تبتی بدھ مت کیسے پروان چڑھا؟

بدھ مت تبت میں شاہی سر پرستی کی بدولت متعارف ہوا، جس میں اساتذہ زیادہ تر بھارت سے آۓ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبتی بدھ مت استوار ہو کر نہ صرف تبت بلکہ ہمالیہ کے وسیع و عریض علاقہ میں، اور منگولیا اور چین میں ایک زبردست قوت بن گیا۔ یہ مضمون تبت میں بدھ مت کی تاریخ، اس کی ابتدائی پرداخت، اور چار بڑے مسلک کی سمپت کا مختصر بیان ہے۔  

شاہنشاہ سانگتسن گمپو

ساتویں صدی عیسوی میں شاہنشاہ سانگتسن گمپو نے زینگ زنگ کی سلطنت کو جو تبت کے مغرب میں واقع ہے اور جہاں سے بان مسلک کی ابتدا ہوئی کو فتح کر کے تبت کو ایک بڑی سلطنت میں متحد کر دیا۔ جیسا کہ شادی کے توسط سے باہمی تعلق بنانے کا رواج تھا، تو اس کی کئی بیویاں تھیں،کم از کم ایک چین سے تھی، ایک نیپال سے، اور ایک زینگ زنگ سے تھی۔ یہ سب اپنے ہمراہ اپنے اپنے مسلک کی کتب مرکزی تبت میں لے کر آئیں، اور تبت میں بدھ مت کی شروعات یہیں سے ہوئی۔ پہلی صدی عیسوی میں آسمان سے صحیفوں کے نزول کے قصے کہانیاں بھی موجود ہیں، لیکن بہر صورت، اس ابتدائی دور میں تبتی معاشرے پر بدھ مت کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔  

سانگتسن گمپو ایک قابل تحریر زبان تشکیل دینا چاہتا تھا، تو اس نے اپنے وزیر تھانمی سمبھوتا کو خوطان بھیجا جو کہ تبت کے شمال مغرب میں جہاں کہ ڈرامائی تبتی سلسلہ کوہ تبتی سطح مرتفع سے سطح سمندر سے بھی نیچے جا گرتا ہے، شاہراہ ریشم پر ایک طاقتور بودھی سلطنت تھی۔ اس سے پرے صحرا تکلمکن ہے جو کہ خوبصورت مگر دشوار گزار ہے – تکلمکن ایک ترکک لفظ ہے جس کا مطلب ہے "اندر جاؤ اور باہر مت آؤ۔" اب یہ علاقہ چین کا زنجیانگ صوبہ ہے، مگر سانگتسن گمپو کے زمانے میں پہاڑوں کی وادی کا خطہ جہاں سے صحرا شروع ہوتا ہے خوطان کہلاتا تھا۔  

اس خطہ میں بدھ مت کا زور تھا مگر یہاں ایرانی ثقافت کے گہرے اثرات تھے۔ اس خطے کی زبان ایرانی زبانوں سے ملتی جلتی تھی جس کا تبت پر بہت اثر تھا جس کا عموماً تصنیف شدہ تاریخ میں ذکر نہیں ملتا۔ مثال کے طور پر، تبتی حروف ابجد خوطان رسم الخط سے لئیے گئے ہیں جو کہ انہوں نے سنسکرت حروف ابجد سے اپناۓ۔ ایسا ہوا کہ تھانمی سمبھوتا جن خوطانی اساتذہ کو ملنے جا رہا تھا وہ اس وقت کشمیر میں تھے، اور خوطان جانے کے لئیے کشمیر سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس وجہ سے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ تبتی رسم الخط کشمیر سے آیا، مگر گہری تاریخی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ مزید یہ کہ تبتی زبان میں ترجمہ کا طریق کار خوطانی زبان کے الفاظ کو سلیبل میں تقسیم کرنے اور ہر سلیبل کے الگ الگ معانی بیان کرنے کے طریقہ سے بہت متاثر تھا۔

