خوف سے نبرد آزمائی

ویڈیو: چودھویں دلائی لاما ـ «پُر امید رہئیے»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

بیشتر اوقات یہ دنیا ایک پاگل خانہ لگتی ہے۔ ذرا خبرنامہ دیکھئیے: دہشت گرد حملہ کرنے والے ہیں! معیشت تباہ ہو رہی ہے! اور ماحول – اس کی تو بات ہی نہ کیجئیے۔ یہ سب کچھ آپ کو باقی ہفتے تک بستر رسید کرنے کو کافی ہے۔

یہ تو محض خارجی دنیا کی بات ہے۔ ہمیں اپنے ذاتی مسائل سے بھی نمٹنا ہے۔ اگلی چھٹی کہاں منائی جاۓ؟ اور اس ہمکار سے کیسے نمٹا جاۓ جس کو وہ ترقی ملی جس کے ہم شدت سے طلبگار تھے؟ اپنی زندگی کا معاملہ کیسے کیا جاۓ؟
 
جوانی میں ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم جو بھی بننا چاہیں بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا،" اپنے خوابوں کا تعاقب کرو۔" لیکن ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اپنے خواب کی تعبیر ہیں؟ ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو سوشل میڈیا پر چسپاں مواد دیکھتے ہیں، اور ان پر رشک کرتے ہیں جن کے خواب سچ مچ پورے ہوۓ؟ ساحل سمندر پر تعطیلات اور بےعیب سفید دانت – انہوں نے زندگی کی کلید پا لی ہے جبکہ ہم ایک بےکیف دفتر میں مقیّد ہیں۔
 
"مسرت" کا تصور ایک پریوں کی کہانی یا محض ایک اشتہاری نعرہ لگتا ہے – کوئی ایسی شے جس کے لئیے ہم آج کام کرتے ہیں تا کہ غیر متعیّن مستقبل میں اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ لیکن خواہ ہم کسی قدر محنت سے کام کریں، یہ کوئی خوشی کی ضمانت نہیں۔ بعض لوگ پی ایچ ڈی سند یافتہ ہو کر بھی میکڈانلڈ میں کام کر رہے ہوتے ہیں، جب کہ بعض دوسرے بے حد امیر اور نامور ہو جاتے ہیں، لیکن انجام کار مایوسی کا شکار ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں۔ یہ سب زندگی کے بارے میں ہمارے اندر خوف پیدا کرتا ہے، اس سے سماجی خوف پیدا ہوتا ہے، جس میں ہم ہر دم دوسروں سے اپنا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ جب ہم کسی سے آنکھیں چار کرتے ہیں تو بےچین اور غیر محفوظ سا محسوس  کرتے ہیں، اور ہم اپنے سمارٹ فون کے پس پردہ چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ ہمارے دَور کا طاعون ہے۔ یہ ایڈز، سرطان یا افسردگی جتنا خطرناک نہ بھی ہو، لیکن خوف ہماری شکتی کو ضائع کرتا ہے اور ایک طرح کی مستقل بےچینی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اسی کی وجہ سے ہم اپنی توجہ بٹانے کی خاطر نئے ٹی وی پروگرام اور فیس بک پر پیغامات پر سرسری نظر ڈالتے ہیں، محض اس لئیے کہ ہم اپنے خیالات کا تنہائی میں سامنا نہیں کر سکتے۔ ہمیں حالات کو قابل برداشت بنانے کے لئیے کانوں میں فون اور ہمہ وقت موسیقی درکار ہے۔
 

ایسا ہونا تو نہیں چاہئیے۔  ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں زندگی کی نعمتوں کے لئیے شکر گزار ہونا چاہئیے، اور یہ کہ ہمیں کبھی بھی دوسروں سے مقابلہ نہیں کرنا چاہئیے۔ لیکن اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ ہم کیسے خوف پر قابو پا سکتے ہیں؟

