احساس درد مندی

جب ہم اپنے مسائل اور ان کے اسباب سے نجات کا مصمم ارادہ کر لیں، ہم اپنی توجہ دوسروں کی جانب پھیرتے ہیں اور، درد مندی سے، ان کے لئیے بھی ویسی ہی آزادی کی تمنا کرتے ہیں۔

توضیح

ایک بار جب ہم فکر مند اور حقیقت پسند طور طریقہ استوار کر لیں، تو اگلا مرحلہ دوسروں کے لئیے درد مندی پیدا کرنا ہے۔ درد مندی سے مراد دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور ان پر ترس کھانا نہیں ہے بلکہ تعلق خاطری ہے یعنی ان کے احساس کو محسوس کرنا ہے۔ پس درد مندی سے مراد دوسروں کی آزار اور ان کے اسباب سے نجات کی تمنا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے لئیے ان سے نجات چاہتے ہیں۔ اس سے مراد خام خیالی نہیں لیکن اس بات کی فہم ہے کہ یہ نا امیدی پر مشتمل ہے؛ بلکہ اس کی اساس اس یقین پر ہے کہ ان سے آزادی پانا ممکن ہے۔ درد مندی میں کسی حد تک مدد کرنے کی خواہش اور نیت جو ہمارے بس میں ہو کا عنصر بھی شامل ہے۔ یہ محض غیر فعال نہیں ہے۔ ہم کوئی مادی مدد فراہم کرتے ہیں، اگر ضرورت پڑے تو، یا ہم من ہی من میں ایسی من کی حالت پیدا کرتے ہیں جس کی دوسرے لوگوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لئیے ضرورت ہوتی ہے اور ہم اسے ان کی جانب روانہ کرنے کا تصور کرتے ہیں۔

مراقبہ

  • سانس پر ارتکاز کے ذریعہ پر سکون ہو جائں۔
  • اس بات کا تصور کریں کہ زلزلہ کے باعث آپ کا گھر بار سب کچھ تباہ ہو گیا اور آپ نیلے آسمان تلے سوئں گے، اور دانہ پانی کے لئیے جد و جہد کرنا پڑے گی، اور زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے کے لئیے آپ کے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہیں۔ آپ بری طرح مایوس اور دل برداشتہ ہیں۔
  • اس بات کا تصور کریں کہ کس شدت سے آپ کی یہ خواہش ہو گی کہ اس صورت حال سے نجات ملے اور آپ کو یہ احساس ہو کہ اس عدم مسرت کا سبب دل شکستگی ہے، پس اس صورت حال سے نکلنے کا مصمم ارادہ کریں اور از سر نو تعمیر کے وسائل تلاش کریں۔
  • پھر اپنی ماں کو ایسی ہی صورت حال سے دو چار تصور کریں اور اپنی نجات کے لئیے قائم شدہ مصمم ارادے کو اپنی ماں کے لئیے وقف کر دیں اور درد مندی استوار کریں – اس کے لئیے اس صورت حال سے چھٹکارے کا مصمم ارادہ۔
  • اس کے لئیے امید کا دامن نہ چھوٹنے کی تمنا اور از سر نو تعمیر کی ہمت اور طاقت۔
  • پھر ہزاروں نیپالی لوگوں کے لئیے جو کہ اس وقت اس صورت حال سے دوچار ہیں اسی بات کو تصور میں لائں اور ان کے لئیے درد مندی پیدا کریں۔
  • جذباتی ہیجان کے لئیے بھی ایسا ہی لائحہ عمل اختیار کریں۔ کوئی ایسا وقت یاد کریں جب آپ بھی جذباتی عدم توازن سے دوچار تھے، اور اس بات کا احساس رکھتے ہوئے کہ ایک پر سکون اور شفاف من استوار کر کے جذباتی توازن قائم کیا جا سکتا ہے، پریشانی سے نجات کا پختہ ارادہ قائم کریں۔ 
  • پھر اس کا رخ اپنی ماں کی طرف پھیر دیں، اور پھر تمام ہستیوں کی جانب۔ 

خلاصہ

جیسا کہ ہم مسرت کے طلبگار ہیں اور عدم مسرت سے گریزاں ہیں، تو یہ سب پر عائد ہوتا ہے۔ ہر کوئی، ہماری طرح، اپنے مسائل اور آلام سے نجات چاہتا ہے۔ ان کے لئیے درد مندی پیدا کرنے کی خاطر – ان کی دکھ سے آزادی کی تمنا – اس کے لئیے ہمیں اپنے مسائل کا اعتراف کرنا اور ان سے نبرد آزما ہونا ہے اور ان سے نجات کی زبردست آرزو کرنا ہے۔ ہمارا اپنے مسائل سے نجات کا ارادہ جس قدر زیادہ مضبوط ہو گا، ہم اتنا ہی بہتر طور پر دوسروں کے دکھ درد سے تعلق خاطری قائم کر سکیں گے اور مسائل سے نجات کے حصول میں ان کی مدد کر سکیں گے۔ دوسروں کی خاطر اس قسم کا مضبوط ارادہ "درد مندی" کہلاتا ہے۔

Top