چار بلند و بالا سچائیاں کیا ہیں؟

Study buddhism what are four noble truths

چار بلند و بالا سچائیاں وہ بنیادی حقائق ہیں جو مسائل پر قابو پانے کے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ مہاتما بدھ کا پہلا سبق ہے جو بدھ مت کی باقی تمام تعلیمات کا ڈھانچہ مہیا کرتا ہے۔

پہلی بلند و بالا سچائی: حقیقی آزار

پہلی سچائی یہ ہے کہ زندگی عموماً غیر اطمینان بخش ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک، بہت سے خوشی کے لمحات آتے ہیں، مگر وہ زیادہ دیر نہیں رہتے، اور بہت سے نا خوشگوار لمحے بھی ہوتے ہیں:

  • عدم مسرت -  بیماری، مایوسی، تنہائی، خوف اور عدم اطمینان کی پہچان اور ادراک آسان ہے۔ بیشتر اوقات اس کا تعلق ہمارے گرد و نواح سے نہیں ہوتا – ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے بہترین دوست کے ساتھ اپنا مرغوب پکوان کھا رہے ہوں، پر پھر بھی ناخوش ہوں۔
  • عارضی مسرت – جس شے سے بھی ہم لطف اندوز ہوتے ہیں، یہ نہ تو دیر پا ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیں تسکین دیتی ہے، اور یہ جلد ہی عدم مسرت میں بدل جاتی ہے۔ جب ہمیں شدید سردی لگے تو ہم کسی گرم کمرے میں جاتے ہیں، اور پھر گرمی اس حد تک ناقابل برداشت ہو جاتی ہے کہ ہمیں پھر سے تازہ ہوا کی خواہش ہوتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ خوشی دائمی ہوتی، مگر مشکل یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ (دیکھئیے: مسرت کیا ہے؟)
  • رو بہ تکرار مسائل -  ایک بڑی خرابی وہ طریقے ہیں جو ہم زندگی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کے لئیے استعمال کرتے ہیں جو کہ مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً، ہم کسی خراب تعلق میں بندھے ہوۓ ہیں اور جو ہمارا رویہ ہے اس سے حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔ ہم تعلق قطع کر لیتے ہیں، مگر چونکہ ہم نے اپنی بری عادات کو مزید تقویت پہنچائی ہے، تو ہم اپنے اگلے تعلق میں بھی اسی طور اطوار کا اعادہ کرتے ہیں۔ تو یہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
ویڈیو: تسنژاب سرکونگ رنپوچے ۱۱ ـ «چار بلند و بالا سچ کیا ہیں؟»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

دوسری بلند و بالا سچائی: آزار کا اصل سبب  

ہماری عدم مسرت اور عارضی مسرت ہوا میں سے نہیں آتی، بلکہ اس کے پیچھے حالات و اسباب کا وسیع حلقہ ہوتا ہے۔ خارجی عناصر، مثلاً وہ سماج جس میں ہم رہتے ہیں، ہمارے مسائل کے استوار ہونے کے حالات پیدا کرتے ہیں؛ لیکن اصلی حقیقت جاننے کے لئیے، مہاتما بدھ نے کہا، ہمیں اپنے من کے اندر جھانک کر دیکھنا چاہئیے۔ ہمارے اپنے پریشان کن جذبات – نفرت، رشک، لالچ، وغیرہ – ہمیں اضطراری طور پر تباہ کن انداز سے سوچنے، بولنے اور عمل برآ ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ 

مہاتما بدھ نے مزید غور کرنے پر ان جذباتی حالتوں کے پسِ پردہ اصل وجوہات کو دریافت کیا : یعنی ہم حقیقت کا ادراک کیسے کرتے ہیں۔ اس میں ایسے رویہ کے دور رس اثرات کے بارے میں عدم آگہی اور غلط فہمی شامل ہے، اور ہمارے، دوسروں کے اور دنیا کے وجود کی حقیقت کے متعلق شدید مغالطہ بھی شامل ہے۔ اشیا کے باہمی ربط کو سمجھنے کی بجاۓ ہم سوچتے ہیں کہ اشیا میں خود وجودیت پائی جاتی ہے، اور یہ کہ وہ خارجی عناصر سے لا تعلق ہیں۔

