Arrow right اگلا
مراقبے
مضمون ۱۳ / ۱۳

احساس جرم دور کرنا

جب ہم اپنی تمام تر زندگی میں سر زد خطا کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہم اس پر مبالغہ آرائی سے گریزاں ہوتے ہیں۔ عفو، نہ کہ احساس جرم سے ہم اس کو دوبارہ نہ کرنے کا پکا عہد کرتے ہیں۔

توضیح

عفو سے مراد کسی غلط کام، کمزوری یا کوتاہی پر ناراض نہ ہونا اور نہ ہی کینہ پروری کرنا ہے۔ یہ من کی وہ مثبت حالت ہے جسے ہم کو ان لوگوں کے جواب میں استوار کرنا ہے جنہوں نے ہمیں نقصان پہنچایا اور غلط کاموں کے مرتکب ہوئے، مگر اس کو ہمیں اپنے غلط کاموں اور کوتاہیوں کے لئیے بھی کام میں لانا ہے۔ ایسا کرنے کی خاطر ہمیں اپنے آپ بطور ایک انسان اور اس کی خطاؤں کے مابین تمیز کرنی ہو گی۔ جب ہم اپنے بارے میں سوچیں، تو ہمیں اپنی تمام زندگی کا احاطہ کرنا ہو گا – اور اگر ہم بدھ مت کے پنر جنم نظریہ کو مانتے ہیں، تو اپنی تمام گزشتہ اور آنے والی زندگیوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ جب ہم ایسے وسیع تر تناظر میں اپنے اعمال پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری غلطی جو ہم سے سرزد ہوئی وہ محض ایک معمولی واقعہ تھا۔ ہم نے اپنی زندگی میں بے شمار کام کئیے، اور ماسوا اس کے کہ ہم کوئی مہاتما بدھ ہوں، غلطی کا مرتکب ہونا نا قابل گزیر ہے۔ اگر ہم کسی ایک خطا کو پکڑ کر بیٹھے رہیں اور اسی کو اپنی پہچان بنا لیں، تو اس کا نتیجہ احساس جرم کی شکل میں ظاہر ہو گا۔ جتنا لمبا عرصہ ہم اسے پکڑے رکھیں ، اتنا ہی لمبا عرصہ ہم احساس جرم میں مبتلا رہیں گے اور پریشان رہیں گے۔

اپنے آپ کو معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے فعل کو بھلا دیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ہم اپنے برے فعل یا خطا کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس احساس جرم کے ساتھ چمٹے نہیں رہتے اور اپنے آپ پر ناراض بھی نہیں ہوتے۔ ہم اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں، انہیں اپنی پہچان بنانے کا خاتمہ کرتے ہیں – یہ سوچ کہ ہم کوئی "برے انسان" ہیں یا "احمق" ہیں – اور چار متضاد طاقتوں کا اطلاق کرتے ہیں:

  • ندامت محسوس کرو
  • نقصان دہ حرکت یا خطا کا اعادہ نہ کرنے کا پکا عزم کرو
  • جس مثبت ڈگر پر ہم اپنی زندگی کو ڈال رہے ہیں اس کی توثیق کرو
  • اپنی غلطی کی اصلاح کرو، اگر ممکن ہو تو، معافی مانگ کر نقصان کا ازالہ کرو، اور اگر ممکن ہو، تو کوئی عمل صالح سر انجام دے کر نقصان کا مداوا کرو۔

مراقبہ

  • سانس پر ارتکاز کے ذریعہ پر سکون ہو جائں۔
  • کوئی نقصان دہ کام جو آپ نے کیا اسے یاد کریں – مثلاً کسی کو اپنے فعل سے یا گفتار سے نقصان پہنچایا – اور بعد میں آپ اپنے قول یا فعل کے متعلق سوچ کر احساس جرم میں مبتلا ہوئے اور اپنے آپ پر ناراض ہوئے۔
  • اپنے دائرہ سوچ کو وسیع کر کے اپنی پوری زندگی کے آئینہ میں دیکھیں کہ یہ محض ایک واقعہ تھا، اور اگر یہ دوبارہ پیش آیا بھی، پھر بھی زندگی میں کئی اور مقام آئے اور آتے رہیں گے۔
  • اس بات کا احساس کریں کہ اس ایک واقعہ کے ساتھ چمٹے رہنا اور اسے اپنی پہچان بنا لینا آپ کو احساس جرم دلاتا ہے اور احساس کمتری میں مبتلا کرتا ہے۔ آپ اپنے بارے میں نہائت محدود سوچ سے کام لے رہے ہیں۔
  • اس شناخت سے نجات حاصل کریں، اس فہم کے ساتھ کہ یہ آپ کی مکمل پہچان نہیں ہے
  • ایک بار پھر اپنی تمام زندگی کا احاطہ کریں اور ان سب مثبت اور تعمیری کاموں پر جشن منائں جو آپ نے کئیے۔
  • اس امر کو تسلیم کریں کہ جو آپ نے کیا وہ تباہ کن اور نقصان دہ تھا۔ آپ ابھی کوئی مکش یافتہ ہستی نہیں ہیں اور یہ کہ آپ سے بد فعلیاں سر زد ہوتی ہیں۔
  • اگرچہ یہ سچ ہے کہ جو ہوا اسے بدلا نہیں جا سکتا، مگر آپ اپنے کئیے پر نادم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ سوچتے ہیں کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا۔
  • اس چیز کا عزم کریں کہ اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ ایسا نقصان دہ فعل دوبارہ سر زد نہ ہو آپ اپنے فعل اور گفتار کے متعلق باخبر رہیں گے، اور اگر کوئی برا فعل یا بد کلامی ہونے کا امکان ہو تو اپنے آپ کو اس سے روکیں گے۔
  • آپ اپنی زندگی کو جس مثبت ڈگر پر ڈال رہے ہیں اس کی توثیق کریں – یعنی آپ اپنی کمزوریوں اور مسائل پر قابو پا کر اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طریق سے کام میں لا رہے ہیں۔
  • معافی مانگیں، کم از من ہی من میں، اس شخص یا اشخاص سے جنہیں آپ نے نقصان پہنچایا اور اپنے کئیے کی تلافی کرنے کی خاطر ان کے لئیے کوئی بھلائی کا کام کریں۔ اس بات کا عہد باندھیں کہ اگر آپ کی اس شخص سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو آپ وہ کچھ کریں گے جو آپ نے سوچا تھا۔ 

