تعلقات میں حسد سے کیسے نمٹا جاۓ

حسد ہمارے اندر ایسا بیجا خوف پیدا کرتا ہے جس کے تحت ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے عزیز و اقارب ہمیں چھوڑ دیں گے، جس سے ہمارے تعلقات خراب ہوتے ہیں اور ہم مکمل طور پر من کا چین کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم جس قدر زیادہ حاسد اور قابض ہوں گے، ہم اتنا ہی لوگوں کو اپنے سے دور بھگا دیں گے۔ اس بات کا احساس کرتے ہوۓ کہ ہمارے اندر لوگوں کی اور چیزوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو پیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ہم حسد پر قابو پا سکتے ہیں۔ ہمارے اپنے دوستوں، اپنے پیشہ، کھیل وغیرہ سے پیار کرنے سے نہ تو ہمارے ساتھی کا ہمارے لئیے پیار کم ہو جاتا ہے اور نہ ہی ہمارا ان کے لئیے؛ در حقیقت، اس سے اسے تقویت ملتی ہے۔

حسد بالمقابل رشک

حسد کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اگر ہم کنوارے ہیں اور کسی جوڑے سے حسد محسوس کرتے ہیں یا کسی کو پر کشش پاتے ہیں جس کا پہلے سے ہی کسی سے ناطہ ہے، تو یہ رشک ہو گا۔ ہم اس شخص کی توجہ اور اس کے پیار کی آرزو کرتے ہیں، یا ہم ایسے ہی پیار بھرے تعلق کی تمنّا کرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں، ہم کسی ایسی چیز کے بارے میں رشک کرتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہے، اور اس سے ہمارے اندر نا اہلی کا احساس اور بعض عزت نفس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

تعلقات میں حسد

حسد اس وقت اور بھی پریشان کن ہو سکتا ہے جب ہمارا کسی سے تعلق ہو۔ اس بات پر توجہ دینے کی بجاۓ کہ کسی کے پاس کیا ہے، اس کی توجہ ہمارے دوست یا ساتھی اور کسی تیسرے شخص پر ہوتی ہے؛ ہم اکثر اس امر کا شکار ہوتے ہیں کہ ہمارا حبیب خاص ہمیں چھوڑ کر اس تیسرے شخص سے جا ملے گا۔ ہم کسی قسم کی رقابت یا عدم وفا کو برداشت نہیں کر پاتے۔ مثال کے طور پر، ہم جلتے ہیں اگر ہمارا ساتھی اپنے دوستوں کے ساتھ بہت وقت صرف کرے یا ہمارے بغیر کھیل تماشے وغیرہ پر جاۓ۔ کسی نوزائیندہ بچے کی آمد پر کتا بھی ایسی جلن محسوس کرتا ہے۔ ایسے حسد کے جذبات میں معاندت، شدید عدم تحفظ اورعدم اعتماد کے عناصر پاۓ جاتے ہیں۔ 

اگر ہم عدم تحفظ کا شکار ہیں، تو ایسی صورت میں جب بھی ہمارا ساتھی یا دوست دوسرے لوگوں کی صحبت میں ہو گا، ہم حسد محسوس کریں گے۔ اس کی وجہ ہمارا اپنی عزت نفس پر شک ہے، اور دوسرے شخص کے ہمارے لئیے پیار پر عدم تحفظ، جس کے سبب ہم اپنے ساتھی پر اعتماد نہیں کرتے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہمیں چھوڑ نہ دے۔ ایسا خوف اس وقت بھی موجود ہو سکتا ہے جب کہ ہمارا ساتھی یا دوست کسی دوسرے کے ساتھ بالکل بھی وقت نہ گزارے۔ شدید احساس ملکیت کی صورت میں ہمیں یہ بیجا خوف ستاتا ہے کہ کہیں وہ ہمیں کسی لمحہ بھی خیرباد نہ کہہ دیں۔

