دوسروں پر مثبت اثر کیسے ڈالا جاۓ

ہم ایک مثبت زندگی گزارنے میں لوگوں کی مدد تبھی کر سکتے ہیں اگر وہ ہماری بات سننے کو تیار ہوں۔ جن لوگوں سے ہم ملتے ہیں ان میں سے بعض قدرتی طور پر کشادہ ذہن ہوں گے اور ہم میں سے بعض قدرتی طور پر پُر کشش شخصیت کے مالک ہوں گے۔ لیکن ان چند لوگوں کے علاوہ، اگر ہم فراخدل ہوں، خوش مزاج انداز سے مشورہ دیں، اور وضاحت سے اس کے اطلاق کا طریقہ بتائں اور نصیحت پر عمل کی مثال قائم کریں، تو لوگ ہمارے گرد جمع ہوں گے اور ہمارے مثبت اثر کو قبول کریں گے۔

جب ہم روشن ضمیری پانے کی جہد کرتے ہیں، تو ہم چھ دور رس اطوار کی آبیاری کرتے ہیں تا کہ ان تمام صفات کو پختہ کر سکیں جن کی ہمیں بطور ایک مہاتما بدھ کے دوسروں کی مدد کے لئیے ضرورت پڑے گی۔ لیکن اور سب لوگوں کی مدد کرنے کے لئیے تا کہ وہ بھی اپنی عمدہ صفات کو پختہ کر سکیں، پہلے ہمیں انہیں اپنے مثبت اثر تلے جمع کرنا ہے۔ مہاتما بدھ نے اس ہدف کو موثر انداز سے پانے کے چار درجات بتاۓ:

(۱) فراخدل ہونا

جہاں کہیں بھی ممکن ہو ہمیں لوگوں سے فراخدلی سے پیش آنا چاہئیے۔ جب ہمیں کوئی ملنے آۓ تو ہم ان کی سامان خورد و نوش سے تواضع کریں؛ اگر ہم کسی کے ساتھ کھانا کھانے باہر جائں تو ان کے کھانے کے پیسے بھی ادا کریں۔ سخاوت سے مراد محض کسی کو کوئی مادی شے دینا ہی نہیں۔ اپنے وقت کے معاملہ میں سخاوت نہائت اہم امر ہے۔ کسی کی بات سننے پر راضی ہونا، ان کے مسائل کو پر خلوص دلچسپی سے سننا، اور ان کے معاملات حیات کو اہمیت دینا ایک ایسا تحفہ ہے جس کی اہمیت کو ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہئیے۔ اس سے لوگ خوش اور شانت محسوس کرتے ہیں، اور اس کے نتیجہ میں ہماری رفاقت میں خوش اور راضی بازی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے مثبت اثر کی قبولیت کی راہ میں یہ پہلا قدم ہے۔

(۲) خوش کن انداز میں بات کرنا

اس مقصد کی خاطر کہ لوگ ہم سے کھل کر بات کریں ہمیں ان سے شفقت سے خوش کن انداز میں بات کرنی چاہئیے۔ اس سے مراد ایسے انداز سے اور ایسی زبان میں جسے وہ سمجھیں اور ان کے معاملات میں اظہار دلچسپی سے بات کرنا ہے۔ بنیادی مقصد ہمیں لوگوں کو ہماری صحبت میں شانت و شاد بنانا ہے۔ ہم ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں اور ان کےمعاملات میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر کسی کو فٹ بال کا کھیل پسند ہے تو ہم یوں نہیں کہتے،"کیا احمقانہ کام ہے، نرا وقت کا ضیاع۔" یہ ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ اگر ہم ایسا کہیں گے تو وہ ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوں گے۔ وہ محسوس کریں گے کہ ہم ان سے ہتک آمیز طور سے پیش آرہے ہیں۔ اس پر تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت نہیں کہ آج کا کھیل کس نے جیتا، مگر ہم انہیں اپنائیت کا احساس دلانے کی خاطر اس پر تھوڑی سی بات کر سکتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب میں اور ان چیزوں میں جو انہیں پسند ہیں میں دلچسپی لینا ہو گی۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہم ان سے کس طرح کوئی تعلق قائم کرپائں گے؟