تیسری بلند و بالا سچائی – آزار کی حقیقی روک تھام

مہاتما بدھ نے کہا کہ ہمیں اسے بھگتنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اگر ہم علت کا خاتمہ کر دیں تو معلول پیدا ہی نہیں ہو گا۔ اگر ہم حقیقت کے متعلق اپنی غلط فہمی کو مٹا دیں، تو مسائل کا کبھی بھی اعادہ نہیں ہو گا۔ وہ ہمارے ایک  دو مسائل کی بات نہیں کر رہا تھا – اس کا کہنا تھا کہ ہم نئے مسائل کو سرے سے جنم ہی نہیں دیں گے۔

چوتھی بلند و بالا سچائی – من کا حقیقی راستہ

اپنے بھولپن اور عدم آگہی سے نجات پانے کے لئیے ہمیں ان کے عین متناقض صفات کو دیکھنا ہو گا:

  •  مستقبل بعید کے لئیے منصوبہ بندی کیجئیے، نہ کہ فوری تشفّی کی خاطر جلد بازی سے قدم اٹھا نا
  •  وسیع النظری سے کام لیجئیے، نہ کہ زندگی کے کسی ایک چھوٹے سے پہلو پر توجہ مرکوز کرنا۔
  •  اپنے اعمال کے اثرات کو دھیان میں رکھئیے اپنی زندگی پربھی اور آنے والی نسلوں پر بھی، نہ کہ محض اسی پر قناعت کی جاۓ جو ہمارے لئیے ابھی سہل ہے۔

بعض اوقات زندگی کی مشکلات سے دوچار، ہم خیال کرتے ہیں کہ اس سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ یا تو ہم نشے میں دھت ہو جائیں یا پھر غیر صحت بخش غذا سے شکم سیری کر کے اپنی توجہ کسی دوسری جانب پھیر لیں، بغیر سوچے سمجھے کہ اس کے دور رس نتائج کیا ہوں گے۔ اگر ہم اس کی عادت ڈال لیں، تو اس سے نہ صرف ہماری صحت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جو ہماری زندگی کو خطرے میں ڈال دے، بلکہ ہمارے خاندان پر بھی اس کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس کے پس پشت جو نظریہ کار فرما ہے وہ یہ کہ ہم اپنے اعمال کے نتائج سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں۔ پس ہمارے مغالطہ کی سب سے طاقتور ضِد یہ ہے:

  •  جان لو کہ ہم سب آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں تمام انسانیت اور کرہ ارض کے ساتھ، اور یہ بھی سمجھ لو کہ اپنے وجود کے متعلق ہمارے خام تصورات کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ 

ہم بارہا مراقبہ سے ایسے ادراک کی عادت ڈال سکتے ہیں، یوں ہم تمام مغالطے کو جو ہمارے خام تصورات کو تقویت دیتا ہے ختم کر دیں گے۔

[دیکھئیے: مراقبہ کیسے کیا جاۓ]

ہم سب مسرت کے خواہاں ہیں مگر پھر بھی یہ ہم سے بچ نکلتی ہے۔ مہاتما بدھ کا خوشی پانے کا طریقہ – جس کا ذکر اوپر چار بلند و بالا سچائیوں میں کیا گیا ہے – ایک عالمگیر حقیقت ہے جو کہ ۲،۵۰۰ برس گزر جانے کے بعد جب اس نے اسے پہلی بار سِکھایا آج بھی سچ ہے۔ 

اپنے روز مرہ مسائل سے نمٹنے کی خاطر چار بلند و بالا سچائیوں سے استفادہ کرنے کے لئیے کوئی مہاتما بدھ بننا ضروری نہیں۔ حالات کے دھارے کا ہمیشہ ہمارے حسبِ منشا بہنا ناممکن ہے، مگر یہ مایوس اور نا امید ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ چار بلند و بالا سچائیوں کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ہمیں اپنی زندگیوں کو حقیقی مسرت پانے اور انہیں با مقصد بنانے کی خاطر ضرورت ہے۔ قصہ مختصر، حقیقی آزار کی شناخت لازم ہے؛ آزار کی اصل وجہ سے چھٹکارا ضروری ہے؛ دکھ کی روک تھام کی ضرورت ہے؛ اور من کا حقیقی راستہ پانا ضروری ہے۔ 

ویڈیو: چودھویں دلائی لاما ـ «بودھی نقطۂ نظر سے من کا سکون»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔
Top