کرم کیا چیز ہے؟

کرم سے مراد من کی وہ انگیخت ہے – جس کی بنیاد ہمارا گزشتہ رویّہ ہے – جو ہمارے موجودہ قول، فعل اور فکر کی محرک ہے۔ ہماری عادات ہمارے ذہنوں میں ایسے اعصابی راستے ہموار کرتی ہیں، جو مناسب حالات میں تحریک ملنے پر ہمیں اپنے عمومی رویّہ کو دوہرانے کا سبب بنتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں، ہمارا دل کچھ کرنے پر مائل ہوتا ہے، اور پھر ہم بے قابو ہو کر اسے کر گزرتے ہیں۔ 

ویڈیو: سترھویں کرمپا ـ «کرم کیا چیز ہے؟»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

کرم کو عموماً غلطی سے قسمت یا تقدیر تصور کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص زخمی ہو یا اسے پیسے کا بھاری نقصان ہو تو لوگ کہتے ہیں،" بیچارے کی بد قسمتی، یہ اس کا کرم تھا۔" یہ خدا کی مرضی کے تصور کے مترادف ہے -  کوئی ایسی چیز جو ہماری سمجھ یا اختیار سے باہر ہو۔ بدھ مت کا کرم کے متعلق ایسا تصور بالکل نہیں ہے۔ کرم کا تعلق من کی ان عصبی ہیجان کی لہروں سے ہے جو ہمیں کسی پر غصے کا اظہار کرنے پر اکساتی ہیں یا ہمیں صبر کی تلقین کرتی ہیں تا کہ ہم شانت ہونے پر معاملے کو سلجھا سکیں۔ (زیر ہدائت مراقبہ کیجئیے: شانت ہونا)۔ یہ ان محرکات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہیں جن سے ہم سیڑھیاں اترتے وقت عادتاً پاؤں کو موچ دے لیتے ہیں، یا احتیاط سے سیڑھیاں اترتے ہیں۔ 

کرم کو سمجھنے کے لئیے سگریٹ نوشی کی مثال عمدہ ہے، کیونکہ جب بھی ہم ایک سگریٹ پیتے ہیں تو یہ اگلے سگریٹ کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ ہم جس قدر زیادہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں ہماری سگریٹ پینے کی عادت اتنی ہی پختہ ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ، بغیر سوچے سمجھے، ہمارے کرم کی انگیخت ہمیں سگریٹ سلگانے پر مجبور کرتی ہے۔ کرم بتاتا ہے کہ سگریٹ نوشی کی خواہش اور تحریک کہاں سے آتی ہیں – خصوصاً، سابقہ پختہ کی گئی عادت سے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف عادت کا اعادہ کرنے کی تحریک پیدا کرتی ہے بلکہ جسم کے مادی حالات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، مثال کے طور پر، سگریٹ نوشی سے سرطان کا مرض لاحق ہونا۔ یہاں تحریک اور سرطان میں مبتلا ہونا دونوں ہی ہمارے گزشتہ اضطراری اعمال کا نتیجہ ہیں اور اسے "کرم کی پختگی" کہتے ہیں۔ 

اپنی عادتوں کو بدلنا

کرم ایک بامعنی عنصر ہے کیونکہ یہ ہمارے جذبات اور محرکات کے ماخوذ کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ کہ ہم کیوں بعض اوقات خوش ہوتے ہیں اور دوسرے اوقات نا خوش ہوتے ہیں۔ یہ سب ہمارے رویّہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم جو کچھ کرتے ہیں اور جو کچھ ہمارے ساتھ پیش آتا ہے یہ سب پہلے سے طے شدہ نہیں ہے۔ قسمت یا تقدیر کوئی شے نہیں۔ 

"کرم" سے مراد فعال قوت ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل میں پیژ آنے والے واقعات آپ کے اختیار میں ہیں – چودھویں دلائی لاما

ایسا اکثر محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنی عادتوں کے غلام ہیں – بہر طور، ہمارا عادی رویّہ من کے پختہ عصبی راستوں پر قائم ہے -  بدھ مت کا یہ ماننا ہے کہ ان پر قابو پانا ممکن ہے۔ ہم عمر بھر ان کو تبدیل کرنے اور نئے عصبی راستے تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

