دوسروں کو معاف کر دینا

جب ہم اپنی توجہ کسی شخص کی غلطی سے موڑ کر اس کی الجھن یا پریشانی پر مرکوز کرتے ہیں تو ہم اس پر ناراض نہیں ہوتے اور درد مندی سے اسے معاف کر دیتے ہیں۔

توضیح 

آکسفورڈ لغت کے مطابق 'معافی' سے مراد کسی سے ناراضگی جو کہ ان کی زیادتی، غلطی یا کمزوری کے سبب پیدا ہوئی کو ختم کر دینا ہے۔ بعض کے نزدیک اس میں یہ بھی شامل ہے کہ جس شخص کے ساتھ زیادتی ہوئی یا کوئی بلند ہستی معاف کردے، جس سے غلطی کا مرتکب انسان کسی قسم کی سزا سے بری قرار پاتا ہے۔ 

بدھ مت میں من کے عناصر کے تجزیہ میں واضح طور پر عفو کی اصطلاح شامل نہیں ہے، مگر اس میں غصہ، رنجیدگی (جس میں کینہ پروری شامل ہے) اور ان کے متضاد، خصوصاً عدم ناراضگی اور بد سلوکی سے پرہیز شامل ہیں۔ 

  • 'ناراض نہ ہونے کا مطلب' ہے کہ کسی سے بدلہ لینے یا انہیں یا اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی تمنا جو ہمارے فعل کے باعث ہو سے پرہیز ہے۔
  • بد سلوکی سے پرہیز سے مراد اس درد مندی میں اضافہ ہے، اور ان کی دکھ اور اس کے اسباب سے نجات کی تمنا ہے۔

تو بودھی نکتہ نظر کے مطابق، ہمارے نقصان دہ اعمال کے باعث غیروں کے لئیے اور اپنے لئیے دکھ سے نجات کی تمنا ہے۔ لیکن کسی شخص کی بد اعمالیوں کے کرمائی نتائج سے اسے کوئی معافی نہیں دلوا سکتا، پس اس قسم کا احساس کہ میں تم سے زیادہ پارسا ہوں، جیسا کہ کسی پادری یا عدالت کے جج کو مجرموں کو معاف کرتے وقت  ہوتا ہے، اس کا کوئی خطرہ نہیں۔ 

بدھ مت میں عفو کے سلسلہ میں اہم بات اس چیز کا تعین ہے کہ، خواہ وہ ہم ہوں یا کوئی اور، انسان اور اس کی خطا یا اس کے نقصان دہ عمل کے بیچ تمیز ہے۔ یاد رہے کہ ہمارا تباہ کن رویہ اور خطائں اس وجہ سے نہیں کہ ہم کوئی برے انسان ہیں، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم علت و معلول بلحاظ رویہ اور حقیقت غلط فہمی کا شکار ہیں، اور مزید یہ کہ ہم نا سمجھ ہیں تو ہم غلطیاں کرتے ہیں۔ ہم محدود سمساری مخلوق ہیں، جو اضطراری رو بہ اعادہ الجھن اور مسائل کا شکار ہیں، اور اس لئیے درد مندی والی چیزوں کو غصب کرتے ہیں۔ ہم اپنی ذات کو کافی دکھ دیتے اور نقصان پہنچاتے ہیں، ہمیں مزید کوئی غلط حرکت کرنے کی ضرورت نہیں۔ 

تو بودھی نکتہ نظر سے عفو سے مراد ہے:

  • انسان اور اس کے فعل کے درمیان تمیز، خواہ وہ ہم ہوں یا کوئی اور
  • ان پر یا اپنے آپ پر ناراضگی اور بد سلوکی سے پرہیز
  • درد مندی کا احساس اس تمنا کے ساتھ کہ جس شے نے ہمیں تباہ کن رویہ یا غلطی کی ترغیب دی اس سے چھٹکارا ملے۔

لیکن نقصان دہ رویہ اور خطا کے معاملہ میں ہم یہ نہیں کرتے کہ آرام سے بیٹھے رہیں اور کچھ نہ کریں۔ ہم مزید منفی رویہ کو روکنے اور غلطیوں کی اصلاح  کے لئیے ضروری اقدامات کرتے ہیں – لیکن بغیر ناراضگی یا کینہ پروری کے، یا کسی متکبر احساس کے کہ ہم انہیں معاف کر رہے ہیں۔ 

مراقبہ

گو کہ ہمیں معافی استوار کرنے میں اپنے آپ کو اور دوسروں کو شامل کرنا چاہئیے، لیکن آج ہم دوسروں پر بات کریں گے۔ اگلی بار ہم اپنے آپ کو زیر بحث لائں گے۔

