رنگو تلکو کے ساتھ مصاحبہ–––

سٹڈی بدھزم نے رنگو تلکو کے ساتھ بودھی چریا میں ان کے ایک مرکز جوکہ برلن کے وسط میں امن کا ایک نخلستان ہے، میں بات چیت کی۔


سٹڈی بدھزم: از راہِ کرم اپنا تعارف کروائیے۔

رنگو تلکو: میرا نام رنگو تلکو ہے۔ رنگو میرے آشرم کا نام ہے جو کہ مشرقی تبت میں واقع ہے۔ میں نے اپنی بیشتر تعلیم سکم، بھارت میں حاصل کی۔ میں مختلف خنپو اور لاما کے زیرسایہ درس لیتا رہا، مگر میں دلگو خنتسے رنپوچے اور سولہویں کرمپا کو اپنے خاص اساتذہ مانتا ہوں۔ میں نے اپنے سب منصب انہی سے لئیے، لیکن مجھے تبتی بدھ مت کے چاروں مدرسوں سے بھی گیان لینے کا موقع ملا۔
 
سٹڈی بدھزم: بدھ مت کا مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟ بدھ مت لوگوں کو کیا دے سکتا ہے؟

رنگو تلکو: ہمیں ہمیشہ یہ سوال پوچھنا سکھایا جاتا تھا،"میں درحقیقت کیا چاہتا ہوں؟" اگر آپ اس پر ذرا غور کریں کہ آپ درحقیقت کیا چاہتے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ ہر قسم کے دکھ، درد اور مسائل سے نجات۔ نہ صرف آپ خود اپنے لئیے اس سے نجات چاہتے ہیں بلکہ آپ اپنے عزیز و اقارب کو بھی دکھ سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو دراصل، دکھ سے نجات اور دائمی سکون اور مسرت کا حصول، اور یہ سب دوسروں کو بھی مہیا کرنا، ہمارے لئیے سب سے اہم بات ہے۔ بدھ مت کا مطالعہ ہمیں اسے پانے کے مراحل سے روشناس کراتا ہے اور وہاں تک رسائی کرواتا ہے۔

سٹڈی بدھزم: آج کل لوگ، خصوصاّ نوجوان طبقہ، پُر مسرت اور کامل ہونے کا دباؤ محسوس کرتے ہیں، خواہ وہ نہ بھی ایسے ہوں۔ آپ کے خیال میں آج کل کے نوجوان لوگوں کا سب سے بڑا مسٔلہ کیا ہے؟

رنگو تلکو: میرے خیال میں آج کل کے نوجوان لوگوں کی توقعات بہت بلند ہیں۔ وہ مجھے سب سے بڑا مسٔلہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ ٹھیک طرح سے 'سمسار' کا مطلب نہیں سمجھتے – کہ اس جہان میں بہت سا دکھ، درد، منفیت، کمزوریاں، جہالت، جارحیت وغیرہ وغیرہ پائی جاتی ہیں۔ یہ بنیادی باتیں ہیں، مگر ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ سب لوگ ہمیشہ اچھے، دریا دل اور بےعیب ہوں گے۔

ویڈیو: رنگو تلکو ـ «آج کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسٔلہ»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے خارجی مسائل موجود ہیں، مگر یہ مسائل ہمارے اندر بھی ہیں۔ جب ہمیں اس کا بخوبی شعور ہو جاۓ، تو اس سے ایک طرح کی قبولیت اور درد مندی پیدا ہوتی ہے – ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی شخص بھی بےعیب نہیں تو پھر اگر ہم کوئی ناگوار شے دیکھیں، تو ہم درد مندی محسوس کرتے ہیں۔
 
سٹڈی بدھزم: کیا آپ ہر دم پُر مسرت رہتے ہیں؟ اگر نہیں، تو کیوں نہیں؟ آپ عدم مسرت سے کیسے نمٹتے ہیں؟

