زندگی کو با مقصد بنانا

جب ہمیں اپنی زندگی کے معمولات کی بے مقصدیت کا احساس ہوتا ہے، تو ہم ایک با مقصد موقف جس سے ہم اپنی کمزوریوں اور صلاحیتوں پر کام کر سکیں، اختیار کرتے ہیں۔

توضیح

ہم میں سے کئی لوگ اپنی زندگی کو بے راہرو پاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہمارا پیشہ ورانہ کام بیکار قسم کا ہو، یا ہم بے روز گار ہوں اور حالات کے بہتر ہونے کی کوئی امید نظر نہ آتی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم ابھی طالب علم ہیں مگر اپنی تعلیم کی قدر و قیمت پر متشکک ہوں۔ ہم حالات کے مزید خراب ہونے کے امکان پر خوف زدہ ہیں اور شدید مایوسی کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ اس سب کی موجودگی میں، ہم کوئی ایسا با مقصد کام کرنا چاہیں جس سے دنیا میں مثبت تبدیلی آئے، اور ہم اسے دوسرے لوگوں کے ساتھ بانٹنا چاہیں گے۔ ہم میں سے کئی لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بہت سارا پیسہ کما کر اور بہت مال اسباب اکٹھا کرنے سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہو گا۔ 

بدھ مت اس مسٔلے سے محفوظ راہ کے عنوان کے حوالے سے نبرد آزما ہوتا ہے، جس کا عمومی ترجمہ پناہ ہے۔ جب ہم یہ جان لیں کہ ہماری قیمتی زندگی بہر صورت موت کی شکل میں اختتام پذیر ہو گی اور بد ترین پنر جنم ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے اگر ہم نے اپنی اس زندگی میں کوئی مثبت کام نہیں کئیے، تو ہم اس کی روک تھام کی فکر کرتے ہیں۔ ویسے اگر ہم پنر جنم کو نہ بھی مانتے ہوں، پھر بھی ہم اپنی موجودہ قیمتی زندگی کی قدر و قیمت کو پہچان سکتے ہیں اور، اس احساس کے ساتھ کہ مبادا ہماری موت اس ندامت کے ساتھ واقع ہو کہ ہماری زندگی کس قدر بے مقصد تھی، ہم اس زندگی میں ہی حالات کے بد تر ہونے کے امکان  سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔

وہ محفوظ راہ جو بدھ مت پیش کرتا ہے تین قیمتی جواہر سے عبارت ہے۔ سب سے بڑا جوہر دھرم ہے – حقیقی روک تھام اور سچے من کے راستے – تا کہ، ہم اپنے آپ پر کام کر کے اپنی کمزوریوں پر قابو پا سکیں اور تمام صفات کو پروان چڑھا کر اپنی تمام صلاحیتوں سے استفادہ کر سکیں۔ کمزوریوں میں پریشان کن جذبات، عدم ارتکاز ، خود ستائش، موثر انداز میں ہمکلامی کا فقدان، وغیرہ شامل ہیں۔ احسن عادات میں بنیادی انسانی اقدار جیسے رحم دلی، درد مندی، صبر، سمجھوتہ، عفو، ایمانداری وغیرہ مزید یہ کہ احساس خلق، ارتکاز اور دانش وری شامل ہیں۔ ان چیزوں کے حصول کے لئیے کام کرنا جیسا کہ مہاتما بدھوں نےمکمل طور پر اور اعلیٰ بر گزیدہ گرووں نے جزوی طور پر کیا، بلا شبہ ہماری زندگی کو با مقصد بنا دے گا۔ 

گو کہ ہم دوسروں کے ساتھ کچھ چیزیں بانٹنا پسند کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم محض اپنی کامیابیاں سماجی چوپالوں پر ڈالیں، بلکہ ترقی پذیر خود اعتمادی کے ساتھ ہم دوسروں کے ساتھ ، جس طرح بھی ہم ان کی مدد کر سکیں، اپنی ترقی بانٹتے ہیں۔ پس، زندگی کو محفوظ ڈگر پر ڈالنے کی بنیاد زندگی میں حالات کے بد تر ہوجانے کے خوف سے منسلک ہے، اس حقیقت کا یقین کہ اپنے اوپر کام کرنا ہی وہ محفوظ راہ ہے جو ہماری زندگی کو بد تر ہونے سے بچا سکتی ہے، اور دوسرے لوگوں کا درد اور درد مندی جن کی ہم اپنی کامیابیاں ان کے ساتھ بانٹ کر مدد کرنا چاہیں گے۔ 

مراقبہ

  • سانس پر ارتکاز کے ذریعہ پر سکون ہو جائں۔ 
  • اپنی زندگی کا جا ئزہ لیں اور دیکھیں کیا واقعی یہ با مقصد ہے۔
  • اس بات پر غور کریں کہ آپ کیسے دوسروں کے ساتھ چیزیں بانٹنا پسند کرتے ہیں
  • اس بات پر غور کریں کہ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے کس طرح آپ کی زندگی میں مقصد کی آمد ہو گی اور آپ دوسروں کے ساتھ کوئی مفید شے بانٹنے کے قابل ہوں گے، کوئی معمولی چیزیں نہیں، اور یہ کیسی عمدہ بات ہو گی کہ جو آپ نے بانٹا – محض آن لائن ہی نہیں، بلکہ رو برو ملاقات میں بھی – اس سے ان کو کسی طور فائدہ پہنچا۔ 
  • زندگی میں کوئی مقصد نہ ہونا ایسے ہی ہے جیسا کہ کسی پہاڑی سے گہری کھائی میں جا گرنا۔
  • یہ تصور کریں کہ اپنے آپ کو بہتر بنا کر کیسے اس گہری کھائی میں گرنے سے بچ سکتے ہیں اور یہ ایک ایسا عمدہ تحفہ ہو گا جو آپ دوسروں کے ساتھ بانٹیں گے۔ 
  • اس سمت کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا عزم کریں۔ 
  • اسی چیز کا پھر تصور کریں، مگر اس بار آپ پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ 
  • اسی چیز کا پھر تصور کریں، مگر اس بار آپ چوٹی سے ذرا فاصلے پر ہیں پر دھیرے دھیرے اس کی جانب سرک رہے ہیں۔

خلاصہ

جب ہماری زندگی گھسی پٹی ڈگر پر چلنے لگے، بیزار کن اور بے مقصد ہو جائے، تو ہمیں پیش قدمی سے کام لینا ہو گا۔ ہمیں اپنی زندگی میں مثبت راہ تلاش کرنی چاہئیے، ایسی جو کہ با مقصد ہو نہ صرف ہمارے لئیے بلکہ اوروں کے لئیے بھی۔ اس راہ سے مراد ہمارا اپنے اوپر کام کر کے اپنی کمزوریوں پر قابو پانا اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ خواہ ہمارا حتمی ہدف اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو یا نہ ہو، جیسا کہ مہاتما بدھوں نے کیا یا اور بر گزیدہ ہستیوں نے کسی حد تک اسے پایا – پھر بھی، اس راہ پر چل کر ہماری زندگی کا معیار بہت بلند ہو سکتا ہے۔

Top