اس وقت تک تبت میں بدھ مت کی کچھ خاص پرداخت نہیں ہوئی تھی۔ تاریخی شواہد کے مطابق تبت کو ایک بد روح عورت تصور کیا جاتا تھا جو زمین پر چاروں شانے چت پڑی ہو، اور اس کی نقصان دہ شکتی کو دبانے کی خاطر اس کے شریر کے بعض ایکو پنکچر مقامات پر مندر تعمیر کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ ، تبت کی باغیانہ روح کو سدھانے کی خاطر ایک وسیع و عریض جغرافیائی خطے کے اوپر تیرہ مندر تعمیر کئیے گئے۔ یہ مندر اور وہ صحائف جو ملکات اپنے ساتھ لائی تھیں تبت میں بدھ مت کی شروعات کا سبب بنے۔ 

بعد میں چین اور خوطان کے ساتھ مزید تعلق استوار ہوا، اور پھر بھارت کے ساتھ ۔ زینگ زنگ کی شہزادی اپنے ساتھ ریاست کے لئیے بہت ساری بان رسومات لے کر آئی، اگرچہ وہ ہماری آج کی بان رسومات سے بہت مختلف تھیں۔  

شاہنشاہ تری سانگدستن

تقریباً ۱۴۰ برس بعد آٹھویں صدی عیسوی کے وسط میں شاہنشاہ تری سانگدستن نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے کا ارادہ کیا اور چین اور مختلف ترکک راجدھانیوں سے جنگیں چھیڑ دیں۔ ایک پیشین گوئی کے باعث اس نے  نالندا کے عظیم صدر شانتر کشیتا کو بھارت سے تبت آ کر تعلیم دینے کی دعوت دی۔

اس وقت حکومت کے اندر کئی سیاسی دھڑے تھے، ان میں سے ایک قدامت پسند، بدیس مخالف تھا جسے یہ بات بالکل نہ بھائی کہ بادشاہ نے شانتر کشیتا کو مدعو کیا۔ بد قسمتی سے شانتر کشیتا کی آمد کے وقت ہی چیچک کی وبا پھیل گئی، اور اسے اس کا کارن ٹھہرا کر تبت سے نکال دیا گیا۔

شانتر کشیتا نے واپس بھارت لوٹنے پر شاہنشاہ کے اثر رسوخ کو کام میں لا کر گورو رنپوچے، پدما سمبھاؤ کو تبت جانے کی دعوت دلوا دی۔ روائت یوں ہے کہ وہ بد روحوں کو سدھانے آیا تھا، مگر اصل مقصد چیچک کی مرض کا یا ان بد روحوں کا خاتمہ کرنا تھا جو اس کا سبب تھیں۔ اس سب کے تاریخی حوالے موجود ہیں اس لئیے یہ محض قصہ کہانی نہیں ہے۔ گورو رنپوچے آیا اور وبا رخصت ہوئی، اور اس کے بعد شانتر کشیتا کو دوبارہ تبت آنے کی دعوت دی گئی۔ ان دونوں سے مل کر شاہنشاہ تری سانگدستن نے سمیے کی تعمیر کی جو کہ تبت میں پہلا آشرم تھا۔ 

اس سے قبل وہاں محض مندر تھے مگر ایسے آشرم نہ تھے جہاں منصب یافتہ بھکشو ہوں۔ گورو رنپوچے نے محسوس کیا کہ لوگ زیادہ ترقی یافتہ شکشا کے یا تو خواہاں نہیں تھے، یا پھر اس کے لئیے ابھی تیار نہیں تھے، لہٰذا اس نے ڈزاگچن، جو کہ اس کے مسلک کی اعلیٰ ترین تنتر شکشا تھی، پر صحیفے سمیے کی دیواروں اور ستونوں کے اندر اور تبت اور بھوٹان میں مختلف جگہوں پر دفن کر دئیے۔ نئینگما مسلک کی بنیاد اسی نے ڈالی۔

شروع میں سمیے میں تین گروہ تھے – چین، بھارت اور زینگ زنگ کے علماء۔ ان سب نے مواد کا ترجمہ اپنی زبانوں میں یا اپنی زبانوں سے کرنے کا کام کیا۔ بدھ مت کو سرکاری مذہب قرار دیا گیا، اور چین کے شاہنشاہ نے ہر سال دو چینی بھکشو سمیے کو بھجوانے کا بندوبست کیا۔ شانتر کشیتا نے پیش گوئی کی کہ اس پر اختلافات اٹھیں گے اور نصیحت کی کہ مستقبل میں تبت اس کے چیلے کمال اشیلا کو ان اختلافات اور جھگڑوں کو نمٹانے کے لئیے بلاۓ۔
 