رنگو تلکو: میرے خیال میں میں کافی خوش رہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں یہ توقع نہیں کرتا کہ ہر شے مکمل طور پر بےعیب ہو۔ میں زیادہ کی توقع نہیں کرتا – میری توقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میں بہت سفر کرتا ہوں، مگر جہاں بھی جاتا ہوں خوش رہتا ہوں۔
 
میرے خیال میں مسرت سے مراد من کا سکون ہے، یعنی ایک شانت من۔ من تب شانت ہوتا ہے جب ہم حالات کو قبول کرنا سیکھ لیں اور ہر حال میں مطمٔن ہوں۔ یہ جذبات سے نبرد آزمائی کا بھی بہترین طریقہ ہے۔
 
سٹڈی بدھزم: آج کی حد سے متجاوز مصروف دنیا میں مسرت پانے کے لئیے لوگ کونسے ٹھوس قدم اٹھا سکتے ہیں؟

 رنگو تلکو: میرے خیال میں مصروفیت کا مسرت یا عدم مسرت سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ ہماری مصروفیت کا دارومدار ایک طرح سے ہمارے اوپر ہی ہے۔ یہاں مسٔلہ یہ ہے کہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ جس قدر زیادہ کام کریں گے اتنا ہی ان کا مال اسباب بڑھے گا، اسی تناسب سے ان کی خوشی میں اضافہ ہو گا۔ مگر اس بھاگ دوڑ میں وہ پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ عدم مسرت کا سبب بن جاتا ہے۔ اول ہمیں یہ سمجھنا چاہئیے کہ بہت کچھ اکٹھا کر لینے سے یا بہت کچھ کر لینے سے مسائل حل نہیں ہو تے۔ اصل بات من کی تشفی ہے۔
 
اگر آپ مصروف ہیں تو یہ عدم مسرت کی کوئی وجہ نہیں۔ اس کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ آپ اس کے بارے میں کیا رویہ رکھتے ہیں۔ کبھی حالات سازگار ہوتے ہیں اور کبھی ناموافق۔ مگر ہمارا فرض یہ ہے کہ اپنی سی پوری کوشش کریں۔ اگر میں اپنی پوری کوشش کروں اور مجھے کامیابی ہو، تو بہت عمدہ۔ اور اگر کامیابی نہ ہو تو میں نے کم از کم اپنی طرف سے پوری کوشش کی، اس سے زیادہ اور میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اگر میں یہ لائحہ عمل اختیار کروں، تو میرے خیال میں یہ زیادہ سکون بخش ہو گا۔
 
 سٹڈی بدھزم: بدھ مت کے متعلق یہ خیال عام ہے کہ یہ بےحد برداشت اور رواداری کا مسلک ہے، اور اس سے یہ تصور بھی جنم لیتا ہے کہ یہ ایک مجہول انداز فکر ہے: جو ہوتا ہے ہونے دو – بس جاؤ اور جا کر مراقبہ کرو۔ کیا یہ برحق ہے؟

رنگو تلکو: میرے خیال میں یہ تصور بالکل غلط ہے! یقیناّ یہ بدھ مت کا موقف نہیں کہ جو ہوتا ہے ٹھیک ہے۔ ہمیں بےشک حقیقت پسند ہونا چاہئیے اور اپنے حال اور مقام کو پہچاننا چاہئیے۔ لیکن اگر ہم وہیں رک جائیں اور ہمت ہار بیٹھیں، تو یہ انفعال ہو گا۔ مگر یہ راہ اختیار کرنا ضروری نہیں!

ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہئیے۔ جو کچھ بھی ہوا، جو کچھ ہم نے کیا، اچھا یا برا یا جو بھی، اب ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا۔ ہم آئیندہ کے لئیے بہتر لائحہ عمل اختیار کر سکتے ہیں اور کرتے چلیں، مگر پریشانی اور غصے کی حالت میں نہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ہم اپنے لئیے اور غیروں کے لئیے منفی جذبات کو ہوا نہ دیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو بس اپنے آپ کو جلا بیٹھیں گے، اور یہ کارگر نہیں۔
 
سٹڈی بدھزم: آج کل لوگ کافی ناراض نظر آتے ہیں۔ مختلف خرافات جیسے ماحولیاتی تباہی، دنیا میں مختلف نا انصافیاں، بد عنوانی، سکینڈل وغیرہ عام ہیں۔ کیا ہم اتنے مختار بن سکتے ہیں کہ دنیا کو بدل دیں؟
 
رنگو تلکو: میرے خیال میں ہم دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ مگر یہ آسان کام نہیں۔ یہ آسان اس لئیے نہیں کہ یہ آسان نہیں۔ بلکہ اس لئیے کہ ہم اسے کرتے نہیں! ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ مہربان، دریا دل اور معاون ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ اچھا رویہ رکھیں، صبر سے کام لیں اور برداشت کا مادہ پیدا کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ محنت مشقت کریں اور دانش ور ہوں۔
 
مگر محض خواہش کرنے سے لوگ ایسے نہیں ہو سکتے۔ تو ہمیں یہ کام خود سے شروع کرنا ہے۔
 
ہمارے پاس چھ خصائص ہیں – سخاوت،اخلاق، صبر، جد و جہد، استغراق اور دانش – اور اگر لوگ انہیں استوار کرنے کی کوشش کریں تو وہ عظیم انسان بن سکتے ہیں۔ اگر ایسے لوگ تعداد میں زیادہ ہو جائیں تو دنیا ایک عمدہ جگہ بن جاۓ۔ ہم دوسروں سے ایسا کرنے کی توقع نہیں کر سکتے، اور نہ ہی انہیں مجبور کر سکتے ہیں۔ ہمیں ان صفات کو اپنے اندر پالنا پوسنا ہے۔

یہ بدھ مت کی عملی شکل ہے – اپنے اوپر کام کرنا۔ ایسا کرنے سے دوسرے لوگ دیکھیں گے کہ یہ صفات سب کے لئیے کتنی فائدہ مند ہیں۔ اگر ہم اس نظریہ کو محض خیال کی حد تک اپنائیں، تو بھی اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔
 
بےشک دنیا میں بہت سی خرابیاں ہیں، مگر غصہ کرنے سے کچھ نہیں بدلتا۔ اگر میں اس بارے میں غصہ اور جارحیت سے کام لوں، تو میں بھی اس مسٔلے کا حصہ بن جاؤں گا۔ سکون اور صبر کے ساتھ، ٹھنڈے مزاج سے، ایک لمبے دیرپا انداز سے مسائل کو حل کرنا اس کا صحیح علاج ہے۔
 سٹڈی بدھزم: بعض اوقات زندگی میں انسانوں کو خاصے مشکل مسائل سے واسطہ پڑتا ہے۔ لوگوں کی ملازمت چھوٹ جاتی ہے، لوگ مر جاتے ہیں، لوگوں پر شدید خوف طاری ہو جاتا ہے۔ تو ہم کیا کریں؟

 رنگو تلکو: ایک بار میں بلجئیم میں یا ایسی ہی کسی جگہ تھا، ایک خاتون میرے پاس آئی اور کہنے لگی،"میں اس سے زیادہ اب برداشت نہیں کر سکتی، اب اس کی حد ہو چکی، میں خود کشی کر لوں گی۔" اس نے کہا کہ وہ اپنا آشنا اور اپنی ملازمت دونوں سے محروم ہو چکی تھی۔ وہ تہی دست تھی، اور اس لئیے مرنا چاہتی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر وہ مرنا چاہتی ہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا، مگر یہ قدم اٹھانے سے پہلے کیوں نہ ایک بار بھارت کا چکر لگایا جاۓ۔ "مجھے یہ مت کہو کہ تمہارے پاس کوئی پیسہ نہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد تمہیں پیسے کی ضرورت نہیں ہو گی۔"  میں نے کہا۔

