بدھ مت کا نظریۂ حیات

روز مرہ زندگی میں اہم ترین معاملات یہ ہیں کہ جس حد تک ممکن ہو ضرر رساں گفتار، افکار اور اطوار سے پرہیز کیا جائے اور ممکنہ حد تک تمام مثبت اور تعمیری اطوار کی آبیاری کی جائے۔ اس کے لئیے من کو سدھانا پڑتا ہے، اسے حقیقت سے متعلق الجھن اور طرز عمل کے علت و معلول کے متعلق الجھن سے نجات دلانا پڑتی ہے۔ جب ہم اس انداز سے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں تو ہمارا نظریۂ حیات بدھ متی ہو جاتا ہے۔

ہمارا موضوع، 'بدھ مت کا نظریۂ حیات'، اس کا بنیادی مقصد ہماری روز مرہ زندگی میں بودھی تعلیمات کا اطلاق ہے۔ ان سے ہمارا کیا رشتہ ہے؟ یہ نہاِت اہم امر ہے۔ ہم خواہ تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہوں اور باقاعدگی سے مراقبہ بھی کرتے ہوں، لیکن یہ بات عیاں نہیں کہ ان کے حوالے سے کس طرح اپنی روز مرہ زندگی بسر کی جائے۔ ان کا عملی کردار کیا ہے؟ یہ کس طرح ہماری زندگی پر اور ہماری ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں؟ کیا بودھی پاٹھ کوئی وقت گزاری کا مشغلہ ہے جسے ہم تفریح کی خاطر یا زندگی کے مسائل سے فرار کی خاطر اپناتے ہیں؟ کیا ہم محض کسی حسیں تصور میں کھو جاتے ہیں، یا کہ ہمارا پاٹھ واقعی کوئی مفید عمل ہے اور سچ مچ ہماری زندگی کو بہتر بناتا ہے؟ بدھ مت کی تعلیمات کا بہر حال یہی مقصد تھا، یعنی آلام و مصائب پر قابو پانے میں ہماری مدد کرنا۔

ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔
Top