جو غلطی آپ نے کی اس کے بارے میں یہی اقدامات دوہرائں:

  • کوئی غلطی جو آپ سے سر زد ہوئی اس کو یاد کریں – مثلاً آپ نے کوئی اہم فائل کمپیوٹر پر سے سہواً مٹا دی ہو – آور آپ کس بری طرح سے اپنے اوپر ناراض ہوئے، ہو سکتا ہے کہ اپنے آپ کو گالی بھی دی ہو اور اپنے آپ کو احمق بھی کہا ہو۔ 
  • اپنے خیال میں وسعت پیدا کریں اور اپنی ساری زندگی کا احاطہ کریں اور اس بات کو سمجھیں کہ یہ محض ایک واقعہ ہے، اور اگر اس کا اعادہ ہوا بھی، پھر بھی زندگی میں بہت کچھ اچھا بھی ہوا اور آئیندہ بھی ہو گا۔ آپ عام طور پر کام صحیح طریق سے کرتے ہیں۔
  • اس بات کا احساس کریں کہ اس ایک واقعہ کے ساتھ چمٹے رہنا اور اسے اپنی پہچان بنا لینا آپ کو احساس جرم دلاتا ہے اور پریشانی میں مبتلا کرتا ہے۔ آپ اپنے بارے میں نہائت محدود سوچ سے کام لے رہے ہیں۔
  • اس شناخت کو دفع کریں، یہ سوچ کر کہ یہ آپ کے بارے میں مکمل حقیقت کا عکس نہیں ہے۔ 
  • تب ایک بار پھر اپنی پوری زندگی کا جائزہ لیں اور ان تمام کاموں کا جو آپ نے درست اور بھلے کئیے جشن منائں۔
  • اس امر کو تسلیم کریں کہ جو آپ نے کیا وہ آپ کی خطا تھی، اور یہ کہ کبھی کبھار آپ سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے – یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ 
  • اگرچہ یہ سچ ہے کہ جو ہوا اسے بدلا نہیں جا سکتا، مگر آپ اپنے کئیے پر نادم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ سوچتے ہیں کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا۔
  •  اس چیز کا عزم کریں کہ اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ ایسا نقصان دہ فعل دوبارہ سر زد نہ ہو۔ جب بھی آپ کمپیوٹر پر کام کر رہے ہوں تو آپ باخبر اور ہوشیار رہیں گے 
  • آپ اپنی زندگی کو جس مثبت ڈگر پر ڈال رہے ہیں اس کی توثیق کریں – یعنی آپ اپنی کمزوریوں اور مسائل پر قابو پا کر اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طریق سے کام میں لا رہے ہیں، جیسے کہ اپنی حرکات پر توجہ نہ دینا، اور اپنی بھر پور صلاحیتوں کو بروئے کار لانا۔
  • من کی ایک پر سکون حالت کے ہمراہ، من ہی من میں فیصلہ کریں کہ آپ سوچیں گے کہ اس فائل میں کیا تھا  اور اسے دوبارہ ٹائپ کریں گے۔ پھر اسے کر ڈالیں۔

خلاصہ

اپنی خطاؤں پر قصور وار ہونے کو معاف کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اوپر ناراض نہ ہوں اور اپنے آپ کو کوئی برا انسان نہ گردانیں، نہ ہی احساس جرم میں مبتلا ہوں یا اپنے آپ کو احمق جان کر گالی دیں۔ ہم اپنی پہچان کو محدود نہ بنائں محض کوئی ایسا انسان جو صرف غلطی ہی کرتا ہے، اور اس بات کو سمجھیں کہ یہ ہماری زندگی کی مکمل تصویر نہیں ہے۔ ہم اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس سے نمٹتے ہیں۔ اپنی خطا کا اقرار کرتے ہیں، اس پر نادم ہوتے ہیں، عہد کرتے ہیں کہ آئیندہ ایسا نہ ہو گا، اس مثبت راہ پر چلنے کی توثیق کرتے ہیں جس کی ہم کوشش کر رہے ہیں، اور یا تو اپنی غلطی کی معافی مانگتے ہیں اور اس کا ازالہ کرنے کی خاطر کوئی بھلائی کا کام کرتے ہیں، یا ہم اس غلطی کی اصلاح کرتے ہیں۔ 

Top