اضطرار پر قابو پانا

کچھ کہنے یا کرنےکی احتیاج اور اس پر عمل درآمدگی کے بیچ وقفہ کے دوران ہمیں اس کے نتائج کا احاطہ کرنے کی مہلت ملتی ہے تا کہ ہم اس پر عمل کرنے سے باز رہیں۔

توضیح

کرم کا تعلق ہماری اضطراری کیفیت سے ہے۔ اس سے مراد وہ اضطراری احتیاج اور من کی اکساہٹ ہے جو، کسی پریشان کن جذبہ یا مزاج سے تحرک پا کر، ایک مقناطیس کی مانند، ہمیں کچھ کرنے، کہنے یا سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ 

ان اضطراری احتیاجات کے زیر اثر عمل کاری سے اضطراری طور پر مادی، زبانی یا ذہنی عمل کو دوہرانے کا میلان پیدا ہوتا ہے۔ جب مختلف حالات پیدا ہوتے ہیں – داخلی طور پر جیسا کہ پریشان کن جذبات کی استواری یا خارجی طور پر جن حالات سے ہم دوچار ہیں یا جن لوگوں سے ہمیں راہ و رسم ہے – تو یہ رحجانات اس فعل کو دوہرانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تب پھر ہم، نتائج کی پرواہ کئیے بغیر، احتیاجاً انہیں دوہراتے ہیں۔ اس اضطراری رویہ سے عدم مسرت ملتی ہے یا ایسی مسرت جو کبھی بھی طمانیت بخش نہیں ہوتی۔ ایسے رویہ کے پس پشت اضطراری احتیاج کو ہم کرم کہتے ہیں۔ 

یہ مسائل کا منبع ہے، کیونکہ ایسا طور طریقہ پریشان کن جذبات سے ماخوذ ہے: 

  • رویہ کے اضطراری اطوار – مثلاً  احتیاج کے طور پر اپنے فون پر پیغام اور فیس بک کو چیک کرنے کی اضطراری کیفیت مبادا کسی بات سے محروم نہ رہ جائں؛ یا ایسا انجان پن اور دوسروں کے احساسات پر عدم توجہی تو کھانے کی میز پر اپنے والدین کی موجودگی میں ٹیکسٹ پیغام بھیجنا؛ یا غصہ کے سبب بھیڑ میں پھنس جانے پر مستقل ہارن بجانا اور دوسرے لوگوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا۔
  • گفتار کے اضطراری اطوار - جیسے عدم تسکین جو اضطراری شکائت گری کا باعث ہو؛ اپنی ذات کی حد سے متجاوز اہمیت گری اور معاندت جس کے نتیجہ میں اضطراراً تنقید کی خشت باری اور ایک دھونسو کی مانند جارحانہ انداز سے بات کرنا؛ شرمیلا پن اور کسر نفسی جس کے نتیجہ میں نہائت دھیمے انداز میں بات کرنا۔
  • فکر کے اضطراری اطوار – جیسے عدم تحفظ جو اضطراری پریشانی کا سبب ہو؛ حقیقت کے بارے میں بھولپن یا حقیقت سے چشم پوشی جو اضطراری خیالی پلاؤ پکانے پر مجبور کرے۔

مندرجہ بالا تمام مثالیں ایسے خود تلف کن اضطراری طور اطوار کی ہیں جس سے عدم مسرت وجود میں آتی ہے۔ لیکن کچھ ایسی تعمیری بھی ہیں جو کہ تاہم نیوراتی ہیں – جیسے کمال پسندی، دوسروں کے منطق کو احتیاجاً درست کرتے رہنا، اضطراری بھلے مانس جو کبھی کسی کو "نہ" نہیں کرتے، دیوانگی کی حد تک  کام کے شیدائی، وغیرہ۔ اس کے پیچھے کوئی مثبت جذبہ کار فرما ہو سکتا ہے، جیسا کہ ہم دوسرے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، یا بہتری کے خواہاں ہیں، لیکن چونکہ اس کے پیچھے پہلے سے کوئی خیال مسلّط ہے یا "میں" کی افراط پائی جاتی ہے – "مجھے" اچھا بننا ہے، "مجھے" مطلوب ہونا ہے، "مجھے" کامل ہونا ہے، تو ان سے ہمیں عارضی خوشی ملتی ہے، جیسا کہ جب ہم کوئی کام اچھی طرح کرتے ہیں، لیکن وہ خوشی دیرپا نہیں ہوتی اور یہ ایک مشکل ہے۔ مثال کے طور پر، ہم یہ محسوس کریں کہ ہم نے خاطر خواہ بھلا نہیں کیا یا ہمیں باہر جا کر اپنی قدر و قیمت کو ثابت کرنے کی خاطر کوئی بھلائی کا کام کرنا چاہئیے۔