حسد پر قابو پانا

حسد پر قابو پانے کے لئیے ہمیں اس بات پر غور کرنا ہے کہ دل کے اندر ہر ایک سے پیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے – یہ ہماری مہاتما بدھ والی فطرت کا ایک پہلو ہے۔ جب ہم اس حقیقت کی توثیق کر لیں، تو اس سے ہمیں یہ جان کر کہ ایک شخص سے پیار کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے لوگوں سے پیار نہیں کرتے، حسد پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ ذرا اپنے بارے میں سوچیں اور دیکھیں کہ ہم اپنے دل کو کتنے ہی لوگوں اور چیزوں کے لئیے وا کر سکتے ہیں۔ (دیکھئیے: پیار کیا چیز ہے؟) ایک وسیع دل میں ہم اپنے ساتھی، دوستوں، بچوں، والدین، وطن، فطرت، خدا، مشاغل وغیرہ سب کے لئیے پیار رکھتے ہیں۔ ہمارے دلوں میں ان سب کے لئیے جگہ ہے کیونکہ ہمارا پیار کوئی مختص شے نہیں ہے۔ ہم ان سب چیزوں کو جاننے اور ان سے پیار کرنے کے قابل ہیں، اور اپنی محبت کا اظہار ہر شے کی مناسبت سے کر سکتے ہیں۔ بے شک، ہم اپنے کتے سے ویسے ہی پیار کا اظہار نہیں کرتے جیسا کہ اپنی بیوی یا خاوند یا والدین سے کرتے ہیں۔ 

اگر ہم وسعتِ دل سے کام لے سکتے ہیں تو ہمارے ساتھی یا دوست بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔ ہر انسان کے دل میں بہت سے لوگوں اور چیزوں سے محبت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے – حتیٰ کہ تمام عالم سے۔ ان سے یہ توقع کرنا یا اس چیز کا مطالبہ کرنا کہ وہ صرف ہم سے ہی پیار کریں اور کبھی کوئی اور محبت بھری دوستی یا دوسرے کوئی  مشاغل اختیار نہ کریں نہ صرف ناحق ہے بلکہ غیر حقیقت پسند بھی ہے۔ کیا ہم انہیں اتنا ہی معمولی سمجھتے ہیں کہ وہ بیک وقت اپنے دل میں ہمارے لئیے اور دوسرے لوگوں کے لئیے پیار استوار نہیں کر سکتے؟ کیا ہم انہیں ان کی مہاتما بدھ والی فطرت کی محبت اور درد مندی جیسی صفات جو کہ زندگی کی عظیم ترین خوشیاں ہیں، سے محروم رکھنا چاہتے ہیں؟

یہاں ہم جنسی بے وفائی کی بات نہیں کر رہے۔ یک زوجئیت اور جنسی بے وفائی کے مسائل نہائت پیچیدہ ہیں اور کئی اور نئے مسائل سامنے لے آتے ہیں۔ بہر حال، اگر ہمارے جنسی ساتھی، خصوصاً ہماری بیوی یا شوہر، اگر بے وفائی کریں یا دوسروں کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزاریں – خاص طور پر جب ہمارے چھوٹے بچے ہوں – تو حسد، عناد اور احساس ملکیت کبھی بھی مفید جذباتی رد عمل نہیں ہوتے۔ ہمیں صورت حال سے معتبر انداز سے نمٹنا ہو گا، کیونکہ اپنے ساتھی پر چلانے یا انہیں جرم کا احساس دلانے سے کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ ہم سے پیار کرنے لگ پڑیں۔

محبت کے لئیے دل کے دروازے کھولنا

جب ہم یوں سوچیں کہ پیار بھرا قریبی رشتہ صرف ایک انسان سے ہی ہو سکتا ہے، تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا ایک ہی ساتھی یا دوست ہے جس کی محبت اہم ہے۔ خواہ اور بھی کئی لوگ ہم سے پیار کرتے ہوں، ہم اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں، "یہ بے معنی ہے۔"

زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئیے اپنے دل کے دروازے کھلے رکھنا اور دوستوں، رشتہ داروں، پالتو جانوروں وغیرہ کے پیار کو تسلیم کرنا جو انہیں ہم سے اب ہے، ماضی میں تھا اور جو مستقبل میں ہو گا، سے ہمیں جذباتی تحفظ ملتا ہے۔ اس سے ہمیں کسی ایسی ہٹیل صورت حال جو محض ایک ہی چیز سے محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہو پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ہمہ دانی اور ہمہ محبتی رویّہ دونوں صورتوں سے مراد سب کو اپنے دامنِ خیال میں رکھنا ہے۔ پھر بھی جب کوئی مہاتما بدھ کسی ایک اکیلے شخص کے ساتھ ہو تو ان کی توجہ سَو فیصد اس ایک شخص پر ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا، سب سے پیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارا پیار ہر ایک انسان کے لئیے رقیق ہو گیا ہے۔ ہمیں اس بات کی بالکل فکر نہیں کرنی چاہئیے کہ اگر ہم بہت سارے لوگوں سے پیار کریں تو ہمارے ذاتی تعلقات کمزور اور عدم تشفی کا شکار ہوں گے۔ اس طرح ہم کسی ایک شخص سے کم چِمٹیں اور کسی ایک تعلق سے تمام تشفی حاصل نہیں کریں، اور ہم ہر شخص کے ساتھ کم وقت گزاریں گے، مگر ہر ایک تعلق ایک بھر پور معاملہ ہو گا۔ یہ بات دوسروں کے ہمارے لئیے پیار کے معاملہ میں بھی سچ ہے جب ہم جلن محسوس کریں کہ ان کا پیار رقیق ہو جاَۓ گا کیونکہ ان کے اور لوگوں سے بھی پیار کے رشتے ہیں۔

ایسا سوچنا غیر حقیقت پسندی ہے کہ کوئی ایک شخص ہم سے عین مطابقت رکھتا ہو گا، ہمارا "نصف غیر،" جو  ہر لحاظ سے ہماری تکمیل کرتے ہیں اور جن کے ساتھ ہم زندگی کا ہر پہلو بانٹ سکتے ہیں۔ ایسے نظریات کی بنیاد یونانی دیو مالائی کہانیاں ہیں جن کا راوی افلاطون تھا جس نے کہا کہ شروع میں ہم سب مکمل ایک تھے، جو کہ دو میں تقسیم کر دئیے گئے۔ ہمارا نصف غیر "کہیں نہ کہیں" موجود ہے؛ اور سچا پیار وہ ہے جب ہم اپنے گم گشتہ نصف غیر کو پا لیتے ہیں اور ان سے مل جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ کہانی مغربی رومان کی بنیاد بنی، مگر یہ حقیقت کا پرتو نہیں ہے۔ اس پر یقین رکھنا ایسا ہی ہے کہ ایک خوبرو شہزادہ سفید گھوڑے پر سوار آۓ گا اور ہمیں بچا لے گا۔ اپنے تمام شوق بانٹنے اور ضروریات پوری کرنے کے لئیے ہمیں کئی لوگوں کے ساتھ مشفق تعلقات درکار ہیں۔ اگر یہ بات ہمارے لئیے درست ہے تو اسے ہمارے ساتھیوں اور دوستوں کے لئیے بھی سچ ہونا چاہئیے۔ ہمارے لئیے ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنا ناممکن ہے، اس لئیے انہیں بھی دوسرے دوستوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

خلاصہ

جب کوئی نیا انسان ہماری زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اسے ایک خوبصورت جنگلی پرندے کی مانند سمجھنا چاہئیے جو ہماری کھڑکی پر آ بیٹھا ہے۔ اگر ہم اس حسد کی آگ میں جلیں کہ یہ پرندہ اور لوگوں کی کھڑکیوں پر بھی بیٹھتا ہے اور اسے پنجرے میں بند کر لیں، تو یہ اس قدر آزردہ ہو گا کہ یہ اپنی کشش کھو بیٹھے گا اور عین ممکن ہے کہ مر جاۓ۔ اگر ہم احساس ملکیت سے بچ کر پرندے کو آزاد چھوڑ دیں، تو ہم اس وقت کو جو ہم نے پرندے کے ساتھ گزارا، سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ جب پرندہ اڑ جاۓ، جو کہ اس کا حق ہے، تو اس کی واپسی کا امکان روشن ہے اگر وہ ہمارے ہاں محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اگر ہم امر کو نہ صرف قبول کریں بلکہ اس کی عزت کریں کہ ہر انسان کو کئی دوست بنانے کا حق ہے، جس میں ہم بھی شامل ہیں، تو ہمارا تعلق صحت مند اور دیرپا ہو گا۔ 

Top