موت اور مرنے کے متعلق بودھی نصیحت

ہم سب کو موت کا مزہ چکھنا ہے اس لئیے ہمیں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ اپنی فنا کے بارے میں حقیقت پسندی ہمیں ایک بھرپور اور با مقصد زندگی بسر کرنے کی راہ دکھاتی ہے۔ اس طرح خوف تلے مرنے کی بجاۓ ہم خوشی خوشی موت کو گلے لگا سکتے ہیں کیونکہ ہم نے بھرپور زندگی گزاری ہے۔

با مقصد زندگی بسر کرنا

سنین کے مابین ہمارے جسموں میں تبدیلی آئی ہے۔ عام الفاظ میں، روحانیت اور مراقبہ بھی اس کو روکنے سے قاصر ہیں۔ ہم عدم استقلال کے مارے ہوۓ ہیں، ہر لحظہ رو بہ تغیّر، لمحہ بہ لمحہ تغیّر پذیر؛ یہ قدرت کا حصہ ہے۔ وقت ہر وقت حرکت میں ہے؛ اسے کوئی قوت روک نہیں سکتی۔ تو اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم وقت کا صحیح مصرف کر رہے ہیں۔ کیا ہم اوروں کے لئیے مزید مسائل پیدا کرنے میں اپنا وقت خرچ کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں باالآخر ہم بذاتِ خود عدم مسرت کا شکار ہو جاتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ وقت کا غلط مصرف ہے۔

ایک بہتر طریقہ یہ ہو گا کہ ہم روزانہ اپنے من کو کسی مناسب ترغیب سے تشکیل دیں اور پھر تمام دن اس ترغیب کے تحت گزاریں۔ جس سے مراد یہ ہے کہ، اگر ممکن ہو تو، دوسروں کی خدمت کریں؛ یا پھر، کم از کم، کسی کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ اس معاملہ میں مختلف پیشوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ آپ کا پیشہ کچھ بھی ہو، آپ کی ترغیب مثبت ہو سکتی ہے۔ اگر ہم روزانہ اپنا وقت یوں گزاریں، بلکہ ہفتوں، مہینوں، سالوں – عشروں نہ کہ پانچ برس کے لئیے – تو پھر ہماری زندگی با مقصد ہو جاتی ہے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم ہم اپنے من کی شادمانی میں کچھ نہ کچھ اضافہ کر رہے ہیں۔ جلد یا بدیر ہمارا آخری وقت آۓ گا اور اس وقت ہمیں کوئی پشیمانی نہیں ہو گی یہ جان کر کہ ہم نے اپنا وقت تعمیری انداز سے استعمال کیا۔

موت کے متعلق حقیقت پسند رویہ

ہماری موجودہ  زندگی دائمی نہیں ہے۔ مگر یہ سوچ کہ:"موت ہماری دشمن ہے" سرا سرغلط ہے۔ موت ہماری زنگی کا حصہ ہے۔ بے شک، بودھی نقطۂ نظر کے مطابق، ہمارا یہ جسم کسی لحاظ سے ہمارا دشمن ہے۔ 'مکش' – نجات کے حصول کی پر خلوص آشا پیدا کرنے کی خاطر اس قسم کے رویہ کی ضرورت ہے: یعنی کہ یہ جنم، یہ شریر، اس کی دکھ اٹھانے کی فطرت، تو ہم اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ مگر ایسی سوچ بہت سارے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔۔ اگر ہم موت کو دشمن تصور کریں تو یہ جسم بھی دشمن مانا جاۓ گا، بلکہ پوری زندگی ہی دشمن کہلاۓ گی۔ یہ بات کو ذرا بڑھانے والی بات ہے۔
بے شک موت سے مراد عدم وجود ہے، کم از کم اس جسم کا عدم وجود۔ ہمیں ان سب چیزوں سے جن کے ساتھ ہم نے اس زندگی میں تعلق جوڑا رشتہ توڑنا ہو گا۔ جانور موت کو پسند نہیں کرتے، تو قدرتی طور پر یہی حال انسانوں کا بھی ہے۔ لیکن چونکہ ہم قدرت کا حصہ ہیں اس لئیے موت ہماری حیات کا جزوِ لازم ہے۔ چونکہ زندگی کی ایک ابتدا اور انتہا ہے – تو اس لئیے پیدائش بھی ہے اور موت بھی۔ تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ موت کے متعلق ہماری غیر حقیقت پسند سوچ اور رویہ ہمارے لئیے فالتو خوف اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ 