بندوستان میں تعلیم حاصل کرنے کی خاطر مزید اساتذہ بھیجے گئے، اور بھارت سے کچھ استاد درس دینے تبت کو آۓ۔ حکومت کے اندر قدامت پرست گروہ ان واقعات سے سخت برہم ہوا، جسے انہوں نے بان کی ستم رانی تصور کیا۔ اس کا مطلب دینی ستم رانی نہیں ہے، بلکہ یہاں "بان" سے مراد وہ لوگ ہیں جو ریاست کے کاموں میں شریک تھے، تو یہ بڑی حد تک زینگ زنگ گروہ کے بارے میں تھا۔ اس دور میں ریاست بان کی ہی پرانی رسوم پر کار بند تھی، لہٰذا یہ بدیہی طور ایک سیاسی نہ کہ مذہبی مسٔلہ تھا۔ تاہم کئی ایک بان والوں نے اپنے صحیفے تحفظ کی خاطر دبا دئیے، تو صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنے مسلک کو خطرے میں پایا۔ ایک بار میں تووا، سربیہ میں تھا جہاں لوگ بدھ مت کے منگول مسلک کے پیرو ہیں۔ ان لوگوں نے سٹالن کے دور میں اپنی تمام کتب پہاڑوں کے غاروں میں دفن کر دی تھیں۔ اس حالیہ تاریخی واقعہ سے ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ صحیفوں کو دبانے، چھپانے کی ضرورت ایک حقیقت نہ کہ محض قصہ کہانی ہے۔

بالآخر، زینگ زنگ گروہ کو ملک بدر کر دیا گیا، اور ویسے بھی لوگ چینی لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے ایک ہندی بھکشو اور ایک چینی بھکشو کے درمیان مناظرہ کرانے کا فیصلہ کیا، یہ دیکھنے کی خاطر کہ وہ کونسا مسلک اختیار کریں۔ ہندی مسلک کا سب سے بہترین بحث کرنے والا شخص – کملا شیلا جس کا نام شانتر کشیتا نے دیا تھا – ایک زین بھکشو جسے مناظرہ کی کوئی تربیت نہ تھی کے مقابل پیش کیا گیا۔ تو یہ شروع سے ہی عیاں تھا کہ کون جیتے گا۔ اس پر طرہ یہ کہ تبتی لوگ پہلے ہی چینیوں کو ملک سے نکالنے پر تلے ہوۓ تھے، پس ہندوستانیوں کو فاتح قرار دیا گیا، اور ہندی مسلک کو تبت میں اپنا لیا گیا۔  

اصطلاحات اور انداز (تحریر) کو معیاری بنانا

صحیفوں کے ترجمے کا کام، کچھ چینی زبان سے، مگر زیادہ تر سنسکرت سے جاری رہا۔ نویں صدی کے اوائل میں ایک اور بڑے بادشاہ تری رالپیچن کے دور حکومت میں انہوں نے ایک لغت بنائی اور اصطلاحات اور انداز کا معیار قائم کیا۔ اس نے حکم دیا کہ اس ابتدائی لغت میں کوئی تنتری مواد شامل نہیں کیا جاۓ گا کیونکہ اس سے بہت غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔
 
نویں صدی کے وسط میں تری رالپیچن نے اعلان کیا کہ سات گھرانے ہر بھکشو کی معاونت کے ذمہ دار ہوں گے – وسیع النظر طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک دھرمی خبطی انسان تھا۔ لگان سے وصول ہونے والی تمام رقم حکومتی کاموں پر خرچ ہونے کی بجاۓ بھکشووں اور آشرموں پر خرچ کی جاتی تھی، جس سے ملک اور سرکار معاشی طور پر تباہ ہو گئے۔ اس نے بھکشووں کو وزارت کے عہدوں پر مامور کر رکھا تھا جس سے آشرموں کی طاقت میں مزید تر اضافہ ہوا۔ 

اگلا بادشاہ لینگدرم تبت کا اصل بوگی مین ثابت ہوا کیونکہ اس نے بدھ مت کو بہت پریشان کیا۔ اس وقت یہ صورت حال پیدا ہوئی کہ اس نے آشرم بند کر دئیے کیونکہ انہوں نے بہت قوت پکڑ لی تھی، اور بھکشو وزیروں کو حکومت سے نکال دیا۔ البتہ اس نے آشرم کی کسی بھی لائبریری کو نقصان نہ پہنچایا – ۱۵۰ برس بعد جب اتیشا وہاں پہنچا تو وہ عمدہ کتب خانے دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس قسم کی شدید دھرمی تباہی کا تاریخ دان ذکر کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔

بہر حال، تمام آشرموں کو بند کر دینے سے بدھ مت کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک میں انتشار پیدا ہوا، اور چونکہ تمام بھکشو عام عوام بنا دئیے گئے، تو بھکشو لڑی ٹوٹ گئی اور اس کی تجدید کی ضرورت پڑی۔ کسی باقاعدہ مٹھ ونش، جو درس اور پاٹھ میں مدد کر سکتا، کی غیر موجودگی میں سب کام چوری چھپے یا نجی سطح پر ہوتا رہا۔ بہت ساری غلط فہمی اور بد سلوکی ہوئی، خصوصاً تنتر کے معاملہ میں – خاص طور پر جنسی پہلو اور شعور کے مکش کی بابت۔ شدید غلط فہمی کی بنا پر لوگ قربانی اور قتل و غارت میں ملوّث ہو گئے۔  

ترجمہ کا نیا دور

دسویں صدی کے آخر میں ایک بار پھر مغربی تبت میں ایک منظم سلطنت قائم ہوئی، اور تعلیمات کو یکجا کرنے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ نئینگما مسلک میں اس قدر غلط تصورات تھے کہ مزید ترجمان بھارت اور نیپال بھیجےگئے اور یہاں سے ترجمہ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ در حقیقت، یہ "ترسیل" کا نیا دور تھا۔ اس سے کدم، سکیا، اور کاگیو پنتھوں نے جنم لیا۔ اگر ہم کسی لفظ کے آخر میں "پا" دیکھیں، جیسے کاگیوپا، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ شخص اس مسلک کا پیرو ہے، اگرچہ آجکل کے غیر تبتی لوگ ایسی تمیز نہیں کرتے۔  

کدم اور گیلوگ

کدم پنتھ اتیشا، جو کہ ایک مہان بنگالی گورو تھا، سے ماخوذ ہے۔ یہ 'لوجانگ'  کے من کی تربیت کے طریقہ پر زور دیتا ہے۔ یہ مسلک تین لڑیوں میں بٹ گیا جسے بعد میں تسونگکھاپا نے چودھویں اور پندھرویں صدی کے شروع میں متحد کر کے گیلوگ مسلک بنا دیا۔

 نئینگما، سکیا اور کاگیو مسلک بڑی حد تک ایک ہی تعبیر کو، معمولی رد و بدل کے ساتھ، مانتے ہیں۔ تسونگکھاپا در اصل ایک انتہا پسند انسان تھا، اور اس نے بدھ فلسفہ کی تقریباّ ہر چیز کو نئے معنی سے نوازا۔ تسونگکھاپا نے کم سنی سے ہی مطالعہ شروع کر دیا تھا اور اس نے صحائف کے مختلف تراجم کا معائنہ کیا یہ دیکھنے کی خاطر کہ کونسے حصوں کا غلط ترجمہ ہوا تھا۔ وہ اس سب کی حمائت میں منطق اور مختلف صحائف سے حوالے دے کر انہیں ثابت کرتا۔ 

اس بنا پر، بعض دقیق بھارتی مواد کے تبتی ترجموں کا پھر سے بغور جائزہ لیا گیا۔ بعض سابقہ مصنفین کی مانند اس نے مبہم حصوں کا سرسری جائزہ نہ لیا۔ تسونگکھاپا ایسے مشکل متن کو سمجھنے اور انہیں وضاحت سے بیان کرنے میں خوشی محسوس کرتا۔ اس بنا پر، اس نے تقریباً ہر بات کی بہت مختلف شرح بیان کی۔ در حقیقت، تسونگکھاپا ایک بڑا انقلابی انسان تھا۔ اس کے بہت سارے چیلوں میں سے ایک وہ چیلا تھا جو بعد میں پہلا دلائی لاما مانا گیا۔ یہ نام اسے اس کے مرنے کے بعد تیسرے دلائی لاما کے دور میں دیا گیا۔ "دلائی" ایک منگول نام ہے جس کا مطلب ہے "سمندر۔"