پیچھے ہٹ کر دیکھو

ہمیں اس جھنجھٹ سے دور ہٹ کر اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہئیے۔  یہ غیر دلچسپ لگتا تو ہے، مگر ہم اسے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ ہم زندگی سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ کوئی ایسا طریقہ نہیں جو سب کے لئیے کارگر ہو، مگر ہم سے پہلے بھی لوگ اس  سے دوچار ہوۓ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم راک سٹار بننا چاہیں، مگر کیا ہم اس بات پر خوش ہوں گے کہ آزاد پیشہ فوٹوگرافر دن رات ہمارا تعاقب کرتے رہیں؟ کیا راک سٹار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مسرت پا لیتے ہیں؟ ان میں سے کتنے ہی شراب اور منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں؟  اور پھر ہمیں اس کے لئیے جو وقت اور شکتی درکار ہے اس کو بھی سامنے رکھنا ہے۔

کوئی شخصی مثال ڈھونڈو 

اگر ہم نے بامقصد اور خوشگوار زندگی گزارنے کا گر پا لیا ہے تو اگلا قدم یہ ہو گا کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاۓ جو اس کا جیتا جاگتا نمونہ ہو۔ ایک اچھا موسیقار بننے کے لئیے ہمیں ریاض کرنے کی ضرورت ہے۔ فٹ بال کا کھلاڑی بننے کے لئیے مشق کرنا ہو گی۔ محض چلنا سیکھنے کے لئیے بھی ہمیں مشق کی ضرورت پڑی تھی، اگرچہ اب ہمیں یہ یاد نہ ہو۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ بغیر علت کے معمول ممکن نہیں۔ زندگی میں کچھ پانے کے لئیے لگن چاہئیے۔ کوئی شخصی کردار ہمیں گر سکھاتا ہے اور عمدہ مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے۔

غیروں کی مدد کرو

اپنے خیالات اور خواہشات میں غرق ہو جانا بہت آسان ہے۔ ہم بیشتر یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں زندگی سے کیا کچھ درکار ہے، اور جب بھی کوئی ہماری راہ میں حائل ہو تو ہم برہم ہو جاتے ہیں۔ اس خوف کی بڑی وجہ تنہائی کا احساس ہے، لیکن دوسروں سے ربط قائم کرنے کا بہترین طریقہ ان کے لئیے پرخلوص فکر ہے۔ اگر ہم محض اپنے ہی بارے میں سوچیں تو ہمارا خستہ حال ہونا لازم ہے؛ جبکہ غیروں کی دل و جان سے مدد کرنے سے، سائینس کی رو سے، خوف کم ہوتا ہے اور مسرت میں اضافہ ہوتا ہے۔

 یہ ضروری نہیں کہ یہ کوئی بہت بڑا کام ہی ہو۔ کسی اداس دن کسی کو مسکرا کر دیکھنا، یا کسی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنے سے دونوں فریقوں کی روح تازہ ہو گی۔ اسے فرض سمجھ کر مت کرو، بلکہ کسی کو خوش کرنے کی پرخلوص خواہش کے ساتھ کرو۔ اور پھر دیکھو کہ تمہاری من کی حالت پر کیا اثر ہوتا ہے۔

اپنے آپ کو پہچانو

ہم سب اپنے آپ کو منفرد تصور کرتے ہیں، مگر اس سے محض یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم سب ایک سے ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ "اپنے آپ کو پہچانو،" اس کا اصل مطلب اس امر کا ادراک ہے کہ ہم کون ہیں۔ ہم سب کو مسائل درپیش ہوتے ہیں، اور ایک بےعیب زندگی کا وجود ناممکن ہے۔ اپنے خیالات کو عقیدہ نہ بناؤ!

 
جس طرح ہم اپنی وہ تصویویں نہیں دکھاتے جن میں ہم اپنے کو بد صورت خیال کرتے ہیں، تو دوسرے لوگ بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔ ہم سرِعام تضحیک سے ڈرتے ہیں – اور ذرا سوچئیے تو؟ - تو دوسرے بھی یوں ہی ہیں۔ اگرچہ ہم ایک ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں ہمیں بظاہر بےعیب زندگیوں کا عندیہ دیا جاتا ہے، مگر ہمیں اس دھوکے میں نہیں آنا چاہئیے۔ اگر ہم ان باتوں کو ذہن میں رکھیں، غیروں کو دلجمعی سے خوشی کا پیغام دیں، اور اپنی زندگیوں کو بامقصد بنانے کی کوشش کریں، تو ہمارا خوف دھیرے دھیرے دور ہو جاۓ گا۔

Top