مراقبہ کے بنیادی اصول

مراقبہ کے لئیے موزوں ماحول

مراقبہ کرنے کے لئیے موزوں ماحول کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ایسے عناصر جو مراقبہ کے لئیے ساز گار ہوں ان کی کئی فہرستیں ہیں، لیکن عموماً ان کا ذکر مراقبہ کے کسی چلہ میں کیا جاتا ہے، جب کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ گھر پر مراقبہ کرتے ہیں۔ 

گھر پر بھی سب سے مفید بات یہ ہو گی کہ کسی قسم کی خلل اندازی نہ ہو۔ ماحول کا پر سکون ہونا لازم ہے۔ ہم میں سے کئی لوگ ٹریفک والی پر شور سڑکوں پر رہتے ہیں، لہٰذا علیٰ الصبح یا دیر گئے رات کو مراقبہ کرنا جب کہ ٹریفک کم ہو، بہتر ہے۔ اس کے علاوہ ارد گرد موسیقی یا ساتھ والے کمرہ میں ٹیلیوژن نہیں ہونا چاہئیے۔ یہ باتیں نہائت اہم ہیں۔ اگر خاموش ماحول میسر نہ ہو تو کانوں میں پلگ کا استعمال کریں۔ وہ سارے کا سارا شور تو نہیں روک سکتے، لیکن ان سے یقیناً شور کم ہو جاتا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس الگ سے مراقبہ کے کمرہ کی سہولت تو میسر نہیں ہے، اس لئیے آپ جو بھی جگہ ملے اسے استعمال میں لائیں۔ آپ اپنے بستر پر بھی مراقبہ کر سکتے ہیں، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ بھارت میں رہنے والے تبتی لوگ اپنے بستروں پر مراقبہ کرتے ہیں۔

ایک اور چیز جو نہائت اہم ہے وہ یہ کہ کمرہ صاف ستھرا ہونا چاہئیے۔ اگر فضا صاف ستھری ہو تو من کو بھی صاف ستھرا ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اگر کمرہ بے ہنگم، الٹ پلٹ اور گندہ ہو تو من بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ اسی لئیے مراقبہ کی شروعات میں سے ایک بات جو ہمیشہ لازم سمجھی جاتی ہے وہ مراقبہ کے کمرہ کی صفائی اور کوئی چڑھاوا چڑھانا ہے خواہ وہ پانی کا ایک پیالہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اپنے کام کو قابل احترام بناتے ہیں، اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ مہاتما بدھ اور بودھی ستوا اس میں شریک ہوں تو ہم انہیں ایک صاف ستھرے، نہ کہ بے ہنگم اور گندے کمرے میں آنے کی دعوت دیں گے۔ ویسے بھی نفسیاتی طور پر، یہ امر اہم ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہیں اسے اہم سمجھیں۔ "اہم" کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی عالی شان ماحول پیدا کیا جاۓ جیسے کہ ہالی وڈ کی کسی فلم کا سیٹ جو اگر بتی اور موم بتیوں سے آراستہ ہو، بلکہ ایک سادہ، مگر صاف ستھرا اور احترام لائق ہو۔

انداز نشست

ایشیا کے مختلف ممالک میں لوگ مراقبہ کے لئیے جو انداز نشست اختیار کرتے ہیں اس میں باہمی فرق پایا جاتا ہے۔ بھارت، تبت، چین، جاپان، اور تھائی لینڈ ان سب کے ہاں مراقبہ کے انداز نشست ایک دوسرے سے فرق ہیں، لہٰذا ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ کوئی ایک طریقہ دوسروں کی نسبت صحیح ہے۔ بھارتی اور تبتی لوگ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہیں۔ اکثر جاپانی اور کچھ چینی اپنی ٹانگیں دوہری نیچے موڑ کر بیٹھتے ہیں۔ تھائی لینڈ کے لوگ اپنی ٹانگیں ایک طرف کو موڑ کر بیٹھتے ہیں۔ تنتر پاٹھ جس میں ہم شریر کی شکتی کے ساتھ کام کرتے ہیں جہاں مکمل کنول درکار ہوتا ہے، لیکن ہم میں سے بیشتر ابھی پاٹھ کے اس مرحلہ تک نہیں پہنچے۔ اگر آپ اس قسم کا پاٹھ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس بات کا پر زور مشورہ دیا جاتا ہے کہ کم سنی سے ہی اس کی مشق شروع کر دیں، کیونکہ زندگی کے بعد کے حصے میں اس پوزیشن یعنی کنول کی مانند بیٹھنا نہائت مشکل ہو گا۔ مغربی لوگوں کے لئیے ان مختلف روائتی ایشیائی انداز میں سے کسی ایک کو اپنانا ٹھیک ہے؛ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کرسی پر بھی بیٹھ سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پشت سیدھی ہو۔

