ارتکاز بطور ایک کمال: دھیان پرمت

ہمارے من آوارگی کا شکار ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب ہم کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنا چاہ رہے ہوں تو ہمارے سمارٹ فون کے لگاتار پیغام، یا مستقبل کے سہانے سپنے ہمیں بھٹکاتے ہیں۔ ہمارے جذبات میں تلاطم پیدا ہوتا ہے جو ہمیں کسی چیز پر دھیان دینے میں مخل ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ہمارے من خوف اور پریشانی کا شکار ہوں۔ ارتکاز کے کمال سے، جس میں من اور جذبات کا استحکام شامل ہو، ہم کسی بھی مثبت کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے اہل ہوتے ہیں۔

تعارف

چھ  دور رس اطوار  (کمالات) میں سے پانچواں ارتکاز یعنی من کی استقامت ہے۔ اس کی مدد سے ہم جب تک چاہیں، ایک مثبت جذبہ اور عمیق فہم کے ساتھ، کسی بھی چیز پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔ ہمارے من پریشان کن جذبات (خاص طور پر من پسند چیزوں سے لگاؤ)، یا ذہنی کاہلی سے پیدا ہونے والے فرار اور آوارگی سے محفوظ رہتے ہیں۔ ایک چست من کی مدد سے، ہماری شکتی مرتکز اور ہمارے قابو میں ہوتی ہے، اور ہمارے اندر بے قابو بھاگتی دوڑتی نہیں۔ ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر ایک شادمان اور پر مسرت – مگر پر سکون -  احساس کا تجربہ ہوتا ہے۔ ہم ایک غیر معمولی طور پر شفاف من کو محسوس کرتے ہیں جو کہ بھٹکانے والے خیالات اور ذیلی جذبات سے پاک ہونے سے معرض وجود میں آتا ہے۔ اس صاف، شفاف اور پر مسرت حالت سے موہ لگاۓ بغیر ہم اسے کسی بھی مثبت مقصد کو پانے کی خاطر استعمال میں لا سکتے ہیں۔

من کی دور رس استقامت کو ان تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے – بلحاظ فطرت، بلحاظ جنس، اور بلحاظ  تفاعل۔

فطرت کے اعتبار سے ارتکاز کی تقسیم

دور رس من کی استقامت کی مختلف حالتوں کی درجہ بندی کا ایک طریقہ اس شخص کا درجۂ کامیابی ہے جو اس نے حاصل کیا ہے۔ ہم ارتکاز میں کمال میں یوں امتیاز کر سکتے ہیں

  • 'ایک عام انسان' – کوئی ایسا انسان جس نے ابھی تک خالی پن کے غیر تصوراتی روپ کو نہیں پہچانا
  • 'عام سطح سے بالا تر کوئی شخصیت' – کوئی بر گزیدہ ہستی (ایک آریہ) جسے خالی پن کی غیر تصوراتی جان پہچان ہو۔

جن لوگوں کو خالی پن کے غیر تصوراتی وجود کا تجربہ ہوا ہے، خواہ وہ کتنا تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، تو انہوں نے اپنے من کو پریشان کن اطوار سے کسی حد تک آزاد کروا لیا ہے۔ پس انہیں اس بات کا بہت کم خطرہ ہے کہ وہ جذباتی پریشانیوں کی بدولت دور رس ارتکاز کا اپنی زندگی پر اطلاق نہیں کر پائں گے۔

ویڈیو: ڈاکٹر ایلن والس — «آجکل کے بچے اور دورانیۂ توجہ»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

ارتکاز کی انواع کے اعتبار سے تقسیم

اس تقسیم کا تعلق ہمارے اس ہدف سے ہے جو ہم دور رس من کی استقامت حاصل کرتے وقت مقرر کرتے ہیں۔ ہمارے ارتکاز کا ہدف مندرجہ ذیل کا حصول ہو سکتا ہے:

  • 'شماتھا' – من کی ایک ایسی شانت اور پر سکون حالت، جو آوارگی اور کاہلی سے مکمل طور پر مبرّا ہے، جس میں شریر اور من کی صحت اور جوش و مسرت کا احساس شامل ہے جو اس وقت تک ایک مثبت حالت میں مرتکز رہتی ہے جب تک کہ ہم چاہیں۔ یہ من کی ایک تعمیری حالت کے ساتھ کسی چیز پر  یکسوئی سے توجہ مرکوز کرتا ہے – مثلاً ایک یا ایک سے زیادہ محدود ہستیوں پر درد مندی یا محض امتیازی آگہی کے ساتھ – اور اس شے کی نا خوشگوار خصوصیات مثلاً نا پائداری، یا سمساری فطرت کی پہچان کو مد نظر رکھتی ہے۔
  • 'وپاشیانا' – یہ من کی ایک غیر معمولی غائرانہ نظر رکھنے والی حالت ہے۔ یہ بھی ویسے ہی آوارگی اور کاہلی سے مبرّا ہے، اور ایسے پر جوش و پر مسرت صحت مند وجود سے آراستہ ہے جو مشاہدہ اور شفاف فہم و فراست کے توسط سے کسی بھی شے کی تمام تفصیلات کو جاننے کی اہل ہے۔ شماتھا کی مانند، یہ یکسوئی کے ساتھ  من کی ایک تعمیری حالت میں، جیسے درد مندی، سے کسی شے پر اپنی توجہ مرکوز کرتی ہے، لیکن یہاں اس شے کے متعلق ان تمام تفصیلات کا لطیف ادراک کرتے ہوۓ جیسے کہ وہ تمام مختلف قسم کے دکھ جو انسان اٹھاتا ہے۔
  • 'شماتھا اور وپاشیانا بطور ایک جوڑی کے' – جب ہم شماتھا والی من کی حالت استوار کر لیتے ہیں تو پھر ہم اسے وپاشیانا کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وپاشیانا کی حقیقی حالت کو پہنچنے کی خاطر شماتھا کا پہلے سے موجود ہونا ضروری ہے۔ تب اس نئی جوڑی میں دو طرح کا پر جوش و پر مسرت احساس پایا جاتا ہے – ایک ایسا مستعدی اور اہلیت کا احساس جس سے ہم کسی بھی اپنی خواہش کی چیز پر مرتکز رہ سکتے ہیں اور یوں اس کی تمام تفصیلات سے آگاہ ہو سکتے ہیں – اور ساتھ ہی ان تفصیلات کی نا خوشگوار عقدہ افشائی اور لطیف ادراک سے بھی آشنا ہو سکتے ہیں۔

ارتکاز کے تفاعل کے اعتبار سے تقسیم

ایک بار جب ہم من کی دور رس استقامت پا لیں تو یہ کئی نتائج پیدا کرتی ہے۔ انہیں اس ارتکاز کے تفاعل گردانا جاتا ہے۔ ارتکاز کے نتیجہ میں:

  • 'ہمارے شریر اور ہمارے من کو اس جنم میں ایک دل خوش کن حالت ملتی ہے' – جس میں ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر شادمانی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے، اور ہمارے پریشان کن جذبات میں عارضی ٹھہراؤ آ جاتا ہے
  • 'عمدہ صفات پیدا ہوتی ہیں' – ان لوگوں کے ساتھ باہمی بانٹے جانے والے کارنامے جو محض اپنے مکش کے لئیے کام کر رہے ہیں، جیسے غیر معمولی بصیرت اور حد درجہ کی آگہی، ظہور کی شکتی، من کی استقامت کے بلند درجات (گہرا دھیان) معہ ایسے محسوسات سے نجات کے جن میں الجھن اور پریشان کن جذبات میں کمی پائی جاتی ہے۔
  • 'ہم دکھی ہستیوں کو فائدہ پہنچانے کے اہل ہوتے ہیں' – ۱۱ قسم کے مدد کے لائق وہ لوگ جن کا ذکر دور رس اخلاقی ضبط نفس اور استقامت میں بھی کیا گیا ہے۔

خلاصہ

ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیشہ عیاں نہ ہو مگر ہمیں ہر کام ہمیشہ دھیان سے کرنا چاہئیے، خواہ اپنے جوتے کے تسمے باندھنا ہی کیوں نہ ہو۔ ہم میں سے بیشتر بعض خاصے پیچیدہ کاموں پر توجہ مبذول کرنے کے قابل ہوتے ہیں، اور ہم اپنے روحانی ہدف پانے کی خاطر اس میں پوری مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسرے دور رس اطوار کی شمولیت اور بودھی چت ہدف کی شکتی سے ہمارے من کی استقامت اور ارتکاز اس قدر شکتی مان ہو جا تے ہیں کہ وہ ہمیں روشن ضمیری تک پہنچا سکتے ہیں۔

Top