ایک بار جب کوئی ہم سے کھل جاۓ اور اسے اپنائیت کا احساس بھی ہو تو ہماری خوش گفتاری کا رخ اہم معاملات کی جانب موڑا جا سکتا ہے۔ مناسب موقع اور مناسب حالات میں ہم بدھ مت کی ان تعلیمات کا ذکر چھیڑ سکتے ہیں جو معنی خیز ہوں اور اس شخص کے لئیے فائدہ مند ہوں۔ ہمارے اس فعل سے ان کو پہنچنے والے فوائد کا ذکر کرنا لازم ہے۔

جب ہم کسی کو نصیحت کر رہے ہوں تو ہمارا لب و لہجہ نہائت اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں تسلط، دکھاوے کا انکسار یا مربّی پن کا شائبہ نہیں ہونا چاہئیے۔ یہ ہے خوش گفتاری کا مطلب۔ ہمیں ایسے انداز سے بات کرنی چاہئیے کہ دوسرا شخص اسے آسانی سے بغیر دھمکی یا غیر مطلوبہ نصیحت سمجھے قبول کرے۔ کسی کو نصیحت کرنے میں مناسب موقع اور انداز کا انتخاب کرنے کی خاطر مہارت اور حسّیت درکارہے۔ اگر ہم گفتگو میں حد سے زیادہ سنجیدگی اور گہرائی کا اظہار کریں تو لوگ ہمیں مشکل پسند پائیں گے اور ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوں گے۔ اسی لئیے بعض اوقات گفتگو کا ماحول ہلکا پھلکا کر نے کی خاطر مزاح کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب دوسرا شخص ہماری نصیحت پر مدافعانہ رویہ اختیار کرے۔
ہمارے مشفقانہ اور خوشگوار انداز گفتگو جو کہ معنی خیز بھی ہو، کے ساتھ جب ہم کسی کو کسی درس کی وضاحت کر رہے ہوں، کے نتیجہ میں وہ ہمارے درس کے ہدف پانے میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس درس کے بارے میں صاف ذہن اور پر اعتماد ہوں گے اور اس کے فوائد سے آشنا ہونے کی بدولت اس کی قدر کریں گے۔

(۳) دوسروں کو ان کے ہدف پانے کی تحریک دینا

 جو بھی درس ہم دیتے ہیں ہم اسے بودھی نظریہ تک محدود نہیں رہنے دیتے؛ بلکہ ہمیں اسے واضح طور پر اس شخص کی منفرد صورت حال پر اطلاق کے حوالے سے بیان کرنا ہے۔ اس طرح ہم لوگوں کو اس بات کی تحریک دیتے ہیں کہ وہ ہمارے اپدیش کو عملی صورت دے کر اس کے معیّنہ مقاصد کو پا سکیں۔ جب وہ اس کے طریقہ اطلاق سے واقف ہوں – کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے – تو پھر وہ شوق سے اس کا تجربہ کرنے کو تیار ہوں گے۔

لوگوں کو ان تعلیمات کو ان کی زندگیوں میں لانے کی تحریک دینے کی خاطر ہم ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن سے ان کا کام آسان ہو۔ اس سے مراد شروع میں کام کو آسان بنانا ہے، خاص طور پر ان کے لئیے جنہیں بدھ مت کا پہلے سے کوئی تجربہ نہ ہو۔ پھر آہستہ آہستہ ہم انہیں زیادہ مشکل اور ترقی یافتہ طریقوں سے روشناس کراتے ہیں۔ اس طرح ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے جس سے وہ مستقل مزاجی اور آگے بڑھنے کی تحریک پکڑتے ہیں۔ وہ اپنی موجودہ سطح سے کہیں زیادہ اونچی سطح کے اپدیش کو آزمانے میں دل شکستہ نہیں ہوں گے۔