نظر کو جمانا

جہاں تک آنکھوں کا تعلق ہے، بعض مراقبوں میں آنکھیں بند ہوتی ہیں، بعض میں کھلی، بعض میں نظر نیچی ہوتی ہے، بعض میں نظر اوپر اٹھی ہوتی ہے؛ یہ تو مراقبہ پر منحصر ہے۔ عمومی طور پر تبتی آنکھیں بند کرکے مراقبہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ آنکھیں بند ہونے سے اونگھ آنے کا خطرہ ہے، اس سے من میں یہ رکاوٹ بھی پیدا ہوتی ہے کہ آپ محسوس کرتے ہیں کہ مراقبہ کرنے کے لئیے آنکھوں کا بند ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ ایسا محسوس کرنے لگیں، تو اس طرح آپ مراقبہ کے ذریعہ جو بھی استوار کرنا چاہ رہے ہیں اسے روز مرہ کی زندگی سے ہم آہنگ کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں کسی سے بات کر رہا ہوں، اور پیار کا جذبہ پیدا کرنے کے لئیے مجھے آںکھیں بند کرنا پڑیں، تو یہ عجیب سا لگے گا۔ لہٰذا تبتی مسلک کے مطابق، زیادہ تر مراقبوں کے لئیے، آپ اپنی آںکھیں، کسی حد تک مرتکز، فرش کی جانب دیکھتے ہوۓ نیم وا رکھتے ہیں ۔

گدی

اگر آپ آلتی پالتی مار کر بیٹھے ہوۓ ہیں تو مناسب گدی جس پر آپ بیٹھے ہیں کا انتخاب اہم ہے۔ بعض لوگ فرش پر سیدھے بیٹھ جاتے ہیں اور ان کی ٹانگیں سوتی نہیں۔ تقدس مآب دلائی لاما درس دیتے وقت اپنے تخت پر ایسے ہی بیٹھتے ہیں۔ مگر ہم میں سے بیشتر لوگ اگر ایسے بغیر گدی کے بیٹھیں تو ہماری ٹانگیں جلد ہی سُن ہو جائیں گی۔ پس اگر آپ کو یہ مشکل درپیش ہے تو اپنے نیچے گدی رکھ کر بیٹھیں تا کہ آپ کی پیٹھ آپ کے گھٹنوں سے اونچی سطح پر ہو۔ ایسی گدی کا انتخاب کریں جو آپ کے لئیے آرام دہ ہو، موٹی یا پتلی، سخت یا نرم، وغیرہ وغیرہ۔ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ آرام محسوس کریں، اور یہ کہ آپ کی گدی آپ کی ٹانگوں کو سُن ہونے سے بچاۓ، کیونکہ وہ بہت تکلیف دہ ہو گا۔ کئی بدھ مراکز میں موٹی گول یا چوکور گدیاں ہوتی ہیں، مگر وہ زین گدیاں جاپانی انداز میں ٹانگیں نیچے اکٹھی کر کے بیٹھنے کے لئیے ہوتی ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ ان گدیوں پر آلتی پالتی مار کر آرام سے بیٹھ سکیں۔ مگر بیشتر لوگوں کے لئیے یہ بہت اونچی اور بہت سخت ہوتی ہیں۔ اگر آپ کے مرکز میں صرف سخت گدیاں ہی میسر ہیں اور آپ آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کے عادی ہیں تو بہتر ہو گا کہ آپ اپنی گدی ساتھ لائیں۔