  • سانس پر ارتکاز کے ذریعہ پُر سکون ہو جائں۔
  • کسی ایسے شخص کو تصور میں لائں جس نے آپ کو نقصان پہنچایا یا ناراض کیا اور آپ غصہ میں آ گئے اور کینہ پروری تک اترآئے، جس کے نتیجہ میں آپ اس بارے میں سوچتے رہے اور ناراض اور پریشان رہے۔
  • اپنے احساسات کا اعادہ کریں اور دھیان میں لائں کہ یہ ایک عدم مسرت کا اور من کی پریشانی کا احساس تھا۔ 
  • اب اپنے من میں اس شخص میں اور اس کے فعل میں تفریق کریں۔ یہ محض ایک واقعہ ہے، خواہ ایسا اس کی تمام زندگی کے دوران بارہا ہوا ہو۔
  • وہ شخص، اور سب کی طرح، میرے سمیت، مسرت نہ کہ عدم مسرت کا تمنائی تھا، لیکن اس فہم سے عاری تھا کہ کون سی چیز اسے خوشی دے گی، چنانچہ اس عدم مسرت کی بنا پر بے خبری اور لا علمی کے باعث ایسی حرکت کا مرتکب ہوا جس سے آپ کو نقصان پہنچا یا آپ کے لئیے موجب ناراضگی ہوا۔
  • غور کریں کہ آپ جتنا زیادہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے جاتے ہیں اتنا ہی آپ کا غصہ کم ہوتا جاتا ہے۔ 
  • اس کے لئیے درد مندی استوار کریں، اس امر کی تمنا کہ وہ غلط فہمی اور عدم مسرت سے نجات پائں جو آپ کو دکھ دینے اور آپ کو ناراض کرنے کا سبب بنی۔ 
  • اس بات کا عہد کریں کہ کسی مناسب موقع پر جب آپ پر سکون ہوں اور وہ بات سننے کے موڈ میں ہوں، انہیں ان کی غلطی کا احساس دلائں کہ ان کی کس حرکت سے آپ کو دکھ پہنچا اور معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ 

جس نے خطا کی اس کے ساتھ درج ذیل کا اعادہ کریں:

  • ان کی خطا کو یاد کریں اور یہ کہ آپ کیسے ان سے ناراض ہوئے۔
  • یاد کرنے کی کوشش کریں کہ آپ کو کیسا محسوس ہوا اور دیکھیں کہ یہ احساس من کی کوئی پر مسرت یا پر سکون حالت نہیں تھی
  • اب اپنے من ہی من میں اس شخص جس سے غلطی سر زد ہوئی اور اس کی غلطی کے درمیان تمیز کی کوشش کریں
  • وہ شخص، اور سب کی طرح، میرے سمیت، مدد کرنے کا تمنائی تھا، نہ کہ خطا وار ہونے کا  لیکن اس فہم سے عاری تھا کہ کوئی کام کیسے احسن طریقہ سے کیا جائے یا یہ کہ بہترین لائحہ عمل کیا ہو گا، یا یہ کہ اس کی توجہ بٹی ہوئی تھی، یا کاہلی کا شکار تھا، یا جو بھی، تو اس نے لا علمی اور پریشان کن جذبات سے مغلوب ہو کر یہ غلطی کی۔ وہ محدود سمساری ہستیاں ہیں، پس ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ ہمیشہ کامل ہوں گے اور کبھی غلطی نہیں کریں گے غیر حقیقت پسندی ہے۔ 
  • غور کریں کہ آپ جتنا زیادہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی آپ کا غصہ کم ہوتا جاتا ہے۔
  • ان کے لئیے درد مندی استوار کریں، اس بات کی تمنا کہ وہ الجھن ، لا علمی اور پریشان کن جذبات جو ان کی خطا کا موجب بنے، ان سے نجات حاصل کریں۔ 
  • اس بات کا عہد کریں کہ کسی مناسب موقع پر جب آپ پر سکون ہوں اور وہ بات سننے کے موڈ میں ہوں، انہیں ان کی غلطی کا احساس دلائں اور معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ 

خلاصہ

عفو سے مراد کسی شخص کو اس کے تخریبی رویہ یا خطا کے لئیے معاف کر دینا نہیں، جیسا کہ ہم کوئی اس کی نسبت پاکباز یا کامل ہستی ہیں، وہ ہم سے کمتر ہیں، پس ہم اپنے متکبر اختیار کو کام میں لا کر، انہیں معاف کر دیتے ہیں، خواہ وہ اس پر پشیمان نہ بھی ہوں۔ عفو کا مطلب ہے کہ کسی پر ناراض نہ ہونا، غصہ نہ کرنا، کینہ پروری سے پرہیز اور بدلہ نہ لینے کی نیت کرنا۔ ہم عامل اور اس کے فعل کو الگ الگ دیکھتے ہیں، اس شخص کے لئیے درد مندی پیدا کرتے ہیں اور ان کے فعل کی درستی کے لئیے اقدامات کرتے ہیں یا ان کی مدد کرتے ہیں کہ وہ پھر ایسی حرکت نہ کریں۔ ایسا کرنے سے ہم ان غلطیوں اور عدم مسرت سے بچتے ہیں جو غصہ سے جنم لیتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب کہ غصہ سے غصیلے خیالات جنم لیں،بد کلامی اور معاندانہ گفتار پیدا ہو، اور غصہ سے مغلوب رویہ استوار ہو۔

Top