ایک خوفناک خانہ جنگی چھڑ گئی جو ۱۵۰ برس تک جاری رہی، جسے منگولوں نے آ کر ختم کیا۔ اس وقت منگولوں نے پانچویں دلائی لاما کو تبت کا سیاسی حاکم اور روحانی پیشوا نامزد کیا، اور اس کے استاد کو پنچن لاما پکارا جاتا تھا۔ ۲۰۱۱ میں چودھویں دلائی لاما نے دلائی لاما کے کسی بھی سیاسی رتبہ پانے کی رسم کو ختم کر دیا۔

سکیہ

دسویں صدی کے آخر میں نئے ترسیلاتی دور سے جو فرقہ اور مسلک وجود میں آیا وہ سکیہ کہلایا، جس کی کڑی وروپا اور کچھ دیگر ترجمانوں سے ملتی تھی۔ وروپا سے ان کی خاص شکشا 'لمدرے' کہلاتی ہے – 'لم' سے مراد راہ اور 'درے' سے نتیجہ ہے۔ یہ "راہ اور اس کے نتائج" کا نظام لم- رم قسم کے مواد جسے کہ حویجرا کی تنتری مشق کے ساتھ جوڑا گیا ہو کا امتزاج ہے۔
سکیہ گورو در اصل ایک خاندانی لڑی کا حصہ ہیں اور سکیہ لڑی میں ہمیشہ وراثت چلتی ہے۔ تیرھویں صدی میں منگولوں کے زیر اثر تبت کی وحدت کے بعد سکیہ خاندان نے قریب ایک سو سال تک تبت پر حکومت کی۔ یہ اس وجہ سے ممکن ہوا کیوں کہ سکیہ پنڈت نے جو کہ شائد سکیہ گورووں میں سب سے زیادہ مشہور تھا، منگولوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر رکھے تھے، اور وہ ہمراہ اپنے بھتیجے پھاگپا کے کبلائی خان کا اتالیق بن گیا۔

تبتی اور اوگر – ایک ترکک قوم جو زنجیانگ، تبت کا شمال مغرب، سے ہیں – چنگیز خان سے جنگ آمد نہ ہوۓ، اس لئیے انہیں کچھ نہ کہا گیا۔ اوگر لوگوں نے منگولوں کو بدھ مت کا اولین تعارف اپنے لکھنے کے طریقے اور حکومت کا کاروبار چلانے کے نظام سے کروایا، جبکہ تبتی لوگوں نے انہیں بدھ مت کی ایک منظم تر شکل دی۔ تو یہ وہ حالات تھے جن میں پھاگپا اور بعد میں آنے والے سکیہ لاما کو تبت پر ایک سو برس تک حکومت کرنے کی اجازت ملی۔  

سکیہ لڑی میں نگور، تسار اور جوننگ چھوٹی لڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ جوننگ مسلک کو بعض اوقات تبتی بدھ مت کا پانچواں پنتھ مانا جاتا ہے۔ ہر ایک چھوٹی لڑی کے اپنے اپنے گورو ہیں۔

کاگیو

کاگیو مسلک کے اندر دو اور بڑی لڑیاں موجود ہیں، شانگپا کاگیو اور ڈاگپو کاگیو۔ شانگپا کاگیو تبتی گورو کیونگپو نلجور سے آئی ہے جو یوگا کے  چھ ترقی یافتہ پاٹھ کے تینوں سیٹ کا ماہر ہے۔ ان یوگا مشقوں کو در اصل "دھرم" یا "شکشا" کہنا چاہئیے، مگر "یوگا" کی اصطلاح یہاں عام استعمال ہوتی ہے۔ ایک سیٹ نروپا سے ہے، "نروپا کے چھ یوگا،" مگر بقیہ دو عظیم پجاری خواتین نگوما اور سکھ سدھی سے آئی ہیں۔ شانگپا کاگیو لڑی ان چھ تعلیمات کے تین سیٹ کی ترسیل کرتی ہے۔ مرحوم کالو رنپوچے جو مغرب میں بہت مشہور تھا، اسی مسلک سے تعلق رکھتا تھا۔ 