مراقبہ کے وقت کا تعیّن

بیشتر لوگوں کے لئیے مراقبہ کا بہترین وقت یا تو صبح سویرے ہے یا پھر رات سونے سے قبل، تا کہ روز مرہ کے کام کے لحاظ سے کم سے کم مخل اندازی ہو۔ بعض لوگ صبح کے اوقات میں زیادہ چوکس ہوتے اور بعض رات کے وقت – جنہیں "صبح کے باشندے" اور "رات کے الو" بھی کہتے ہیں۔ آپ خود سے اور اپنے طرز زندگی سے کسی اور کی نسبت بہتر واقف ہیں، لہٰذا آپ خود اس بات کا تعیّن کر سکتے ہیں کہ آپ کے لئیے کونسا وقت موزوں ہے۔ 

ایک بات جس کی ہمیشہ صلاح دی جاتی ہے وہ یہ کہ جب آپ کو نیند آ رہی ہو اس وقت مراقبہ نہ کریں۔ اگر رات کا وقت ہو اور آپ کو نیند آ رہی ہو، لیکن آپ سونے سے قبل مراقبہ کرنے کی کوشش کریں، تو ہو سکتا ہے کہ آپ مراقبہ کے دوران نیند سے مغلوب ہو جائیں، جو کہ بالکل فائدہ مند نہیں ہے۔ اسی طرح صبح کے وقت: اگر آپ پوری طرح جاگے نہیں ہیں تو آپ کا مراقبہ مفید نہیں ہو گا۔ اس بات کا خود فیصلہ کریں کہ آپ کے لئیے کیا کار گر ہے۔ اگر آپ علیٰ الصبح مراقبہ کرتے ہیں تو اس سے پہلے کافی یا چاۓ کا ایک پیالہ پینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ زیادہ تر تبتی لوگ اس کے عادی نہیں ہیں۔ 

میرا استاد تسنژاب سرکونگ رنپوچے تقدس مآب دلائی لاما کے اساتذہ میں سے تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ تبت کے تنتری کالجوں کے آشرموں میں جہاں اس کی تربیت ہوئی کس طرح مراقبہ کرتے تھے۔ تمام بھکشو مراقبہ ہال میں بیٹھتے، جہاں کہ وہ سوتے بھی، اپنی اپنی نشست پر براجمان، اور اپنا سر اپنے پڑوسی کی گود میں گراۓ ہوۓ۔ تبتی لوگ جسمانی لمس سے نہیں گھبراتے۔ صبح کی گھنٹی انہیں بہت صبح جگا دیتی اور ان سے توقع کی جاتی کہ وہ اٹھ کر بیٹھ جائیں اور مراقبہ  اور پڑھائی وغیرہ شروع کر دیں۔ لیکن ما سوا اس کے کہ آپ کوئی ڈاکٹر ہوں اور آدھی رات کو اٹھ کر فوراً ہی جراحی یا ایسا کوئی کام کرنے کے عادی ہوں، تو نیند سے بیدار ہوتے ہی فوراً مراقبہ شروع کر دینا نہائت مشکل کام ہے۔

مراقبہ کا دورانیہ کتنا ہو

جب آپ نیا نیا مراقبہ شروع کر رہے ہوں تو یہ امر اہم ہے کہ آپ کے دورانیہ قلیل مدت کے مگر بار بار ہوں۔ بطور ایک نو آموختہ کے، گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کر مراقبہ کرنا ایک سخت آزمائش بن جاتا ہے۔ بعض جگہوں میں وہ اس قسم کا طور طریقہ اپناتے ہیں، لیکن تبت کے لوگ عمومی طور پر اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، اس لئیے کہ اگر مراقبہ ایک کڑی آزمائش ہے تو پھر کون اسے کرنا چاہے گا! آپ سیشن کے خاتمے کا شدت سے انتظار کریں گے۔ پس شروع میں پانچ منٹ یا اس کے لگ بھگ دورانیہ کے لئیے مراقبہ کریں – اتنا ہی کافی ہے۔ تھرواد آشرموں میں وہ نشستی مراقبہ اور چلنے پھرنے والے مراقبہ میں ادل بدل کرتے ہیں، تا کہ وہ ایک ہی قسم کا پاٹھ بہت لمبے عرصہ تک جاری نہ رکھیں۔ 

