موت کا مزہ چکھتے ہیں۔

جب ہم اپنی مستقبل کی ناگزیر موت پر غور کرتے ہیں (کل؟ ایک سال بعد؟ پچاس برس بعد؟)، تو بہت سی باتیں جو عام طور پر ہمیں پریشان کرتی ہیں، وہ اہمیت کھو بیٹھتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمیں آئندہ پریشان نہیں کریں گی، بلکہ یہ ہو گا کہ ہم جان جائیں گے کہ ان پر وقت اور شکتی ضائع کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔ 

(۷) جیسا کرو گے: کرم

لوگ کہتے ہیں، "جیسا کروگے ویسا بھرو گے،" یا یہ اُس کا کرم ہے – جو اس کے ساتھ ہو رہا ہے وہ اس کا مستحق ہے، مطلب یہ کہ لوگ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔ بدھ مت کا کرم کا نظریہ بعینہٖ ایسا نہیں جو کہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور لطیف ہے۔ تاہم، لوگ دوسروں کی مصیبتوں کے بارے میں آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ان کا کرم ہے، ان میں سے بیشتر جب خود ایسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو یہ ماننے سے منکر ہوتے ہیں کہ یہ بھی ان کا کرم ہی ہے۔

ہر وہ معاملہ جس سے ہم گزرتے ہیں – ناقابل یقین مسرت کے لمحات سے لے کر مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں تک – ان کی کوئی نہ کوئی وجوہات ہوتی ہیں۔ یہ وجوہات کہیں ہوا میں سے ہماری گود میں نہیں آ گرتیں، بلکہ ہم خود انہیں جنم دیتے ہیں۔ لہٰذا جب کوئی مصیبت آن پڑے، تو غصہ میں آجانے کی بجاۓ، ہم یوں سوچ سکتے ہیں: یہ کہاں سے آیا، اور کیا میں اسے مزید بگاڑنا چاہتا ہوں؟ 

کرم سے مراد ہمارا اضطراری رویہ ہے، یعنی حالات پر ہمیشہ کی طرح پرانے طریقے سے رد عمل کا اظہار  کرنا۔ اگر ہم کرم کے نظام کو سمجھ لیں، تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم اپنے موجودہ فعل سے مستقبل کے حالات کو بدلنے کی اہلیت رکھتے ہیں – اور یہ کہ غصہ آنے پر صبر آزمائی کے طریقے موجود ہیں۔ 

(۸) یہ حقیقی نہیں: خالی پن  

اگرچہ صبر سیدھا سادہ تریاق ہے مگر خالی پن سب سے طاقتور تریاق ہے، نہ صرف غصہ کے لئیے، بلکہ ہمارے تمام مسائل اور مشکلات کے لئیے بھی۔ درحقیقت، خواہ ہم کتنے ہی صابر کیوں نہ ہوں، اگر ہم خالی پن کو نہیں سمجھتے تو مسائل ہمارے اوپر ہندوستانی مون سون کی طرح برستے رہیں گے۔
 
اگر ہم اپنے من کا معائنہ کریں جب کہ ہم غصہ میں ہوتے ہیں تو ہم کچھ محسوس کریں گے: "میں" یا "مجھ" کا شدید احساس۔ "تم نے مجھے جو کہا میں اس پر سخت ناراض ہوں۔ مجھے اس پر یقین نہیں آتا جو اس نے میرے دوست کے ساتھ کیا! میں اس معاملہ میں یقیناً صحیح ہوں اور وہ یقیناً غلط ہے!" میں، میں، میں۔

جب ہم غصے میں ہوتے ہیں تو ہمیں اُس "میں" جو اس قدر ٹھوس انداز میں سامنے آتی ہے کا تجزیہ کرنے کا عمدہ موقع ملتا ہے۔ اس کا کوئی وجود نہیں! ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمارا کوئی وجود نہیں یا یہ کہ کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر جب ہم اس "میں" کو تلاش کرنے نکلتے ہیں – کیا یہ ہمارے من میں ہے؟ ہمارے جسم میں؟ دونوں میں؟ ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم یہ کہہ سکیں کہ "جی ہاں، یہ رہی!"

اس کو سمجھنا لوگوں کے لئیے مشکل ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ہم حقیقت کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس سے ہمارا نکتہ نظر بہت حد تک بدل جاتا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس میں ناراض ہونے کی سرے سے کوئی بات ہی نہیں تھی۔

ویڈیو: تنزین پالمو ـ «غصے کا فوری علاج»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

خٖلاصہ  

اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ ہم کتنی بار کہیں"میں غصہ میں نہیں آؤں گا" ؛ بغیر محنت کے ہمیں من کا سکون جس کے ہم سب تمنّائی ہیں نہیں مل سکتا۔
 
مندرجہ بالا نکات محض ایک عمدہ فہرست نہیں – بلکہ یہ وہ اوزار ہیں جن کو استعمال کر کے ہم اپنے آپ کو مایوسی، غصہ اور غم سے نجات دلا سکتے ہیں۔ مشق کے ذریعہ ہم میں سے کوئی بھی یہ کام کر سکتا ہے۔

Top