ویڈیو: رنگو تلکو ـ «مشکل حالات سے نبرد آزمائی»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

بعض اوقات لوگ بھارت یا اور کسی جگہ جاتے ہیں اور جب واپس لوٹتے ہیں تو ان کی باچھیں کھِلی ہوتی ہیں، کیونکہ وہ زندگی کا زیادہ پُر حقیقت نظریہ پاتے ہیں۔ یہ خاتون جاپان گئی اور وہاں سے خوش لوٹی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک پہاڑی سے نیچے گری اور وہ قریب المرگ تھی۔ وہ وہاں پھنس گئی اور سوچنے لگی،" اب میرا آخری وقت آ گیا ہے۔"

اُس دم وہ یہ سب باتیں بھول گئی کہ اس کا کوئی آشنا نہیں، اس کے پاس ملازمت نہیں، پیسہ نہیں – یہ سب ہیچ محسوس ہونے لگا۔ اس کے ذہن پر ایک ہی بات سوار تھی، " کاش میں یہاں سے زندہ بچ نکلوں، اس پر میں بہت خوش ہوں گی!" آخر کار اسے بچا لیا گیا اور وہ مجسمہ مسرت بن کر واپس آئی۔
 
تو یہ سب اضافی باتیں ہیں۔ اکثر ہم اپنے کو برے حال میں محسوس کرتے ہیں۔ مگر، در حقیقت، حالات اس سے بھی بد تر ہو سکتے تھے۔ حالات ہمیشہ بہتر یا بد تر ہو سکتے ہیں، اور اگر ہمیں اس کا واضح ادراک ہو تو اس سے مدد ملتی ہے۔
 
ایک بار ایک صحافی نے تقدس مآب دلائی لاما سے پوچھا،" آپ ہمیشہ لوگوں کو رجائیت کا درس دیتے ہیں، مگر تبت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے!" وہاں یہ کارگر نہیں ہوا – وہاں حالت پہلے سے بھی ابتر ہے، روشن پہلو دیکھنے والی وہاں کوئی بات نہیں!" تقدس مآب حسب عادت دبی ہنسی ہنسے اور کہنے لگے،" آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ تبت میں حالات شائد اس سے زیادہ کبھی خراب نہیں ہوۓ، اس لئیے وہاں کوئی ایسی چیز نہیں جسے بہتر نہ بنایا جا سکے۔ حالت اس قدر خراب ہے کہ اسے صرف بہتر ہی بنایا جا سکتا ہے۔"

اسی طرح ہمیں یہ دیکھنا چاہئیے کہ ہم کیا کچھ بہتر بنا سکتے ہیں، اس سے ہم روشن خیال بنتے ہیں۔ تقدس مآب کا جواب نہائت عمدہ تھا، کیونکہ اگر ہماری حالت دگر گوں ہو اور ہم کہیں،" یہ تو بہت برا ہے۔ میں ہار مان لیتا ہوں،" تو پھر ہم واقعی ہار گئے۔ لیکن اگر ہم یوں سوچیں کہ میں صورت حال کو بہتر بنانے کے لئیے، خواہ یہ تبدیلی کتنی تھوڑی سی ہی ہو، کیا کر سکتا ہوں، تو اس سے ہمارے اندر روشن خیالی پیدا ہوتی ہے، اور ایسی سوچ ہمارا انداز فکر بدل دیتی ہے۔ 

سٹڈی بدھزم: آپ نے تبتی لوک کہانیوں پر کتابیں لکھی ہیں، آپ کی من پسند کہانی کونسی ہے؟