اس کے لئیے تبتی لوگ جو مثال استعما ل کرتے ہیں وہ یہ کہ اگر آپ کے ہاں کوئی ملاقاتی آۓ اور وہ بہت دیر تک قیام کرے، تو آپ چاہتے ہیں کہ اب یہ شخص روانہ ہو۔ اور جب آپ کا دوست چلا جاۓ تو پھر آپ اسے دوبارہ ملنے کی خواہش نہیں کرتے۔ لیکن اگر آپ کا دوست اس وقت رخصت ہو جب ابھی آپ کا دل بھرا نہیں تھا اور آپ اس کے ساتھ کچھ اور وقت گزارنا چاہتے تھے، تو پھر آپ اس دوست کو دوبارہ جلد ہی مل کر بہت خوش ہوں گے۔ اسی طرح آپ کا مراقبہ، آپ کا اندازِ نشست، آپ کی نشست، اور مراقبے کا دورانیہ یہ سب مناسب ہونی چاہئیں، تا کہ ہم اپنے پاٹھ کے بارے میں پر جوش رہیں۔

ہدف کا تعیّن

مراقبہ شروع کرنے سے قبل اپنے ہدف کا تعیّن لازم ہے۔ در حقیقت، ہدف کا تعیّن صبح آنکھ کھلتے ہی ہونا چاہئیے، صبح سب سے پہلا کام۔ صبح جب آپ کی آنکھ کھلے اور آپ ابھی بستر میں ہی ہوں، تو آپ اس دن کے لئیے اپنا ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔ آپ یوں سوچ سکتے ہیں: "آج میں غصہ میں نہیں آؤں گا۔ آج میں صبر و تحمل سے کام لوں گا۔ آج میں دوسرے لوگوں کے لئیے مزید مثبت خیالات رکھوں گا۔ میں آج کے اس دن کو ایک مفید دن بناؤں گا، اور اسے ضائع نہیں کروں گا۔"

ایک عمدہ زین مقولہ ہے جو کہ میرا پسندیدہ ہے: " موت تو کبھی بھی آ سکتی ہے: بے فکر رہو:" اگر آپ اس پر غور کریں تو یہ ایک نہائت گہرا تصور ہے۔ اگر آپ موت کے بارے میں بہت فکر مند اور پریشان ہوں کہ موت کسی وقت بھی آنے والی ہے، تو آپ کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔ آپ کو اس طرح کے خیالات گھیر لیں گے: "میں نے کچھ نہیں کمایا؛ میں کسی قابل نہیں ہوں۔" لیکن اگر آپ کو یہ احساس ہو کہ موت تو کبھی بھی آ سکتی ہے، اور اس کے متعلق فکر مند نہ ہوں، تو پھر آپ نے جو بھی کرنا ہے اسے حقیقت پسندی سے، بخوبی نبھا سکیں گے بغیر کسی غم فکر اور پریشانی کے۔ پس یہ بات یاد رکھیں کہ موت تو کبھی بھی آ سکتی ہے، اور بے فکر ہو جائیں! 

مراقبہ شروع کرنے سے پہلے ہم اپنا ہدف قائم کرتے ہیں کہ "میں اتنے منٹ مراقبہ کروں گا۔ میں اپنی توجہ پوری طرح مرکوز کروں گا۔ اگر مجھے اونگھ آنے لگے، تو میں اپنے آپ کو چوکنا کروں گا۔ اگر میرا ذہن آوارگی کا شکار ہونے لگے تو میں اسے واپس اپنی جگہ پر لے کر آؤں گا۔" اس بات پر سنجیدگی سے قائم رہیں، ان الفاظ کی خالی خولی ادائگی ہی نہ کریں – اپنے ہدف کو ذہن میں ٹھیک سے قائم رکھیں، اور اس پر عمل کریں۔ اپنے ہدف پر قائم رہنا مشکل کام ہے۔ اگر آپ اپنے مراقبہ کے سیشن کو غیر متعلقہ مسائل کے لئیے استعمال کرنے کی بری عادت ڈالیں، خواہ وہ دھرم کے دوسرے مسائل ہی کیوں نہ ہوں، تو ایسی عادت کو توڑنا نہائت مشکل کام ہے۔ میں آپ کو اپنے تجربہ کی بات بتاتا ہوں: اس عادت کو توڑنا بہت مشکل ہے، لہٰذا مراقبہ شروع کرنے سے پہلے اپنا ہدف قائم کریں اور اس پر جمے رہیں۔