(۴) ان اہداف پر ثابت قدم رہنا

ہمارا دوگلا پن کسی ایسے شخص کے لئیے جسے ہم درس دے رہے ہوں سب سے بڑی دل شکستگی ہے۔ کسی کو ان تعلیمات سے منہ موڑنے سے روکنے میں سب سے کارگر ہمارا خود ان پر عمل کے ذریعہ ایک مثال قائم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کسی کو غصہ پر قابو پانے کے بودھی طریقے سکھا رہے ہیں، اور پھر جب ہم ان کے ہمراہ کسی ریسٹورانٹ میں ہوں اور ہمارا کھانا آدھا گھنٹہ دیر سے آنے پر ہم طوفان کھڑا کر دیں، تو وہ غصہ کو قابو میں رکھنے کے متعلق بودھی تعلیمات کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ وہ سوچیں گے کہ یہ طریقے غیر موثر ہیں اور اس سے دست بردار ہو جائیں گے۔ اور وہ یقیناً ہم سے مزید درس نہیں لینا چاہیں گے۔ اس وجہ سے ہمارے قول اور فعل میں مطابقت کا ہونا لازم ہے۔ تبھی لوگ ہماری بات کا اعتبار کریں گے۔

بہرحال، بات یہ ہے کہ ابھی ہم خود مہاتما بدھ نہیں ہیں اس لئیے ہم کسی کے لئیے کامل نمونہ نہیں بن سکتے۔ پھر بھی ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کرتے ہیں۔ عدم منافقت کا یہ مطلب نہیں کہ جب ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ ہوں جس کی ہم مدد کرنا چاہ رہے ہیں تو دکھاوے کی خاطر تعلیمات پر عمل کا ناٹک رچائیں، اور پھر جب ہم تنہا ہوں یا اپنے گھر والوں کی موجودگی میں شرمناک رویہ اختیار کریں۔ دھرم کے تقاضوں کے مطابق ثابت قدم رہنا ایک کل وقتی اور پرخلوص معاملہ ہے۔

خلاصہ

بودھی تعلیمات کے توسط سے ذہنی پختگی مجتمع کرنے اور دوسروں کے اسے پانے میں مدد کے چار درجات نہ صرف ہمارے ذاتی تعلقات میں اہم ہیں بلکہ ایک وسیع پیمانے پر دھرم کو دنیا تک پہنچانے میں بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

  • 'فراخدل ہونا' -  مفت درس دو
  • ·      'خوش کن انداز سے بات کرنا' -  تعلیمات کو مختلف ذرائع ابلاغ سے آسان زبان میں مہیا کرو: کتب، ویب سائیٹ، پاڈ کاسٹ، ویڈیو، سوشل میڈیا وغیرہ
  • ·      'دوسروں کو ان کے ہدف پانے کی تحریک دینا' -  سبق کو پڑھنے اور ذہن نشین کرنے کا درجہ بدرجہ طریقہ وضاحت سے بیان کرنا اور اس درس کا اطلاق اپنی روز مرہ زندگی میں کرنے کا طریقہ سکھلانا
  • ·      'ان اہداف پر ثابت قدم رہنا' -  بودھی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا، اور کسی دھرم کے ادارے کے معاملہ میں، اہداف پر یوں ثابت قدم رہنا جیسے کہ وہ ادارہ چلایا جاتا ہے۔

یہ چار عملی اقدام، معہ ایک بےلوث تحریک کے، خواہ روشن ضمیری حاصل کرنے کا مکمل ہدف نہ بھی موجود ہو، دوسروں پر ہمارا مثبت اثر ڈالنے کے بہترین طریقے ہیں۔

Top