لہٰذا بطور بدھ مت کے پیروکار کے یہ نہائت سود مند ہے کہ ہم روزانہ اپنے آپ کو موت اور عدم دائمیت کی یاد دہانی کرائیں۔ اس ناپائداری کے دو درجے ہیں: ایک کثیف درجہ کہ (ہر تخلیق شدہ شے کو ختم ہونا ہے) اور ایک لطیف درجہ کہ (علت و معلول کے تابع تمام مظاہرِ قدرت لمحہ بہ لمحہ تغیّر پذیر ہیں)۔ در حقیقت نا پائداری والا لطیف پہلو بدھ مت کی اصل تعلیم ہے؛ مگر عمومی طور پر نا پائداری کا کثیف پہلو بھی ایمان کا ایک جزوِ لازم ہے کیونکہ یہ ان بعض تباہ کن جذبات کو کم کرتا ہے جن کی بنیاد یہ سوچ ہے کہ ہم یہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ 

ذرا ان بادشاہوں اور راجوں پر نظر ڈالیں – اور مغرب میں بھی – ان کے بڑے بڑے قلعے اور حصار۔ یہ شہنشاہ اپنے آپ کو لا فانی تصور کرتے تھے۔ لیکن اب جب ہم ان عمارتوں کو دیکھتے ہیں تو یہ احمقانہ سی بات لگتی ہے۔ چین کی عظیم دیوار کو دیکھئیے۔ جن لوگوں نے اسے تعمیر کیا انہوں نے کس قدر تکلیف اٹھائی۔ مگر ان کارناموں کے پس پشت یہ احساس تھا: "میری طاقت اور سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی" اور "میرا شہنشاہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔" دیوار برلن کی مانند – جس کے متعلق کسی مشرقی جرمنی کے اشتراکی لیڈر نے کہا تھا کہ یہ دیوار ہزار برس تک قائم رہے گی۔ اس قسم کے احساسات ان کی اپنی ذات اور ان کی جماعت یا ان کے اعتقادات سے لگاؤ اور یہ سوچ کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں سے آتے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ ہمیں اپنی ترغیب پکڑنے کی خاطر مثبت آرزو کا ہونا ضروری ہے – آرزو کے بغیر عمل نا ممکن ہے۔ مگر لا علمی اور آرزو کا امتزاج خطرناک ہے۔ مثال کے طور پر، یہ دائمیت کا احساس ہے جو یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ "میں ہمیشہ رہنے والا ہوں۔" یہ غیر حقیقت پسندی ہے۔  یہ لا علمی ہے۔ اور جب آپ اس میں آرزو کو شامل کر دیں – اور سے اور کی تمنا – تو اس سے مزید مشکلات اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مگر عقلمندانہ آرزو نہائت کار آمد ہے، اور اس لئیے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ 

نا پائداری کی بعض مثالیں ہمیں تنتری پاٹھ میں بھی ملتی ہیں، جیسے کھوپڑیاں اور اس قسم کی چیزیں، اور بعض منڈلوں میں بھی ہم قبرستانوں اور مردہ خانوں کا تصور کرتے ہیں۔ یہ سب ایسی علامات ہیں جو ہمیں نا پائداری کا احساس دلاتی ہیں۔ ایک روز میں گاڑی میں کسی قبرستان میں سے گزر رہا تھا، تو کچھ عرصہ بعد جب میں نے عوام سے خطاب کیا تو یہ بات میرے ذہن میں تازہ تھی، میں نے کہا: "میں کسی قبرستان میں سے گزر رہا تھا۔ جو کہ ہماری آخری منزل ہے۔ ہمیں بہر حال وہیں جانا ہے۔" حضرت عیسیٰ نے صلیب پر چڑھ کر اپنے پیروکاروں کو دکھایا کہ موت آخرکار آتی ہی ہے۔ مہاتما بدھ نے بھی ایسے ہی کیا۔ ﷲ، ﷲ کے بارے میں میں نہیں جانتا - ﷲ کی کوئی شکل و صورت نہیں ہے – مگر محمد (ﷺ) نے اسے دکھایا۔

لہٰذا ہمیں حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوۓ یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ جلد یا بدیر موت کی آمد آمد ہے۔ اگر آپ شروع سے ہی موت کی حقیقت کے متعلق کوئی سوچ رکھیں؛ تو پھر موت کی آمد پر آپ کو کم پریشانی ہو گی۔ لہٰذا ایک بدھ مت کے پیروکار ہونے کے ناطے یہ نہائت اہم ہے کہ ہم اپنے آپ کو روزانہ اس کی یاد دہانی کرائیں۔

بوقتِ مرگ کیا کرنا چاہئیے

جب ہمارا آخری وقت آ جاۓ تو ہمیں اسے قبول کر لینا چاہئیے اور اسے کوئی عجب بات نہیں سمجھنا چاہئیے۔ اس کی کوئی اور صورت ہے ہی نہیں۔ ایسے موقع پر انہیں جو کسی الوہی مذہب میں ایمان رکھتے ہیں یہ سوچنا چاہئیے، "اس زندگی کو خدا نے وجود بخشا، لہٰذا اس کا اختتام بھی اسی کے منصوبہ کے مطابق ہے۔ اگرچہ مجھے مرنا پسند نہیں، لیکن خدا نے اسے بنایا، لہٰذا اس کا کوئی تو مقصد ہو گا۔" جو لوگ دل سے ایک خالق خدا پر ایمان رکھتے ہیں انہیں اس طرح سوچنا چاہئیے۔ 