ترغیب

اگلی چیز ترغیب ہے۔ تبتی بدھ مت میں ترغیب دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پہلا ہے ہدف: ہم کیا پانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ موٹے موٹے ہدف کا ذکر "راہ کے درجات" (لم- رم) میں ہے۔ لم- رم میں ہدف یوں بیان کئیے گئے ہیں: (الف) مستقبل کی زندگیوں کو بہتر بنانا، (ب) پنر جنم سے مکمل چھٹکارا پانا، اور (پ) روشن ضمیری حاصل کرنا تا کہ آپ سب کی پنر جنم سے جان چھڑانے میں مدد کر سکیں۔ اس کا دوسرا حصہ وہ جذبہ ہے جو ہمیں اپنے ہدف کو پانے میں معاون ہوتا ہے۔

اپنی ترغیب کے بارے میں سوچتے وقت ہمیں اپنے آپ سے ایمانداری سے کام لینا ہے۔ کیا میں واقعی پنر جنم میں ایمان رکھتا ہوں؟ ہم میں سے بیشتر اس پر یقین نہیں رکھتے، لہٰذا یہ کہنا کہ "میں یہ کام اس لئیے کر رہا ہوں تا کہ اگلی زندگی میں مجھے ایک قیمتی پنر جنم عطا ہو،" یا "میں یہ اس لئیے کر رہا ہوں تا کہ مجھے پنر جنم سے مکمل نجات مل جاۓ،" یا "میں یہ اس لئیے کر رہا ہوں تا کہ مجھے روشن ضمیری ملے تا کہ میں اور سب لوگوں کی پنر جنم سے نجات حاصل کرنے میں مدد کر سکوں" – تو اگر آپ پنر جنم میں یقین نہیں رکھتے تو یہ سب الفاظ بے معنی ہیں۔

تو اگر آپ مراقبہ کو اس نسبت سے کر رہے ہیں جسے میں "دھرم –لائیٹ" کہتا ہوں جو کہ بدھ مت منفی پنر جنم ہے تو یہ بھی درست ہے۔ آپ کو کسی اور کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں، مگر آپ کو اپنے ساتھ اپنے محرک کے بارے میں پوری ایمانداری برتنی چاہئیے: "میں یہ اس لئیے کر رہا ہوں تا کہ میں اپنی موجودہ زندگی کو بہتر بنا سکوں۔" یہ ایک مناسب اور جائز محرک ہے بشرطیکہ ہم اس کے متعلق ایمانداری سے کام لیں۔ دوسری طرف، جسے میں "حقیقی شے دھرم" کہتا ہوں میں پاۓ جانے والے مستند، دور رس اہداف کا احترام بھی لازم ہے، اور ایسے نہیں سوچنا چاہئیے کہ بدھ مت کا پاٹھ محض اس زندگی کو ہی بہتر بنانے کے لئیے ہے۔ 

جہاں تک ہماری تحریک کے دوسرے حصہ کا تعلق ہے – وہ جذبہ جو ہمیں ہمارا ہدف پانے پر اکسا رہا ہے – حقیقی شے ترغیب کا پہلا مرحلہ ہے "میں مستقبل میں آنے والی زندگیوں میں ایک قیمتی انسانی زندگی کے پنر جنم کا طلبگار ہوں (ہدف)، کیونکہ میں اس بات سے نہائت خوفزدہ ہوں کہ بطور ایک مکھی یا لال بیگ یا کوئی اور نچلے درجہ کی مخلوق کے جنم لینا کس قدر خوفناک ہو گا (جذبہ)۔ میں اس قسم کے مستقبل سے بچنا چاہتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ اس سے بچنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہے۔" اس کا دھرم -لائٹ روپ ایسا ہو گا " میرا ہدف یہ ہے کہ میرے حالاتِ زندگی  ہموار رہیں بلکہ مستقبل میں بہتر ہوں (ہدف)، کیونکہ اگر حالات خراب ہو گئے تو یہ کس قدر خوفناک ہو گا (جذبہ) اور میں یہ بات جانتا ہوں کہ اس سے بچنے کے لئیے میں کچھ مثبت کام کر سکتا ہوں۔" بہر طور، یہ کوئی مفلوج کرنے والا خوف نہیں ہے، جیسا کہ "صورت حال یاس زدہ ہے۔ میں تباہ ہو گیا،" بلکہ یہ اس لحاظ سے مثبت ہے کہ "مجھے یہ نہیں چاہئیے، اور اس سے بچنے کا طریقہ میرے سامنے ہے۔" میرے اس خوف کی مانند کہ اگر میں گاڑی چلاؤں گا تو حادثہ کا شکار ہوں گا – میں محتاط رہوں گا، مگر میں خوف کے باعث اتنا مفلوج نہیں کہ کبھی گاڑی چلاؤں ہی نہیں۔ 