رنگو تلکو: مجھے لوک کہانیاں پسند ہیں۔ مگر مجھے ٹالسٹائی کی کہانیاں بھی پسند ہیں۔ ان میں سے ایک ایک فرشتے کے متعلق ہے جس کے پر کاٹ دئیے گۓ اور اسے کرہ ارض پر بھیجا گیا تا کہ انسانوں کے بارے میں تین اہم ترین باتوں کا پتہ لگاۓ۔ پہلی چیز اس نے یہ دیکھی کہ انسانوں کے دلوں میں پیار ہے۔ دوم یہ کہ انہیں اپنی موت کے وقت کا علم نہیں۔ تیسری یہ کہ انسان دوسرے انسانوں کے پیار کی بدولت جیتے ہیں۔ اس کے بعد اس کو اپنے پر واپس مل گئے  تا کہ وہ اُڑ سکے۔

سٹڈی بدھزم: آپ کے خیال میں کیا یہ کہانی بدھ مت کی تعلیمات سے مطابقت رکھتی ہے؟

  رنگو تلکو: ہاں، مگر محض بدھ مت کی تعلیمات سے ہی نہیں۔ یہ مقدس ہستیوں کی دی گئی عالمی تعلیمات سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔ مقدس ہستی وہ ہے جو مکمل طور پر بےغرض ہو، تو ان کی تعلیم پیار کی ہی تعلیم ہو گی – تمام ذی شعور ہستیوں سے برابر کا پیار۔ یہ بدھ مت کا مرکزی پیغام ہے، اور بےشک تمام عظیم ادیان کا بھی۔
سٹڈی بدھزم: آپ پر ایک فلم بنائی گئی ہے جس کا نام ہے "سست لاما،" یہ نام کہاں سے آیا؟

رنگو تلکو: اس کا ماخذ ایک کتابچہ ہے جو میرے چیلوں نے میری تعلیمات پر مرتب کیا اور اس کو "سست لاما کے مراقبے کا جائزہ" نام دیا۔ میں سست ہوں اور کوئی کام نہیں کرتا۔ میں بہت سارے کام کرتا ہوں اور بہت سا سفر بھی کرتا ہوں۔ مگر میں گھنٹوں مراقبہ کرنے کا ماہر نہیں ہوں۔ میرے خیال میں اس کی وجہ سستی ہے!

سٹڈی بدھزم: ہم میں سے جو مصروف بھی ہیں اور کاہل بھی، کیا ان کے لئیے آپ کوئی مختصر پانچ منٹ کا مراقبہ تجویز فرما سکتے ہیں جو ہماری روز مرہ زندگی میں معاون ہو؟

رنگو تلکو: میرے خیال میں کسی کام کو شروع کرتے وقت یہ دیکھنا اہم ہے کہ ہماری تحریک کیا ہے – میں کیا کرنے لگا ہوں اور کیوں؟ میرا مدعاء انتہا کیا ہے؟ پھر ہم پر یہ واضح ہوگا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور ہمیں کس چیز کی مشق کرنی ہے۔
 
بدھ مت محض مراقبہ ہی نہیں۔ یہ بھر پور مشق ہے۔ اکثر لوگ ایسے سوچتے ہیں کہ وہ مراقبہ نہیں کر سکتے یا وہ کرنا نہیں چاہتے، تو وہ بدھ مت اختیار نہیں کر سکتے۔  لیکن ہم بدھ مت کو بغیر مراقبہ کے بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ مطالعہ کے لئیے آٹھ سطحی راہ اور چھ  پیمانے بھی موجود ہیں! آپ محض مہر کی مشق بھی کر سکتے ہیں جو کہ ایک نہائت عمدہ مشق ہے، اور اس کے لئیے کسی خاص مقام یا وقت کی ضرورت نہیں۔
 
یہ سب سے اہم بات ہے۔ برداشت، صبر، حسن سلوک، ہمیں ان سب کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہئیے۔ یہ کوئی ایسا فالتو کام نہیں ہونا چاہئیے جس پر ہم روزانہ چند منٹ صرف کرتے ہیں۔ ہم چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں، ہمارا ان کے بارے میں رد عمل کیا ہوتا ہے، ہم زندگی کیسے بسر کرتے ہیں – یہ دھرم کی حقیقی مشق ہے۔

رنگو تلکو کی مزید ویڈیو دیکھئیے

Top