وہ لوگ جو ہندوستانی مذاہب کے پیرو کار ہیں اور پنر جنم میں یقین رکھتے ہیں انہیں اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہئیے اور ایک عمدہ اُخروی زندگی کے لئیے درست اسباب پیدا کرنے چاہئیں، نہ کہ محض فکر اور پریشانی میں ڈوبے رہو۔ مثال کے طور پر، بوقتِ مرگ آپ اپنی سب نیکیاں وقف کر سکتے ہیں تا کہ آپ کی آئیندہ زندگی اچھی ہو۔ اور پھر، خواہ آپ کا دھرم کچھ ہی ہو، بوقتِ مرگ من کی حالت پُر سکون ہو گی۔ غصہ، بہت زیادہ خوف – یہ کسی کام کے نہیں۔

اگر ممکن ہو تو بدھ مت کے پیرو کاروں کو اپنا وقت آئیندہ زندگی کا جائزہ لینے میں صرف کرنا چاہئیے۔ بودھی چت پاٹھ اور بعض تنتری پاٹھ اس کام کے لئیے موزوں ہیں۔ تنتری تعلیمات کے مطابق موت کے وقت عناصر کا آٹھ درجاتی حلول وقوع پذیر ہوتا ہے – جسم کے کثیف تر عناصر تحلیل ہوتے ہیں، اور پھر لطیف عناصر بھی تحلیل ہو جاتے ہیں۔ تنتری پاٹھ کرنے والوں کو اسے اپنے روز مرہ کے مراقبے میں شامل کر لینا چاہئیے۔ میں روزانہ موت پر مراقبہ کرتا ہوں – مختلف منڈل عبادات کے ساتھ – کم از کم پانچ بار، تو میں ابھی تک زندہ ہوں! آج صبح میں پہلے ہی تین بار موت کا مزہ چکھ چکا ہوں۔

تو ایک عمدہ مستقبل کی زندگی استوار کرنے کی ضمانت کے لئیے یہ طریقے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان سے عاری ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، انہیں نا پائداری کی حقیقت کو پہچاننا لازم ہے۔

قریب المرگ لوگوں کی کیسے مدد کی جاۓ

جو لوگ قریب المرگ ہیں اگر ان کے پاس موجود لوگوں کو اس بات کا کچھ علم ہو (کہ ان کی مدد کیسے کی جاۓ) تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، اگر قریب المرگ انسان کا ایک خالق خدا پر ایمان ہے تو اسے خدا کی یاد دہانی کرا سکتے ہیں۔ بودھی نقطہ نظر سے بھی خدا پر سیدھا سادہ ایمان مفید امر ہے۔ وہ لوگ جن کا کوئی دین دھرم نہیں، تو جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، حقیقت پسند بنو، یہ بات اہم ہے کہ وہ اپنے من کو شانت رکھیں۔ 

مرتے ہوۓ انسان کے گرد آہ و فغاں کرنے والے رشتہ داروں کی موجودگی ان کے من کوشانت رکھنے میں مخل ہو سکتی ہے – اس کا مطب ہے بہت زیادہ لگاؤ۔ اور رشتہ داروں سے بہت زیادہ لگاؤ کے سبب غصہ کرنے اور موت کو دشمن تصور کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کے من کو شانت رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ اہم بات ہے۔ 

مجھے کئی بار بودھی لوگوں کے محتاج خانے جانے کو کہا گیا ہے۔ مثلاً آسٹریلیا میں ایک بھکشو خواتین کی پاٹھ شالا ہے جہاں بھکشو عورتیں خصوصاً قریب المرگ لوگوں یا شدید بیمار انسانوں کی دیھ بھال کرتی ہیں۔ یہ ہماری روزانہ کی درد مندی کی تعلیم کو عملی شکل دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ بات نہائت اہم ہے۔

خلاصہ

موت کوئی عجوبہ نہیں ہے۔ یہ ہر روز، تمام دنیا میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یہ شعور کہ موت لازم ہے ہمیں با مقصد زندگی گزارنے کی تحریک دیتا ہے۔ جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کسی وقت بھی آ سکتی ہے تو پھر ہم معمولی معمولی باتوں پر جھگڑا نہیں کرتے۔ بلکہ ہم دوسروں کی حتیٰ المقدور مدد کے ذریعہ زندگی سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی تحریک پکڑتے ہیں۔ 

Top