حقیقی شے کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ "میں پنر جنم (جذبہ) سے پیدا ہونے والے دکھ درد سے اس قدر پریشان اور تنگ ہوں کہ میں اس سے نجات (جذبہ) چاہتا ہوں۔ تیاگ کے پس پشت کار فرما جذبہ کا لب لباب یہ ہے "نئے سرے سے چھوٹا بچہ ہونا، نئے سرے سے سب کچھ سیکھنا، تعلیم حاصل کرنا اور روزی کمانے کی فکر کرنا، یہ سب کچھ کس قدر بیزاری کا سبب ہو گا۔ بیماری سے پالا پڑنا اور بار بار بڑھاپے کا دکھ جھیلنا، یہ سب نہائت تکلیف دہ ہے۔ یہ کوئی بری فلم بار بار دیکھنے والا معاملہ ہے۔ میرا مطلب ہے کہ کس قدر بیزار کن۔ میں اس سے تنگ آ چکا ہوں!" 

سب سے ترقی یافتہ ترغیب بودھی چت والا ہدف رکھتی ہے تا کہ روشن ضمیری حاصل کی جاۓ (ہدف) اور اس کا محرک درد مندی (جذبہ) ہے: میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ہر کوئی اس قدر تکلیف میں مبتلا ہے۔ مجھے ہر حال اس مرحلہ تک پہنچنا ہے جہاں سے میں سب کا دکھ درد دور کرنے میں ان کی مدد کر سکوں۔"

ترغیب میں یہ بھی شامل ہے کہ جب ہم اپنا ہدف پا لیں گے تو پھر کیا کریں گے۔ مہایان مسلک میں ہر ترغیب کا مقصد آخر کار روشن ضمیری پانا ہے۔ روشن ضمیری کا حصول اس بات کا تعیّن کرتا ہے کہ جب ہم اپنا ہدف پا لیں گے تو پھر کیا کریں گے۔
دھرم- لائیٹ کی سطح پر، ہم اس زندگی میں روشن ضمیری پانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں گے، بغیر اس انجان پن کے کہ ہم اس کے حصول کو آسان سمجھیں اور جب ہمارا وقت مرگ آ جاۓ اور ہم ابھی تک روشن ضمیر نہ ہوۓ ہوں تو ہم مایوسی اور شکست خوردگی کا شکار ہوں۔

  • حقیقی شے کے تین درجاتِ ترغیب میں سے پہلا ہے "میں ایک اور قیمتی انسانی پنر جنم کا خواہاں ہوں تا کہ روشن ضمیری کی راہ پر گامزن رہوں، کیونکہ یہ ہدف پانے کے لئیے کئی زندگیاں درکار ہیں۔"
  • دوسرا ہے کہ "میں کرم اور تباہ کن جذبات سے نجات چاہتا ہوں، کیونکہ میں غصہ کی حالت میں کسی کی مدد نہیں کر سکتا، یا اگر میں ان سے زیادہ ہی چمٹ جاؤں یا اگر میرا رویہ اضطراری ہو۔ میں تب بھی کسی کی مدد نہیں کر سکتا اگر میں اس کے متعلق تعلّی اور غرور کا شکار ہو جاؤں۔ لہٰذا مجھے خود اپنے لئیے مکش درکار ہے۔"
  • سب سے اعلیٰ ترین ترغیب یہ ہو گی "میں روشن ضمیری چاہتا ہوں تا کہ مجھے ہر انسان کی مدد کرنے کی مکمل سوجھ بوجھ ہو۔"

محرک کا ہونا بہت ضروری ہے۔ تسانگ خاپا کا کہنا ہے کہ ترغیب ایسی چیز ہے جس کا موجود ہونا سارا دن لازم ہے نہ کہ محض مراقبہ کا سیشن شروع ہونے پر۔ اور یہ محرک خالی خولی بڑھیا الفاظ ہی نہیں بلکہ پکی نیت بھی ہونی چاہئیے۔ اور نیت سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے مراقبہ کے توسط سے اس محرک کو یوں اپنے اندر جذب کر لیا ہے کہ یہ محرک ایک مستند، فطری جذبہ بن گیا ہے، یعنی ہماری روز مرہ زندگی کا جزوِ لازم بن گیا ہے۔