ڈاگپو کاگیو مسلک کا منبع تلوپا، نروپا، مارپا، ملاریپا اور گیمپوپا لڑی ہے۔ گیمپوپا نے مختلف ہندی مہا سدھا (برگزیدہ تنتری گورو) کی 'مہا مُدرا' تعلیمات کو کدمپا 'لوجونگ' تعلیمات میں شامل کر دیا۔  گیمپوپا سے ڈاگپو کاگیو کے بارہ مسلک استوار ہوۓ - بارہ مسلک اس کے شاگردوں سے اور اس کے ایک شاگرد پگمود روپا کے شاگردوں سے۔ ان میں سب سے زیادہ مقبول کرم کاگیو ہے، جس میں کرمپا ایک اہم شخصیت ہے۔ اس کے علاوہ ڈرگپا کاگیو اور ڈریگنگ کاگیو پنتھ بھی ہیں جو کہ آجکل مغرب میں بھی پاۓ جاتے ہیں۔

نئینگما

جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ پرانے نئینگما مسلک کے گورووں نے ڈزاگچن متن دفن کر دئیے تھے، مگر دوسرے اسباق ابھی تک پڑھاۓ جا رہے تھے، اگرچہ ان میں کافی غلط فہمی پائی جاتی تھی۔ انہوں نے گیارھویں صدی کے اوائل میں اپنے دفن شدہ مسوّدے نکالنے شروع کئیے، یہ بانپو کے مسوّدوں کو مدفن سے نکالنے کے تقریباً ایک سو سال بعد کی بات ہے۔ اس کے عین ساتھ ہی بھارت سے استادوں کی بڑی تعداد میں آمد وقوع پذیر ہوئی۔ 

بہت سا مواد دریافت ہوا، اور یہ بات حیران کن تھی کہ یہ سب کیسے آپس میں مطابقت پذیر ہو سکتا ہے۔ انہیں تیرھویں صدی عیسوی میں عظیم  نئینگما گورو لانگچنپا نے، جو کہ در اصل نئینگما مسلک کا بانی ہے جیسا کہ ہم اسے آج پاتے ہیں، معیار پر پورا اتارا اور ان کی وضاحت کی۔ علم کا یہ خزانہ شمالی کڑی اور جنوبی کڑی میں منقسم ہے۔ نئینگما مسلک دوسروں کی نسبت زیادہ غیر مربوط ہے، اور اس میں کسی ایک انداز کی یکسانیت موجود نہیں ہے۔

رائم تحریک

تبت کی بدھ مت کی تاریخ میں ایک اور اہم عنصر رائم (غیر فرقہ وارانہ) تحریک ہے جسے انیسویں صدی میں کئی شخصیتوں نے مل کر شروع کیا جن میں سب سے اہم کانگترول رنپوچے تھا۔ اس کا مقصد ان مبہم لڑیوں کو محفوظ کرنا تھا جو کہ ناپید ہوتی جا رہی تھیں، اور جو چار پنتھوں میں کسی سے بھی آسانی سے دستیاب نہیں تھیں۔ 

رائم تحریک نے زور پکڑا اور اس نے جوننگ لڑی پر زور دیا، جو کہ سیاسی نقطہ نظر سے اپنے عقائد کی بنا پر ظلم و ستم کا شکار ہوئی اور دبائی گئی تھی۔ مگر اس میں سیاسی معاملات کا ہاتھ بھی ہے کیونکہ خانہ جنگی کے دوران اس کا کسی دھڑے سے الحاق تھا۔ کسی حد تک رائم تحریک نے خام میں بھی سر ابھارا، جو کہ گیلوگ مسلک کے مرکزی حکومت میں افزوں پذیر اثر و رسوخ کے خلاف رد عمل تھا۔

خلاصہ

تبتی بدھ مت کئی صدیوں کے دوران، بنیادی طور پر اساتذہ اور ترجمانوں کی بھارت سے آنے والی ایک بڑی تعداد کی کاوشوں سے دھیرے دھیرے چار مسالک کے روپ میں پروان چڑھا۔ نئینگما کا ماخذ ترجمہ کا پرانا زمانہ تھا، جبکہ سکیہ، کاگیو اور کدم، جو بعد میں کیلوگ بنے، ترجمہ کے نئے دور میں پرداخت پذیر ہوۓ۔ اس وقت اگرچہ بدھ مت پر تبت میں سخت پابندی ہے، یہ بھارت، نیپال اور پورے ہمالیہ کے دامن میں افزائش پذیر ہے، اور آہستہ آہستہ باقی دنیا میں بھی پھیل رہا ہے۔ 

Top