اولاً، ہمیں دھیما اور پر سکون ہونا ہے۔ صرف اس صورت میں ہی ہم اس قابل ہوں گے کہ جب ہم کچھ کہنا یا کرنا چاہیں اور جب ہم اسے اضطراری طور پر کر گزریں کے درمیان تفاوت کو پہچان سکیں۔ ان دو کے درمیان ایک وقفہ ہوتا ہے جس میں ہمیں جانچنے کی مہلت ملتی ہے کہ، کیا اس کے پیچھے کوئی  پریشان کن جذبہ ہے،کیا میں خواہ مخواہ اپنے آپ کو کوئی نا ممکن کام کرنے پر مجبور کر رہا ہوں (جیسے ہمیشہ کامل ہونا)، کیا اس کو کرنے کی کوئی جسمانی ضرورت ہے (جیسے کھجانا)، کیا یہ سود مند ہوگا یا نقصان دہ؟ پس امتیازی آگہی کے ساتھ تجزیہ کریں اور پھر ضبط نفس کے ساتھ اس احساس پر عمل در آمد سے گریز کریں یہ جان کر کہ جو ہم کرنا یا کہنا چاہ رہے ہیں اس کا کوئی معقول جواز موجود نہیں ہے، سوائے کسی نیوراتی وجہ کے۔ اس کے لئیے ہمارے قول، فعل اور فکر کے بارے میں من کی ہوشیاری درکار ہے، لہٰذا سارا دن ہم دروں بینی سے کام لیں اور ضبط نفس کو قائم رکھیں۔ 

ہمارا ہدف یہ ہے کہ امتیازی آگہی کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو غیر اضطراری طور پر عمل در آمد سے کام لیں، ہمارے رویہ کے پس پشت مثبت جذبات ہوں اور ہم اپنے اور حقیقت کے بارے میں کم سے کم الجھن کا شکار ہوں۔ 

مراقبہ

  • سانس پر ارتکاز کے ذریعہ پر سکون ہو جائں۔
  • اپنے فعل، گفتار اور فکر کے اضطراری طور اطوار کی شناخت کریں
  • ان میں سے کسی ایک کو پکڑ کر اس کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ کیا اس کے پس پشت کوئی پریشان کن جذبہ ہے یا کسی نا ممکن شے کو پانے پر اصرار – جیسے کبھی کوئی غلطی نہ کرنا۔
  • یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ جب آپ کا رویہ اضطراری ہوتا ہے تو آپ اپنے لئیے مسائل پیدا کرتے ہیں یا پھر دوسرے لوگوں کے لئیے مسائل اور مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔ اور یہ کہ اس سے عدم مسرت جنم لیتی ہے یا عارضی قسم کی غیر اطمینان بخش مسرت۔ 
  • اس بات کا عہد کریں کہ آپ جو کچھ کہنا یا کرنا چاہتے ہیں اس کا امتیازی تجزیہ کریں گے، جیسا کہ شانتی دیو نے نصیحت فرمائی، کہ یہ کب خود تلف ہو گا یا ہم محض اپنی انا پروری میں مشغول ہیں، تو ضبط نفس سے کام لیں اور لکڑی کے ایک انگھڑ کی مانند رہیں۔ 
  • جب آپ مراقبہ میں بیٹھیں تو غور کریں کہ جب آپ کو کھجلی کرنے یا ٹانگ کو حرکت دینے کی احتیاج ہو تو اس کے اور آپ کے کھجلی کرنے کے درمیان جو وقفہ ہے، تو یہاں آپ کو اس بات کا فیصلہ کرنے کی مہلت ملتی ہے کہ آپ اپنی احتیاج پر عمل کریں یا نہ کریں۔ اس بات کا مشاہدہ کریں کہ آپ ضبط نفس سے کام لے کر اور لکڑی کے ایک بلاک کی مانند رہ کر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس پر عمل نہ کرنے کا فائدہ عمل کرنے کی نسبت زیادہ ہے۔
  • یہ فیصلہ کریں کہ آپ کی زندگی میں اضطراری رویہ کے حوالے سے، آپ کچھ کرنے کی احتیاج اور اس پر عمل پیرا ہونے کے درمیانی وقفہ کے متعلق مزید خبر دار ہونے کی کوشش کریں گے، اور جب آپ یہ محسوس کریں کہ اس پر عمل نہ کرنے کا فائدہ عمل کرنے کی نسبت زیادہ ہے تو آپ لکڑی کے ایک انگھڑ کی مانند جمے رہیں گے۔ 

