موت کے متعلق حقیقت پسندی

اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ زندگی مختصر ہے اور کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہے، ہم با مقصد کام سر انجام دینے کے مواقع کھونے سے گریزاں ہوتے ہیں۔

توضیح

موت ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں اکثر لوگ سوچنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن موت زندگی کی ایک کڑی حقیقت ہے جس کا سب کو سامنا کرنا ہے۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو ایک ناگزیر ہونی کے لئیے تیار نہیں کیا، تو ہماری موت خوف اور پچھتاوے کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ اس لئیے موت پر مراقبہ نہائت مفید اور اہم ہے۔ 

ہم موت پر کئی ایک مراقبے کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر اس بات کا تصور کرنا کہ اگر ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہمیں کوئی موذی لا علاج مرض لاحق ہے تو ہم اس سے کیسے نمٹیں گے۔ مندرجہ ذیل مراقبہ ایک عمومی مراقبہ ہے جو اپنے رویہ اور برتاؤ کو بہتر بنانے کے لئیے کیا جاتا ہے جب کہ ہمیں ابھی اس کے مواقع میسر ہیں۔ اس مراقبہ میں، اپنے سانس پر ارتکاز کے ذریعہ طبیعت کو پر سکون بنا کر، ہم درج ذیل نکات پر غور کرتے ہیں:

مراقبہ

موت نا گزیر ہے، کیونکہ:

  • یہ امر یقینی ہے کہ موت ایک دن آئے گی، اور ہم اسے کسی صورت بھی ٹال نہیں سکتے – پوری تاریخ انسانی میں ہر کس جس نے جنم لیا اسے موت کا مزہ چکھنا پڑا، تو ہمارے اندر ایسی کونسی بات ہے کہ ہم اس سے دو چار نہیں ہوں گے؟
  • جب ہماری موت کا وقت آ جائے تو ہماری زندگی کا دورانیہ بڑھایا نہیں جا سکتا اور یہ کہ ہماری زندگی کی بقیہ مدت متواتر کم ہو رہا ہے، زندگی کے ہر لمحے ہم عمر رسیدہ ہو رہے ہیں اور موت سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، نہ کہ جوان اور موت سے دور۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی مال بردار چلتی ہوئی پٹی پر سوار مسلسل اپنی نا گزیر موت کی جانب رواں ہونا۔ 
  • موت تو آ ہی جائے گی خواہ ہم نے من کا سکون پانے یا تاسف کم کرنے کے لئیے کوئی اقدامات کئیے یا نہیں – موت آ سکتی ہے، جیسے کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے یا کار کے حادثہ سے، اچانک جب کہ ہم اس کی قطعی توقع نہیں کر رہے ہوتے۔

ہمیں موت کب آئے گی اس کا کچھ یقین نہیں، کیونکہ:

  • ہماری زندگی کی مدت کا کچھ پتہ نہیں – مرنے کے لئیے بوڑھا ہونا لازم نہیں۔
  • زندہ رہنے کی نسبت موت کے آنے کے امکانات زیادہ ہیں – عالمگیر افزوں پذیر حرارت کے سبب، قدرتی آفات اور مہلک وباؤں میں اضافہ ہو رہا ہے؛ بتدریج قلت پذیر قدرتی وسائل اور معاشی نا انصافیوں کے باعث خون خرابہ بڑھتا جا رہا ہے؛ افزوں پذیر مایوسی کے سبب منشیات کے حد سے متجاوز استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ 
  • ہمارے جسم بہت نازک ہیں – معمولی سی بیماری یا کوئی حادثہ ہماری موت کا باعث ہو سکتا ہے۔ 

اپنے رویہ اور طور اطوار کو بہتر بنانے، بطور حفظ ما تقدم، پر کام کرنے کے علاوہ اور ہم کیا کر سکتے ہیں جو ہمیں بوقت مرگ من کا سکون دے اور تاسف سے بچائے۔ اگر ہمیں ابھی موت آ گھیرے:

  • ہماری دولت کسی کام نہیں آئے گی – ہمارا روپیہ پیسہ کمپیوٹر پر ایک پردہ کی مانند ہو گا
  • دوست احباب کوئی مدد نہیں کر سکیں گے – ہمیں انہیں چھوڑ کر جانا ہو گا اور اگر وہ ہمارے ارد گرد آہ و زاری کریں گے، تو وہ ہمارے لئیے پریشانی کا سبب ہوں گے
  • ہمارا جسم بھی کچھ کام نہیں آئے گا – اس فالتو وزن سے بھلا ہمیں کیا آرام ملے گا؟ 

پس ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سود مند فعل یہی ہو گا کہ ہم ایسے اقدام اٹھائں جو ہمیں خوف اور ندامت کے بوجھ تلے مرنے سے بچائے۔

خلاصہ

موت کے یقینی ہونے کے بارے میں با خبر رہنے کا مقصد اپنے آپ کو مایوسی اور خوف سے لبریز کرنا نہیں ہے۔ جب ہمیں اس بات کا احساس ہو جائے کہ ہماری زندگی کا باقی ماندہ دورانیہ محدود ہے اور کوئی بھی وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کب انجام کو پہنچے، تو ہم ان احسن مواقع اور وقت سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی تحریک پکڑتے ہیں جو ہمیں میسر ہیں۔ موت سے باخبری ہمیں تساہل اور التوا پذیری پر قابو پانے میں معاون ہوتی ہے جو ہمیں ایسے مثبت اقدامات اٹھانے سے روکتی ہیں جو حالات کو مستقبل میں بد تر بنائں۔  

Top