مراقبہ سے قبل شانت ہونا

ایک بار جب ہم مناسب ماحول تشکیل دے لیں اور اپنی نیت اور محرک کا تعیّن کر لیں، تو اب ہمیں شانت ہونا ہے۔ یہ کام عموماً کسی سانس کے مراقبہ سے کیا جاتا ہے، مثلاً سانس کی گنتی کرنا۔ ویسے تو اور بھی بہت ساری لمبی چوڑی سانس کی مشقیں ہیں، مگر چند بار ناک کے راستے سیدھا سادہ اندر باہر سانس کھینچنا اور گیارہ تک گنتی گننا عموماً کافی ہو گا۔ اپنے من کو اس طرح شانت کرنے سے ہم اب تک جو کر رہے تھے اور جو مراقبہ ہم کرنے والے ہیں کے درمیان ایک پر سکون فضا پیدا ہوتی ہے۔ ایسی خاموش فضا پیدا کرنے سے ہمیں اپنی مصروف زندگی سے مراقبہ تک رسائی میں مدد ملتی ہے۔

ویڈیو: ڈاکٹر شونی ٹیلر ـ «مختصر رہبر مراقبہ»
ذیلی سرورق کو سننے/دیکھنے کے لئیے ویڈیو سکرین پر دائں کونے میں نیچے ذیلی سرورق آئیکان پر کلک کریں۔ ذیلی سرورق کی زبان بدلنے کے لئیے "سیٹنگز" پر کلک کریں، پھر "ذیلی سرورق" پر کلک کریں اور اپنی من پسند زبان کا انتخاب کریں۔

سات عظو کا پاٹھ

عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ہم مراقبہ شروع کرنے سے پہلے کچھ مثبت شکتی پیدا کریں، اور اس کے لئیے ہم جسے "سات سطحی عبادت" یا "سات عضو کا پاٹھ" کہتے ہیں کو استعمال میں لاتے ہیں۔ یہاں "عضو" سے مراد "سطح" ہے۔

(۱) سجدہ معہ تحفظ اور بودھی چت

پہلی سطح سجدہ ہے، جس کا مطلب انہیں عزت دینا ہے جو روشن ضمیری پا چکے ہیں؛ ہماری مستقبل میں وقوع پذیر روشن ضمیری کو عزت دینا ہے، جسے ہم بودھی چت کے ساتھ حاصل کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ اور ہماری اپنی بدھا فطرت کا احترام کرنا ہے جس کی مدد سے ہم اپنا ہدف پائں گے۔ پس سجدہ کرنے کا مطلب پناہ کا محفوظ راستہ پکڑنا اور اسے معہ بودھی چت کے اپنی زندگی میں شامل کرنا ہے۔ محفوظ راہ جس پر ہم چلنا چاہ رہے ہیں کی پہچان مہاتما بدھوں سے، ان کی دھرم کی تعلیمات اور کمالات سے، اور ان ہستیوں کی سنگھا برادری سے ہوتی ہے جو خود عنقریب مکش اور روشن ضمیری پانے والے ہیں۔ ایک بودھی چت ہدف کے ساتھ ہم اپنے من اور دل میں خود مہاتما بدھ بننے کا مصمم ارادہ کرتے ہیں۔

(۲) چڑھاوا

دوسرا قدم چڑھاوا چڑھانا ہے، جس کا مطلب بھی احترام کا اظہار ہے۔

(۳) اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا

اگلا کام اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کو کھلم کھلا تسلیم کرنا ہے۔ اس کا مطلب اپنی غلطیوں کے متعلق احساس جرم نہیں ہے؛ جرم مناسب نہیں ہے۔ جرم کا مطلب ہے کسی ایسی چیز کو پکڑے رکھنا جو ہم نے کی اور اپنے آپ کو اس سے منسلک رکھنا، دونوں کو برائی کا لیبل لگانا، اور کبھی بھی معاف نہ کرنا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ہم گھر کا کوڑا کرکٹ باہر نہ پھینکیں، بلکہ اسے گھر میں سنبھال کر رکھیں ، یہ سوچتے ہوۓ: "یہ کوڑا بہت خراب ہے اور بہت بد بو دار۔ "تیسرا قدم احساس جرم کی بجاۓ ہماری غلطیوں کا پچھتاوا ہے: "میں اپنی غلطیوں پر نادم ہوں، اور میں پوری کوشش کروں گا کہ ان کا اعادہ نہ کروں۔ میں اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کروں گا۔"