خلاصہ

ہم نے دیکھا کہ ہمارا اضطراری خود تلف رویہ، جس کا منبع پریشان کن جذبات ہیں عدم مسرت اور مسائل کا سبب بنتا ہے۔ اور حتیٰ کہ جب ہم اضطراری طور پر مثبت، تعمیری انداز میں کچھ کرتے ہیں، جب اس کا محرک عدم تحفظ اور ہمارے اپنے بارے میں غیر حقیقت پسند نظریات ہوتے ہیں، تو ہم عارضی خوشی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں، جیسے کہ کسی کام کو مکمل کرنے یا کسی کی مدد کرنے کی خوشی، لیکن پھر ہم اضطراری طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں پھر اپنی اہلیت کو ثابت کرنا ہے۔

ہمیں پر سکون حالت میں اس وقفہ کو پکڑنا ہے جس میں ہم کچھ کہنے، کرنے یا سوچنے کی احتیاج  رکھتے ہیں اور اس پر سچ مچ عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ہمیں دروں بینی، خبر داری اور امتیاز سے کام لینا ہے۔ جیسا کہ اتیشا نے 'بودھی ستوا جواہر کا ہار' میں رقم کیا (۲۸):

جب میں بہت سارے لوگوں کے بیچ ہوں تو مجھے اپنی گفتار پر قابو رکھنا ہے؛ اور جب میں تنہا ہوں تو مجھے اپنے من پر قابو رکھنا ہے۔

لیکن ایسا کرنے کی خاطر حد سے زیادہ تناؤ اور میکانکی سُبھاو سے کام نہ لیں کیونکہ ہم ہر دم جانچتے پرکھتے ہیں۔ آپ اس پر معترض ہو سکتے ہیں کہ اگر آپ اسے پسند کرتے ہیں تو اس طرح آپ بے ساختگی سے کام نہ لیں گے، لیکن اگر بے ساختہ ہونے سے مراد جو بھی من میں آئے وہ کرنا ہے، بغیر اس کی مناسبت یا افادیت کا جائزہ لینے کے، تو پھر اگر طفل شیر خوار آدھی رات کو رونے لگے اور اگر ہم اٹھنا نہ چاہیں تو نہیں اٹھیں گے، یا اگر ہم بچے کو ایک تھپڑ مار کر چپ کرانا چاہیں، تو ہم اسے تھپڑ مار دیتے ہیں۔ تو ہمارے اضطراری رویہ کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئیے – ہمارے کرم کے مسائل – ہمیں مراقبہ کرنا چاہئیے، جیسا کہ ہم نے کیا، اور بار بار کیا، تا کہ ہم تناؤ اور سختی کا شکار نہ ہوں، جیسے کہ ہم اپنے ہی اوپر پولیس والے بنے ہوئے ہوں، لیکن اس بات کا احساس کریں کہ ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ خود کار اور فطری بن جاتا ہے۔ 

Top