احساس فکر مندی پیدا کرنا

دوسروں کو انسان جان کر، جن کے جذبات ہم جیسے ہی ہیں، ان کے لئیے اس بات کااحساس اور فکر پیدا کرتے ہیں کہ ہم ان سے کیسے پیژ آئیں اور ایسے بات کریں کہ ان کے جذبات متاثر نہ ہوں۔

توضیح

اب جب کہ ہم نے اپنے سانس پر ارتکاز کے توسط سے، جو کہ کسی بھی مراقبہ کی شرط اول ہے، اپنے من کو پر سکون کر لیا ہے، تو اب ہم من کی ایک مثبت اور تعمیری صورت بنانے کو تیار ہیں۔ لوگوں سے میل ملاقات کرنے کی خاطر، سب سے اہم چیز ان کے لئیے پر خلوص احساس فکر مندی ہونا لازم ہے۔ اس کا مطلب انہیں اہم جاننا ہے، ایسے لوگ جن کے ہماری طرح جذبات ہیں۔ اس حقیقت سے چشم پوشی اور بے حسی استوار کرنا آسان ہے، تاہم، جب ہم مصروف ہوں یا پریشان ہوں یا اپنی ذات میں مگن ہوں۔ لیکن ہم جس قدر زیادہ اپنے مسائل اور اپنے جذبات پر توجہ دیتے ہیں، اتنا ہی زیادہ نا خوش ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہم اپنے گرد وسیع تر حقیقت سے بے خبر ہیں۔

چونکہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے؛ تو ہم سب اپنی فلاح و بہبود کے لئیے ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ ہمیں آپس میں معاملہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ چنانچہ لوگوں کے ساتھ حقیقت پسند اور صحت مند انداز سے معاملہ کرنے کی خاطر ہمیں خلوص کے ساتھ ان کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھنا چاہئیے۔ خاص طور پر، ہمیں ان کے حالات اور جذبات کو حقیقت کے آئنہ میں دیکھنا چاہئیے، خصوصاً جس طرح ہم ان سے پیش آتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب ہم کسی سے ملتے ہیں، تو جو ہمارے ساتھ دن میں پیش آیا وہ ہمارے مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے، تو ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ جب ہم ان سے ملے ہیں تو وہ کہیں آسمان سے نازل نہیں ہوئے۔ ان کا حالیہ مزاج ہماری ملاقات پر اثر انداز ہو گا، جیسا کہ ہمارا۔ اگر ہم اس صورت حال کی حقیقت سے نا بلد ہیں، اپنے اور ان کے یعنی دونوں کے بارے میں، تو ہماری ملاقات ویسی نہیں ہو گی جس کی ہم توقع کر رہے تھے۔ مزید یہ کہ ہم ان سے کیسے بات کرتے ہیں اور ان سے کیسا برتاؤ کرتے ہیں اس کا ان کے جذبات پر اثر ہو گا، بالکل ویسے ہی جیسا کہ ان کی گفتار اور رویہ کا ہمارے اوپر اثر ہو گا۔ جب ہم اپنے آپ کو ان حقائق سے با خبر رکھیں اور لوگوں سے ملاقات کے وقت ان پر نظر رکھیں  - خواہ وہ دوست ہوں، اجنبی ہوں یا ایسے لوگ جو ہمیں نا پسند ہیں – تو ہماری ملاقاتیں ہمارے لئیے اور ان کے لئیے زیادہ ثمر آور اور تسلی بخش ہو جائں گی۔ 

مراقبہ

  • سانس پر ارتکاز کے ذریعہ پر سکون ہو جائں۔ 
  • پر سکون من کے ساتھ، بلا تمیز، کسی ایسے انسان کا تصور کریں جس سے آپ قربت محسوس کرتے ہیں اور اس کی صحبت کو پسند کرتے ہیں
  • ان سے ایسے پیش آئں کہ وہ ایک انسان ہیں جو جذبات کا مالک ہے،
  • جیسا کہ میں ہوں۔
  • آپ کا مزاج ہمارے باہمی تعامل پر اثر انداز ہو گا،
  • جیسا کہ میرا مزاج اس پر اثر ڈالے گا۔
  • میں آپ سے کیسے پیش آتا ہوں اور کیا کچھ کہتا ہوں کا اثر بھی آپ کے جذبات پر ہو گا۔
  • اس لئیے، جیسا میں آپ سے توقع کرتا ہوں کہ ہمارے تعامل میں آپ میرے جذبات کا لحاظ رکھیں گے، ویسے ہی میں آپ کی فکر کرتا ہوں۔ میں آپ کے جذبات کا احساس کرتا ہوں۔
  • اب کسی واقف کار یا کسی اجنبی کا تصور کر کے، جس کے لئیے آپ کوئی خصوصی جذبات نہیں رکھتے، جیسا کہ وہ شخص جو سینما گھر میں آپ کی ٹکٹ لیتا ہے، سارے عمل کو دوہرائں۔
  • اب پھر سارے عمل کو دوہرائں کسی ایسے انسان کو تصور میں لا کر جسے آپ پسند نہیں کرتے اور جس کی محفل میں آپ بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ 

خلاصہ

یہ مراقبہ کئی ایک چیزوں کے لئیے استعمال ہو تا ہے اور اسے کافی بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ہم مختلف عمر، مختلف جنس اور مختلف نسل وغیرہ کے لوگوں پر اوپر بیان شدہ تین طبقات میں اس کا اطلاق کر سکتے ہیں۔ ہم اس مراقبہ سے اپنے اوپر بھی ارتکاز کر سکتے ہیں۔ ہم بھی انسان ہیں اور جذبات رکھتے ہیں؛ اور جس طرح ہم اپنے آپ سے پیش آتے ہیں اور من ہی من میں اپنے آپ سے ہمکلام ہوتے ہیں اس کا ہمارے جذبات پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس طرح ہم اپنے لئیے بھی فکر مندی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

Top