جب ہمارے من میں کوئی کام کرنے کی اکساہٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کرمی اکساہٹ سے پہلے کچھ وقفہ ہوتا ہے۔ ہمارے اندر جو بھی احساس پیدا ہوتا ہے ہم فوراً ہی اس پر عمل نہیں کرتے – آخر ہم نے ٹائلٹ استعمال کرنے کی تربیت بھی تو لی تھی! تو یوں ہی، جب کوئی تکلیف دہ بات کہنے کی حاجت محسوس ہوتی ہے، تو ہم انتخاب کر سکتے ہیں،"میں یہ بات کہوں یا نہ کہوں؟" ہو سکتا ہے کہ کسی پر اپنی خفگی کا اظہار کر کے ہمیں وقتی تسلی ہو، مگر دوسروں پر چِلّانے کی عادت من کی ناخوش حالت ہے۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ جھگڑے کو بذریعہ بات چیت حل کرنا بہت خوش کن اور پر سکون صورت حال ہے۔ انسانوں کے اندر تعمیری اور تخریبی فعل کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت انہیں جانوروں سے ممتاز بناتی ہے – اس کا ہمیں بہت فائدہ ہے۔ 

اس کے باوجود، بعض اوقات تخریبی رویّے سے باز رہنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر ہمارے من میں پیدا ہونے والے احساسات کا جائزہ لینے کے لئیے کافی وقفہ ہے تو کام آسان ہو جاتا ہے، اور اسی لئیے بدھ مت کی تربیت ہمیں من کی آگہی استوار کرنا سکھاتی ہے (دیکھئیے: مراقبہ کیا چیز ہے؟) جب ہم ذرا دھیمے پڑ جائں تو ہم اپنے افکار، اعمال اور گفتار کے بارے میں زیادہ باخبر ہو جاتے ہیں۔ ہم دیکھنے لگتے ہیں کہ،"میں کچھ کہنا چاہ رہا ہوں جس سے کسی کو تکلیف ہو گی۔ اگر میں نے یہ کہہ دیا تو اس سے مشکلات پیدا ہوں گی، تو میں خاموش رہوں گا۔" اس طرح ہم انتخاب کر سکتے ہیں۔ جب ہم باخبر نہیں ہوتے تو ہم خیالات اور جذبات کے بوجھ تلے اس بری طرح دبے ہوتے ہیں کہ جو بھی ہمارے دماغ میں آتا ہے اسے اضطراری طور پر کر گزرتے ہیں، جس سے ہمیں بے حد پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

اپنے مستقبل کی پیشین گوئی کیجئیے

ہمارے موجودہ اور ماضی کے کرمائی رویّہ کی بنیاد پر ہم اس بات کی پیشین گوئی کر سکتے ہیں کہ ہمارا مستقبل کیسا ہو گا۔ تعمیری اعمال، آخر کار، خوشگوار نتائج پیدا کرتے ہیں، جبکہ تخریبی اعمال نا خوشگوار نتائج پیدا کرتے ہیں۔ 

کوئی کرمائی فعل کیسے پختگی اختیار کرتا ہے، اس کا انحصار کئی عناصر اور حالات پر ہے۔ جب ہم ہوا میں ایک گیند اچھالتے ہیں تو ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ گیند زمین پر آ کر گرے گا۔ البتہ اگر ہم اسے ہوا میں پکڑ لیں تو وہ زمین پر نہیں گرتا۔ ایسے ہی، اگرچہ ہم ماضی کے اعمال سے مستقبل میں ہونے والے واقعات و حالات کا قیاس کر سکتے ہیں مگر ایسا ہونا نہ تو حتمی ہے، نہ ہی ہماری تقدیر اور نہ ہی پتھر پر لکیر۔ دیگر رحجانات، اعمال اور حالات کرم کی پختگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر ہم فربہ ہیں اور بھاری مقدار میں گھٹیا خوراک کھاتے رہیں تو ہمارے مستقبل میں ذیابیطس کا شکار ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ لیکن اگر ہم کھانے پینے میں سخت احتیاط برتیں اور بہت سا وزن کم کریں، تو ہو سکتا ہے کہ ہم سرے سے بیمار ہوں ہی نہیں۔ جب ہمارے پاؤں کو چوٹ لگے تو درد کے احساس کے لئیے ہمارا کرم یا علت و معلول پر یقین ہونا ضروری نہیں – یہ ایک قدرتی امر ہے۔ اگر ہم اپنی عادتوں کو بدل ڈالیں اور اچھی عادات اپنا لیں، تو ہمارا ایمان چاہے کچھ بھی ہو، نتیجہ اچھا ہی ہو گا۔

Top