(۴) خوشی منانا

چوتھا قدم ان مثبت کاموں پر خوشی منانا ہے جو ہم نے اور دوسروں نے کئیے، تا کہ ہمارا اپنے لئیے اور دوسروں کے لئیے رویہ مزید مثبت ہو۔

(۵) درس کی فرمائش

پھر ہم اساتذہ سے اور مہاتما بدھوں سے درس دینے کی فرمائش کرتے ہیں: " براہ کرم ہمیشہ درس دیجئیے۔ میں کھلے دل سے سننے کو تیار ہوں۔"

(۶) اساتذہ سے التجا کہ وہ گزر نہ جائیں

اگلا قدم یہ ہے کہ: "آپ چلے نہ جائیں؛ آپ گزر نہ جائیں۔ میں سیکھنے کے معاملہ میں نہایت سنجیدہ ہوں، اور میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ ہمارے پاس رہیں۔"

(۷) انتساب

اور آخری چیز انتساب ہے۔ انتساب سے مراد، کسی حد تک، شکتی کو کسی ایک سمت موڑنا ہے۔ ہم یوں سوچتے ہیں: "جو بھی مثبت شکتی پیدا ہوئی ہے، جو بھی سوجھ بوجھ استوار ہوئی ہے، کاش کہ یہ میرے ہدف کو پانے میں معاون ہو۔" اس کے لئیے جو مثال میں استعمال کرتا ہوں وہ ہے کمپیوٹر میں ہمارے کام کو محفوظ کرنا۔ اگر ہم اسے کسی مخصوص فولڈر، جیسے "مکش" یا "روشن ضمیری" کے فولڈر میں محفوظ نہیں کریں گے تو یہ خود بخود "سمسار کو بہتر بناؤ" والے فولڈر میں چلا جاۓ گا۔ اپنے کام کو "سمسار کو بہتر بناؤ" والے فولڈر میں محفوظ کرنا ٹھیک تو ہے لیکن اگر یہ ہمارا ہدف نہیں ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کام مکش یا روشن ضمیری حاصل کرنے کے کام آۓ، تو پھر ہمیں اسے قصداً "مکش" یا "روشن ضمیری" والے فولڈر میں محفوظ کرنا ہو گا۔ یہ ہے انتساب۔ اور یہی ہماری پختہ نیت ہے؛ ہم محض شبد بازی نہیں کر رہے ہیں۔ ہم مثبت شکتی کا ایک جذبے کے ساتھ، درد مندی کے ساتھ انتساب کرتے ہیں۔

سات درجاتی عبادت کے بعد اصل مراقبہ شروع ہوتا ہے، اور مراقبہ کے اختتام پر ہم ایک اور انتساب کرتے ہیں۔

خلاصہ

مراقبہ ایک بہت ترقی یافتہ مشق ہے اور اس کی ادائیگی کی ہدایات بالکل درست طور پر بیان کردہ ہیں۔ یہاں اس کی ہدایات کی ایک عمومی شکل کا ذکر کیا گیا ہے؛ ہر مخصوص مراقبہ کی اپنی اپنی مخصوص ہدایات ہیں۔ بہر حال، ہر مراقبہ کے سلسلہ میں یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں، کیسے کر رہے ہیں، اور کیوں کر رہے ہیں۔

بعض بدھ مسلک ایسے ہیں، مثلاً زین، جو محض یہ کہتے ہیں، "بیٹھو، مراقبہ کرو، اور جوں جوں تم آگے بڑھو گے تمہیں سب معلوم ہو جاۓ گا۔" ہو سکتا ہے کہ یہ بعض لوگوں کے لئیے کار آمد ہو، مگر بعض دوسرے لوگوں کے لئیے یہ بہت الجھن کا باعث ہو گا۔ بعض لوگوں کے نزدیک وہ طریقہ بہت مشکل ہے، لہٰذا یہاں جو پیش کیا گیا ہے یہ ہند-تبتی طریقہ ہے۔

Top