عدم دوام کا احترام

جب ہم یہ جان لیں کہ زندگی میں ہر شے ہر دم تغیر پذیر ہے، تو ہم دوسروں سے تعلق داری کے فرسودہ طریقں پر ضد ترک کر دیتے ہیں۔

توضیح

نا پائداری سے مراد تغیّر ہے: جو چیزیں اسباب اور حالات کی تابع ہیں وہ کبھی ایک جیسی نہیں رہتیں، وہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی رہتی ہیں۔ بعض اشیاء ، بنائے جانے کے بعد، آہستہ آہستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں حتیٰ کہ ختم ہو جاتی ہیں، جیسے کہ آپ کا کمپیوٹر، آپ کی گاڑی یا آپ کا جسم۔ بعض دیگر اشیاء لحظہ بہ لحظہ بدلتی رہتی ہیں، لیکن چونکہ ان کی تجدید ہوتی رہتی ہے اس لئیے وہ نا پید نہیں ہوتیں، جیسے آپ کے من کی بنیادی کاروائی خواہ ایک طفل کی، یا کوئی چست بالغ یا کوئی بوڑھا نسیان کا مریض۔ بعض چیزیں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں، جیسا کہ درجہ حرارت یا آپ کے مراقبہ کا وصف؛ جب کہ دیگر، جیسے کہ لوگ جو ہوائی جہاز میں جمع ہوتے ہیں اور پھر بچھڑ جاتے ہیں۔ بعض چیزیں ادوار کی تابع ہوتی ہیں، جیسے کہ موسم یا شب و روز کا چکر، جب کہ بعض دیگر بار بار ابھرتی ہیں، کچھ عرصہ قائم رہتی ہیں اور پھر اختتام کو پہنچتی ہیں، جیسا کہ بدھ مت کے نظریہ کے مطابق کائنات۔ عدم دوام کی کئی ایک قسمیں ہیں۔

بد قسمتی سے، چونکہ ہمارے من وقت کے دھارے کو یک لمحہ پکڑنے سے قاصر ہیں، تو ہم الجھن کا شکار ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ سوچتے ہیں کہ اشیاء جامد ہیں اور کبھی نہیں بدلتیں، جیسے ہمارے تعلقات، ہماری جوانی، ہمارا مزاج، وغیرہ۔ جب ہم ایسے سوچتے ہیں تو ہم اپنے لئیے عدم مسرت اور مسائل پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہم کسی سے محبت کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد بعض وجوہات اور حالات تھے – ہم دونوں ایک ہی جگہ موجود تھے، ہم دونوں ساتھی کی تلاش میں تھے، اور ہم دونوں کی زندگیوں میں بعض دیگر معاملات چل رہے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بدل گئے۔ اگر ہم ویسا ہی تعلق قائم رکھنا چاہیں جیسا کہ شروع شروع میں تھا، تو ہم اپنے ساتھی کے ملازمت بدلنے، کسی دوسرے شہر منتقلی، یا کسی مہمان کی آمد، کوئی نئے دوست بنانا، یا ہماری زندگی میں کسی ایسی تبدیلی کا پیش آنا، ان سب سے مفاہمت نہیں کر پائں گے۔ ہم اسی پرانے تعلق کو چمٹے رہتے ہیں اور چونکہ ایسا فعل حقیقت کی نفی ہے، تو ہم پریشان اور نا خوش ہوتے ہیں۔ 

اپنے مراقبہ کی خاطر، آئیے ہم اپنی زندگی میں مختلف چیزوں پر غور کریں جو نا پائداری کا شکار ہیں اور ان پر اس احساس کے ساتھ توجہ مبذول کریں کہ وہ بدل چکی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہیں گی، اور آخر کار اختتام کو پہنچیں گی۔ 

مراقبہ

  • سانس پر ارتکاز کے ذریعہ پر سکون ہو جائں۔ 
  • اپنی والدہ سے اپنے تعلق پر غور کریں۔ 
  • اس کی شروعات پر غور کریں – تم ایک طفل شیر خوار تھے اور اس کا تمہارے تعلق پر ایک طرح کا اثر پڑا۔
  • پھر تم اور تمہاری ماں اور بڑے ہو گئے، تم بچے تھے پھر نو جوان ہوئے اور پھر بالغ، تمہاری ماں بھی عمر رسیدہ ہو گئی، تمہارا رشتہ بدل گیا –بدلا کہ نہیں؟ 
  • حتیٰ کہ جب اس کا انتقال ہو جائے یا اگر وہ انتقال کر چکی ہے، تو اگرچہ تمہارا باہمی معاملہ والا تعلق ختم ہو چکا ہے، تو سوچو کہ تمہارا رویہ اور اس کی یاد کس طرح بدلتے ہیں  اور بدلتے رہتے ہیں۔
  • اسی طرح اپنے باپ کے ساتھ اپنے تعلق پر غور کرو۔
  • اپنے کسی ساتھی جس سے تمہیں بے پناہ محبت ہے یا تھی کے بارے میں سوچو۔
  • اپنی پیشہ ورانہ زندگی پر غور کرو۔ 

خلاصہ

عدم استقلال زندگی کی حقیقت ہے۔ ہم چاہے پسند کریں یا نہ کریں ہر شے ہر دم بدلتی رہتی ہے، اور کوئی شے بھی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ جب ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کسی بھی شے سے چمٹے رہنا یہ سوچ کر کہ یہ ہمیشہ یوں ہی رہے گی بیکار ہے۔ جب ہم ان سب تبدیلیوں سے جو کہ نا گزیر طور پر ہماری زندگی، ہمارے تعلقات، ہمارے جسم وغیرہ میں وقوع پذیر ہوتی ہیں سمجھوتہ کر لیتے ہیں، تو ہم بے شمار مسائل اور عدم مسرت جو کہ ہمیں پیش آ سکتے تھے سے بچ جاتے ہیں۔

Top